- الإعلانات -

سیاستدان فوج کو متنازعہ نہ بنائیں

افواج پاکستان ملکی سرحدوں کی پاسبان اور نگہبان ہے اور اپنے فرائض کی پاسدار ی میں سب سے زیادہ شہادتیں اسی ادارے کے نام ہوئیں ہیں جس پر یہ فخر و انسباط کا اظہار کرتے ہیں ، یقینا یہ ہمارا فخر ہے ، پوری قوم انہیں اپنا سرمایہ اور ہیرو تصور کرتی ہیںکیونکہ یہ وطن سے محبت کا عملی اظہار پیش کرتے ہیں ۔ ملک میں کوئی آفت آئے یاطوفان ، عوام کی نگاہ اپنی بہادر افواج کی طرف ہی اٹھا کرتی ہے کیونکہ ان کا اس ادارے پر اس درجہ تک اعتماد ہے کہ ان موجودگی میں کوئی بھی ان کے ساتھ نا انصافی نہیں کرسکتا ۔ ماضی میں بدقسمتی سے سیاستدانوںکی آپس کی چپقلش کے باعث اس ادارے کو بارحکومت بھی سنبھالنا پڑا مگر یہ بھی تاریخ میں رقم ہوچکا ہے کہ سیاستدانوں کی ناکامی کے بعد جب بھی فوج نے اقتدار سنبھالا تو خیبر سے کراچی تک کے عوام نے اس پر مسرت کا اظہار کیا اور ان کے گلوں میں پھولوں کے ہار بھی ڈالے ۔ ایک طویل مدت سے فوج نے اپنے دامن کو سیاست سے آلودہ نہیں ہونے دیا اور اپنی تمام تر توجہ اپنے پیشہ ورانہ امور پر ہی مرکوز رکھی مگر سیاستدان ہیں کے بات بے باک انہیں اپنی گفتگو میں گھسیٹ لاتے ہیں اور اس کے کردار کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جبکہ افواج پاکستان آئین پاکستان کی پابند ہیں اور اپنی تمام تر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتی چلی آرہی ہیں۔ حکومت سے فراغت کے بعد سابق وزیر اعظم اپنے جلسوں میں کھلے عام اس ادارے پر انگلیاں اٹھاتے رہے ، الزامات عائد کرتے رہے ، ابھی چند روز بیشتر سابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی اپنے پریس کانفرنس میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ادارے کے حوالے سے کچھ غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی جبکہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی چیف آف آرمی سٹاف کے تقرر کے حوالے سے بات چیت کی جس پر فوجی ترجمان کو مجبوراً بولنا پڑا، انہوں نے کہا کہ کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں،کچھ روز سے سیاسی لیڈر شپ کے بیانات انتہائی نا مناسب ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم بار بار درخواست کر رہے ہیں کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے، ہمارا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں، آرمی چیف کی تقرری کا طریقہ کارآئین میں وضع کیا گیا ہے، پاکستان کے قانون کے مطابق فوج کو سیاست سے دور رہنے کا حکم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے عہدے پربلاوجہ بات کرنا اس عہدے کو متنازع بنانے کے مترادف ہے، آرمی چیف کے عہدے پربلا وجہ بات کرنا نہ ملک کے مفاد میں ہے اور نہ ادارے کے مفاد میں، آرمی چیف کے عہدے کو بلاوجہ موضوع بحث نہ بنایا جائے۔میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ہم بطور ادارہ کافی عرصے سے برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، بطور ملک ہمارے سکیورٹی چیلنجز بہت زیادہ ہیں، افواج مشرقی، مغربی سرحد، شمال میں اندرونی سکیورٹی کی اہم ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ہماری تمام لیڈرشپ کی توجہ ان ذمہ داریوں اور ملک کی حفاظت پر ہے، درخواست ہے چاہے سیاستدان ہیں یا میڈیا فوج کو سیاسی گفتگو سے باہر رکھیں ۔ضمنی الیکشن ہو،کنٹونمنٹ الیکشن ہویا بلدیاتی الیکشن، فوج نے سیاست سے دور رہنے کاعملی مظاہرہ کیا، جو بھی سیاسی سرگرمیاں چلتی رہیں، بطور ادارہ ہم نے فوج کو سیاست سے دور رکھاجس کی تصدیق تمام سینیئرسیاستدان بھی کر رہے ہیں۔میجرجنرل بابر افتخار نے مزیدکہا کہ جلسوں اور تقاریر میں فوج کی سیاسی صورتحال میں مداخلت کی بات انتہائی غیرمناسب ہے، فوج کو سیاسی صورتحال میں مداخلت کی بات کسی کو بھی سوٹ نہیں کرتی، ہم اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، فوج کی قیادت اپنے طور پرپاکستان کی سکیورٹی اور پاکستان کی حفاظت کے لیے مستعدہے، پاکستان اور عوام کی حفاظت پرکسی طورپربھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پشاورکورکمانڈرسے متعلق سینئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات کو انتہائی نامناسب قرار دیا ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پشاور کور پاکستان آرمی کی ایک ممتاز فارمیشن ہے، اس اہم کورکی قیادت ہمیشہ بہترین پروفیشنل ہاتھوں میں سونپی گئی۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پشاورکورکمانڈر سے متعلق اہم اور سینیئر سیاستدانوں کے حالیہ بیانات انتہائی نامناسب ہیں، سینیئرقومی سیاسی قیادت سے توقع ہےکہ وہ ادارے کے خلاف متنازع بیانات سے اجتناب کرے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے کہا گیا کہ پشاورکور دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، افواج کے سپاہی اورافسران وطن کی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت جان ہتھیلی پر رکھ کرکر رہے ہیں، ایسے بیانات سپاہ اور قیادت کے مورال اور وقار پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔اس سے قبل بھی فوجی ترجمان اسی قسم کی وضاحت کرچکے ہیں ، چنانچہ سیاستدانوں پر یہ فرض عائد ہوتا کہ وہ اپنے اس قومی ادارے کو سیاست میں نہ گھسٹیں اور نہ ہی کوئی ایسی بات کریں کہ جس سے یہ ادارہ پراگندہ یا آلودہ ہوپائے ، یہ بات تو سبھی جانتے ہیں کہ افواج پاکستان ملک کا واحد مضبوط اور منظم ادارہ ہے ۔ اس کی اپنی ایک چین آف کمانڈ ہے جس کے انڈر رہ کر یہ ادارہ کام کرتا ہے ۔ سپاہی سے لیکر چیف تک تمام افراد ایک مالا کی طرح ایک لڑی میں پرو ئے نظر آتے ہیں ۔ سیاستدانوں کو اپنے سیاسی مسائل سیاست کے میدان میں رہتے ہوئے حل کرنے چاہیے کیونکہ فوجی ترجمان نے بھی یہ بات کہی ہے کہ اگر فوج حالات کو سدھارنے کیلئے کوئی عمل کرتی ہے تو اس پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں ، سابقہ حکومت کے دور میں کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں اس ادارہ کی غیر جانبداری عملی طور ثابت ہوچکی جس میں حکومتی پارٹی ہار گئی اور ابھی حالیہ تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں بھی اس ادارے نے مکمل غیر جانبداری کا عملی ثبوت دیا اس لئے سیاستدان بھی محتاط رویہ اختیار کریں۔
قومی اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مذمتی قرارداد منظور
کشمیر برصغیر کا ایک رستہ ہوا ناسور ہے جو گزشتہ ستر سالوں سے رستہ چلا آرہا ہے مگر دنیا کا کوئی ملک اس کی حالت کی طرف توجہ نہیں دے رہا جس کی وجہ سے بھارت شہہ پاکر نہتے کشمیریوں پر مظالم کے انتہا کیے ہوئے ہیں ، مقبوضہ کشمیر کی حالت دنیا کی ایک بڑی جیل کی سی ہے جہاں لاقانونیت ، آئین شکنی ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول بن چکا ہے مگر ہم ان سطور کے ذریعے سلام پیش کرتے ہیں ان مجاہدوں ، غازیوں اور شہداءکو جو تمام تر سنگین مظالم کے باوجود آزادی کا علم بلند کئے ہوئے ہیں ۔ پاکستان آزاد و مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت گزشتہ 73سالوں سے کرتا چلا آرہا ہے اور دنیا کے تمام فور م پر اس مسئلہ کو اجاگر کررہا ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان کی قومی اسمبلی نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں ہونےوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی تاکہ اقوام عالم کو باور کرایا جاسکے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھارتی غنڈہ گردی دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے ۔وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے ایوان میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہاکہ 5اگست 2019کو بھارت نے غیرقانونی اقدمات کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی جس کوکشمیری عوام نے مسترد کیا ۔ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کئے تاکہ وہ کشمیر میں زمین خرید سکیں تاکہ کشمیریوںکو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے جو عالمی قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے سب سے بڑے ایوان کے اندر اس قرارداد کا پیش کیا جانا اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے اور کھڑا رہے گا، اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو کا یہ قول کہ کشمیر کی آزادی کیلئے پاکستان کو ہزار سال تک لڑنا پڑا تو لڑینگے کافی ہے۔