- الإعلانات -

اتحادی حکومت کے لئے معاشی چیلنجز۔۔۔!

وطن عزیز پاکستان میں اتحادی حکومت آئی ایم ایف سے قرضوں کی قسط کے حصول کے لئے بےتاب ہے کیونکہ اس وقت معیشت کی حالت کمزور ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور اتحادی حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اتحادی حکومت سے عوام کی اکثریت آئی ایم ایف اور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے نالاں تھیں۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے اتحادی بھی سابق وزیراعظم عمران خان کے نقش قدم پر چلتے ہیں توپھر عمران خان کو باہر کیوں نکالا؟واضح ہو کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت نے صرف معیشت کی حالت خراب نہیں کی بلکہ سابقہ سارے حکومتوں کا اس میں کردار ہے۔البتہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے ارسطووں کے بلند وبانگ دعوﺅں نے معاشی پوزیشن مزید ابتر کردی تھی۔سابق وزیراعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل فرمایا کرتے تھے کہ میں خودکشی کرلوں گا لیکن آئی اےم ایف سے قرضے نہیں لوں گا لیکن اقتدار سنبھالتے ہی وہ عوام سے کیے گئے تما م وعدے اور باتیں بھول گئے۔انھوں نے پہلے اسد عمر ، پھر حفیظ شیخ اور اس کے بعدشوکت ترین کو وزرات خزانہ کا قلمدان دیا۔ان تینوں نے عوام کے ساتھ جو کچھ کیا ،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔وطن عزیز پاکستان میں المیہ یہ ہے کہ سب اوپر دیکھتے ہیں، کوئی نیچے کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتا ، حقیقت میںکسی کو نچلے طبقے کے حالات کی جانکھاری نہیں، اس لئے وہ سب ٹھیک کی رپورٹ دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں اقتدار ایسا نشہ ہے ،جب کوئی بھی اقتدار میں ہوتووہ عوام کے مسائل سے بے خبر ہوتا ہے لیکن جیسے ہی اقتدار کا نشہ اتر جاتا ہے تو ان کو عوام اور ان کے مسائل نظر آنے شروع ہوجاتے ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے پہلی مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضے نہیں لیے بلکہ سابقہ حکومتیں بھی متعدد بار قرضے لے چکی ہیں اور آئی ایم ایف سے قرضے لینے کی ایک طویل فہرست اور داستان ِغم ہے۔قیام پاکستان کے ابتدائی گیارہ سالوں میں آئی ایم ایف نے متعدد بار قرضہ دینے کی پیشکش کی لیکن پاکستان نے قرضہ نہیں لیا۔ 1958ءمیں جنرل ایوب خان کے دور میں آئی ایم ایف نے پہلا قرضہ پاکستان کو دیا۔ جنرل ایوب خان نے 1958ءتا 1969ء 0.19ڈالرتین قسطوں میں قرضہ لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے1972ءتا 1974 ئ0.35 ارب ڈالر،جنرل ضیاءالحق نے 1980 ءمیں تین ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ لیا۔بے نظیر بھٹو نے پہلے دور میں 0.91 ارب ڈالر، نواز شریف نے پہلے دور میں 1.59 ارب ڈالر، بے نظیر نے دوسرے دور میں دو ارب ڈالر سے زیادہ قرضہ لیا،جنرل پرویز مشرف نے دو ارب ڈالر قرضہ لیا ،آصف علی زرداری نے آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر ، عمران خان نے ابتدائی دوسالوں میں آئی ایم ایف سے 13 ارب ڈالر قرضہ لیا اور مجموعی دو مالی سالوں میں 26 ارب 20کروڑ ڈالرمالیت کے بیرونی قرضے لیے اور 39 مہینوں میں32ارب ڈالر سے زیادہ قرضے لیے یعنی پی ٹی آئی، مسلم لیگ ق ، ایم کیو اےم اور اتحادی جماعتوں کی حکومت 39مہینوں میں32ارب ڈالر قرضہ لے چکی ہے۔ جون 2018ءمیںغیر ملکی قرضے کا حجم 95ارب ڈالر تھا جبکہ ستمبر2021ءتک ےہ حجم127ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔پی پی پی کے پانچ سالوں میں غیر ملکی قرضوں میں16ارب ڈالر، مسلم لیگ ن کے پانچ سالوں میں34ارب ڈالر جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے 39 مہینوں میں غیر ملکی قرضے میں32ارب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے۔ 2008ءتک قرضے کا حجم چھ ہزار ارب تھا اور اس کے بعد صرف تیرہ سالوں میں50 ہزار ارب سے تجاوز کرگیا۔پیپلز پارٹی اوسطاً روز پانچ ارب روپے، مسلم لیگ ن ہر روزآٹھ ارب روپے لیتی رہی جبکہ سابقہ پی ٹی آئی حکومت ہرروز17ارب روپے کا قرضہ لیتی رہی۔پاکستان کے ذمے واجب الادا ملکی وغیر ملکی قرضوں کا حجم50ہزار ارب سے تجاوز کرچکا ہے اور بیرونی قرضوں کا حجم 127 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قرضوں سے ملک و ملت کا کتنا فائدہ ہوا؟ پاکستانی عوام کی اکثریت پینے کےصاف پانی سے محروم ہے۔لاہور پاکستان کا دل ہے لیکن لاہور میں اکثریت لوگ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ لاہور کے پوش علاقہ جات میں سبھی سہولےات میسر ہیں لیکن جہاں غریب اور متوسط طبقہ رہتا ہے ،وہاں سہولیات کا فقدان ہے۔لاہور میں پودے بھی وہاں لگائے جاتے ہیں ،جہاں ایلیٹ طبقہ رہتا ہے جبکہ جہاں غریب لوگ رہتے ہیں ،وہاں پودے بھی نہیں لگائے جاتے ہیں۔اسی طرح پاکستان میں طبقاتی تعلیم رائج کیا ہے،غریبوں کے بچوں کےلئے اور سکول ہیں جبکہ ایلیٹ طبقے کےلئے سکول اور ان کا سسٹم منفرد ہے۔ ٹیکس غریب عوام سے لیتے ہیں لیکن سہولےات ان کو دیتے نہیں۔ سرکاری ہسپتال کی حالت ناگفتہ بہ ہے،مریض رش اور حالات کو دیکھ کر مزید پریشان ہوجاتا ہے۔ امراءکےلئے پرائےویٹ ہسپتال ہیں جبکہ غریب عوام وہاں علاج نہیں کرواسکتے کیونکہ غریب عوام کو پٹرول ، بجلی ، گیس اور ٹیکس وغیرہ کے ذرےعے معاشی طور پرنچوڑکر رکھا ہواہے۔ پٹرولیم مصنوعات ،بجلی، گیس، ٹیلی فون وغیرہ کے بلز صرف غریب عوام دیتے ہیں جبکہ ان کےلئے ہر چیز فری ہے۔غریب مزدور جس کی ماہانہ آمدن پندرہ ہزار روپے ہے ،وہ پٹرول ، گیس ، بجلی ، فون وغیرہ کے بلز جیب سے دیتے ہیں لیکن صدر، وزیراعظم، گورنرز، وزرائے اعلی، صوبائی، قومی اور سینٹ ممبران کو فری ہے۔غریب عوام اپنی جیب سے خرچ کرکے ٹریول کرتے ہیں لیکن یہ اپنی جیب کی بجائے سرکاری خزانے سے نکالتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط مہنگائی اور غربت کا سبب بنتے ہیں ۔آئی ایم ایف جیسے اداروں پر پابندی ہونی چاہےے کیونکہ ایسے اداروں سے انسانیت اور غریبوں کا نقصان ہورہا ہے۔آئی ایم ایف کے ملازمین اور ان کے ایجنٹوں کے اثاثے بھی چیک کرنے چاہییں۔ پٹرولیم مصنوعات ، بجلی ،گیس اور توانائی کے دیگر ذرائع مہنگے ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو معیشت کا پہیہ سست ہوجاتا ہے۔اس سے ملک اور عوام کا نقصان ہوتا ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ جرائم میں اضافے سے معاشرہ تنزیلی کا شکار ہوجاتا ہے۔ وہاں امن نام کی چیز ناپید ہوجاتی ہے، جہاں امن نہ ہو ، وہاں معیشت کےلئے سازگار ماحول نہیں ہوتا ہے لہذا ایسے عناصر اور اقدامات سے گریز کرناچاہےے جس سے مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہو۔ مہنگائی اور غربت میں اضافہ توانائی کے ذرائع کے قیمتوں میں اضافے اور کرپشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سے استدعا ہے کہ وہ آئی اےم ایف سے مزیدقرضے نہ لیں، ان کی شرائط سے ملک مزید دلدل میں پھنس جائے گا۔ہماری سول اور دیگر ایلیٹ طبقہ اپنے مراعات یافتہ سٹیٹس میں کچھ کمی کردیںتو پاکستان خسارے سے نکل سکتا ہے۔پاکستان کی ایلیٹ اور منافع بخش عہدوں اور مناصب پر فائز لوگ اپنی ناجائز مراعات اور عیاشیوں میں کمی کریں تو ملک کے حالات سدھر سکتے ہیں۔وطن عزیز پاکستان ایک خوبصورت اور معدنی دولت سے مالامال ملک ہے۔غریب عوام نے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں اور اب ایلےٹ طبقے کو بھی وطن عزیز پاکستان کےلئے قربانی دینی ہوگی، وہ بھی غریب عوام کی طرح ہر سہولت اپنی جیب سے حاصل کریں اور سرکاری خزانے پر مزید بوجھ نہ بنیں۔ جب اخراجات کم ہونگے تو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرضے لینے کی نوبت نہیں آئے گی اوریوں وطن عزیز پاکستان ترقی اور خوشحالی کی جانب گامزن ہوجائے گا۔