- الإعلانات -

انتہائی معذرت کے ساتھ۔۔۔

ایسا نہیں ہوتا کہ اتنا کچھ ہو جائے اور اداروں کو علم ہی نہ ہو۔یہ ادارے ہی تو ہوتے ہیں جن کو سب سے پہلے پتہ چلتا ہے اور وہی تو بتاتے ہیں کہ یہ ہوا ہے ایسے ہوا ہے کب اور کس وقت ہوا ہے۔ اداروں کے علم میں ایڈوانس ایسی بات نہ ہو،ہو ہی نہیں سکتا۔ میری ناقص رائے کے مطابق یہ امکان پایا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ایک پلان کے مطابق ہوا اور سبھی جانتے تھے،کسی سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہ تھا،سب سامنے تھا۔اسٹیبلشمنٹ بالخصوص جنرل قمر جاوید باجوہ سے ناراضگی اور ان سے مزاج و خیال کا الٹ جانا ہی عمران حکومت کے جانے کا اصل سبب بنا۔عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا آنا،ڈپٹی سپیکر کی رولنگ ، وزیر اعظم، صدر کے احکامات سپریم کورٹ کے آرڈر کی روشنی میں مسترد ہونا، اسمبلی بحالی اور تحریک عدم اعتماد کرواناقانونی ضابطے کی ایک کارروائی ٹھہری۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنے اہم عہدوں پر بیٹھی شخصیات اسپیکر، ڈپٹی سپیکر،وزیراعظم،صدراتناغلط فیصلے لیتے،یہ لوگ پاگل تھوڑی تھے جو آئین و قانون سے ہٹ کر فیصلہ لیتے،انہوں نے جو فیصلہ بھی لیا ہوگا،آئینی و قانونی ماہرین سے مشاورت اور گہری سوچ و بچار کے بعد ہی لیا ہوگا۔ آخر ان کو کیا پڑی تھی کہ اسمبلی توڑ کر،مبنی بر جگ ہنسائی فیصلہ لیتے۔پھر عمران حکومت کے اسمبلی توڑنے پر کسی بھی انٹرنیشنل فورم سے غیر آئینی و قانونی اقدامات اٹھانے جیسا کوئی منفی ردعمل بھی نہیں آیا تھا۔ عمران کی ایڈوائس پر جیسے ہی صدر نے اسمبلی توڑی،ساتھ ہی انڈین چینلز اور بھارتی بوکھلاہٹ واضح تھی۔انڈین چینل چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ خان نے سب کے ار مانوں پر پانی پھیر دیا ہے۔اسمبلی توڑ ڈالی ہے ۔عمران آگئے اور چھا گئے۔دیگر ممالک کے چینلز پر بھی تقریبا ایسے ہی تبصرے اور باتیں تھی۔عمران کے اسمبلی توڑنے کے اقدام پر اپنوں سے لے کر غیروں تک سبھی ہکا بکا رہ گئے تھے کہ عمران نے یہ کیا کر دیا،جہاں عمران حامی تھے حیران،وہی تھے عمران مخالف بھی پریشان۔سپریم کورٹ نے اس پر فوری ازخودنوٹس لیا،عمران حکومتی اقدامات کو غیر آئینی و غیرقانونی قرار دیا، اسمبلی بحال کردی ، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم دے دیا ۔ سپریم کورٹ فیصلہ پر کس کی مجال اعتراض کرے،اس فیصلے کو جھٹلائے،اس پر سوال کرے، اس کو مانے نہ،فیصلے پر فوری عملدرآمد ہوا، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوئی،عمران ہار گئے،شہباز جیت گئے،منحرف ارکان تحریک انصاف اور عمران اتحادیوں نے اپنی ہی چلتی حکومت کی چولیں ہلا تے مجودہ شہباز حکومت میں اپنی جگہ پکی کرلی۔تحریک عدم اعتماد بھی عمران حکومت کی رخصتی کا سبب بنا۔آئینی و قانونی طریقے سے عمران حکومت گری اور اپنے انجام کو پہنچی، بتایا سمجھایا اور جتلایا گیا ۔ آئین و قانون کی فتح کی باتیں کی گئیں،وکٹری کا نشان بنایا گیا۔انصاف کا بول بالا ہوا،کی صدائیں عام ہوئیں۔سب کچھ اپنی جگہ ٹھیک مگر یہاں کا ایک مسئلہ یہ بھی رہا ہے اور شاید حقیقت بھی ہو کہ یہاں پر بہت کچھ نظریہ ضرورت کے تحت بھی اپنی جگہ بنائے جائز قرار پاتا ہے۔ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنانے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔آئین و قانون کو تروڑ مروڑ کر جیسا مرضی فیصلہ بمطابق آئین و قانون کہہ کر لے لیا جائے۔ یہی وہ باتیں ہیں جو انٹرنیشنل سطح پر دنیا میں پاکستانی عدلیہ بارے گردش کرتی ہیں اور پاکستانی عدلیہ کا اپنے فیصلوں کے حوالے سے اپنا عدالتی معیار، گراف بہت نیچے لے جاتی ہے۔یہاں عام مشہور ہے کہ ملک پاکستان کا آئین و قانون صرف کمزور کے لیے ہے طاقتور کے لئے نہیں۔یہاں کا آئین و قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف کمزور پھنستا ہے طاقتور تو اس میں سے آسانی سے گزر جاتا ہے۔اسے اس ملک کا المیہ کہیے یا بدقسمتی کہ یہاں پر بہت کچھ ملک کے وسیع تر مفادات کی آڑ میں کیا جاتا ہے اور اس انتہا کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ جس میں پھر محب وطن افراد کے لئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی ہے۔انتہاءپسندی کے ڈھول بجتے ہیں ۔ سب جھوٹ کے نعرے لگتے ہیں۔ہم نیوٹرل اور نظریہ ضرورت ہمیشہ کے لئے دفن ہو چکا جیسی باتیں ہوتی ہیں۔حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا,نیوٹرل بھی زندہ رہتے ہیں اور نظریہ ضرورت بھی نہیں مرتا.اگر کچھ مرتا ہے پاکستان کا وقار،اس کے لیے کی جانے والی طویل جدوجہد،اس پر مر مٹنے والے محب وطن افراد.اگر کچھ زندہ رہتا ہے تو صرف پاکستان عزت و وقار کی سرعام پامالی،پاکستان کے لیے کی جانے والی طویل جدوجہد کے بعد ملک و ملت اٹھائے گئے مثبت اقدامات کا نقصان ، محب وطن افراد کی اس ”نیوٹریل” اور” نظریہ ضرورت” جیسے ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرے مردہ و افسردہ سسٹم سے بے زاری اور مایوسی۔سب سے بڑھ کر اہم اور قیمتی بات کہ یہاں کچھ بھی سازش نہیں ہوتی،جو کچھ بھی ہوتا ہے یہاں ہی ہوتا ہے۔حکومت کا بننا اور ٹوٹنا یہیں سے ہی ہوتا ہے۔بیگانے کم اپنے زیادہ کرتے ہیں۔بیگانے تو صرف بد نام ہوتے ہیں ایسا کام تو اپنے کرتے ہیں۔ وار بھی کرتے ہیں اور بد نام بھی نہیں ہوتے۔رہی بات عمران حکومت گرانے کی امریکن سازش کی تو وہ بظاہر نظر نہیں آتا اور جو خفیہ نظر آتا ہے وہ سامنے نہیں آتا۔پاکستان میں حکومت بنانے اور گرانے کے انداز بڑے الگ اور منفرد مقام لیے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی دوسرا حکومت گروا دے تو پتا نہیں چلتا،اپنا حکومت تبدیل کروا دے تو سامنے نہیں آنے دیتے۔اس ملک کا باوا آدم ہی نرالا ہے جو کچھ اس ملک میں ہوتا ہے کسی دوسرے میں نہیں ہوتا ہے ۔ امریکن عہدیدار”مسٹرڈونلڈ لو” کے دوروں کی حقیقت کیا؟پر روشنی ڈالی نہیں جاتی اور اپنی کہانی بتانے سے قاصر ہیں۔ پاکستانی حکومت گرانے کے حوالے سے امریکن کردار کیا؟سامنے نہیں لا سکتے،اپنے کردار کی بابت بات نہیں کرتے۔ یہ اچانک پلک جھپکتے ہی ایک چلتی،مستحکم عمران حکومت گرانااور اپنے انجام تک پہنچانا اتنا ضروری کیوں ہوگیا تھا کہ پاکستان کے نازک حالات بھی صاحب اختیار کی نظر میں نہ رہا؟ ۔ پاکستان اس وقت کسی ایسے اقدام کا ہرگز متحمل نہ تھا پرکیوں کسی کا غور نہ رہا؟ ۔ پاکستان کا اس اقدام سے عالمی گراف کر سکتا اور معیشت دھڑن تختہ ہوسکتی پر نگاہیں کیوں نہیں ڈالی گئی؟۔ملک چلانے کے لیے کون کتنااہل اور اس میں ملک چلانے کی اہلیت و صلاحیت ہے بھی کہ نہیں،کا پیمانہ کیوں چیک نہیں کیا گیا؟ ۔ ایک تجربہ کار کو ہٹا کر ایک ناتجربہ کار کو کیوں کرسی وزارت پر بٹھا دیا گیا؟۔قوم ملکی معیشت کی ڈوبتی ہوئی ڈاواں ڈول مایوس کن صورتحال میں سراپا احتجاج ہوئی ان سوالوں کے جواب ڈھونڈ رہی ہے۔افسوس کوئی بھی ان سوالوں کاجواب حتمی اور تسلی بخش نہیں دے پا رہا،ہر طرف اندھیر نگری اور چوپٹ راج ہے۔