- الإعلانات -

ملک مزید دھرنوں کامتحمل نہیں ہوسکتا

حکومت سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے فراغت ہونے کے بعدعمران خان نے مسلسل ایک ہی رٹ لگارکھی ہے کہ فوری انتخابات کرائے جائیں ورنہ انہیں یہ نظام قبول نہیں، حکومت میں آنے سے قبل عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک گراﺅنڈ میں ایک طویل دھرنا دیا اور مسلم لیگ نون کی حکومت پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے پینتیس انتخابی حلقوں کو کھولنے کامطالبہ کیاتھا اور اسے انہوں نے اپنی تقاریر میں پینتیس پنکچرو ںکانام دیاتھا، معاملہ جب عدالت میں پہنچا تو انہوں نے کہاکہ یہ تو ایک سیاسی بیان تھا اور اس میں حقیقت کچھ نہ تھی جب عمران خان عام انتخابات کے بعد وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے تو اپنی تقاریر میں کہاکرتے تھے کہ دھرنے اور احتجاج ملک کی معیشت کو تباہ کرتے ہیں اس لئے عوام اور حزب اختلاف دھرنے نہ دیاکرے جب تحریک لبیک پاکستان نے احتجاجی دھرنا دیاتو ان پر بدترین ریاستی تشددبھی کیاگیا اور ان کے رہنماﺅں کی گرفتاریاں بھی کی گئیں اور ان پر ملک کی معیشت کو تباہ کرنے کاالزام بھی لگایاگیا حالانکہ حکومت میں آنے سے قبل یہی عمران خان تھے جن کے دھرنے کی وجہ سے عوامی جمہوریہ چین کے صدر کاشیڈول دورہ پاکستان ملتوی کرناپڑا جس کے باعث ہمارے عظیم دوست کے ساتھ تعلقات میں دوری پیدا ہوئی ۔اب ایک بارپھرعمران خان اپنے پرانے رنگ میں اترے ہوئے ہیں اورملک بھرمیں احتجاجی جلسے جلوس کرکے ملک کی رہی سہی معیشت کوتباہ کرنے کے درپے ہیں۔حالانکہ وہ آسانی سے حزب اختلاف میں بیٹھ کر اپنا احتجاج آئینی دائرہ کارمیں رہ کرریکارڈ کراسکتے تھے ۔گزشتہ روز مردان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن کی تاریخ نہ دی گئی تو اسلام آباد آنے والا سمندرسب کو بہا لے جائے گا،انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ پاکستان سے اس کی خوداری خریدنا چاہتا ہے اور پاکستان سے ائیر بیسز اور اڈے مانگنا چاہتا ہے جو یہ غلام انہیں دینے کو تیار ہیں، بلاول بھٹو امریکا جا کر صرف اپنی قیمت وصول کرے گا لیکن یاد رکھیں کہ امریکہ امداد مفت میں نہیں کرتا وہ کوئی نہ کوئی قیمت وصول کرتا ہے، ہم نے پاکستان کو امریکی غلاموں اور ڈاکوں کے ٹولے تھری اسٹوجزسے آزاد کرانا ہے، اسلام آباد سیاست کیلئے نہیں انقلاب کےلئے بلا رہا ہوں، ، قوم سے کہتا ہوں جب اسلام آبادکی کال دوں تو خوف کی زنجیریں توڑ کر میرے ساتھ آنا ،چوروں کے ٹولے کو پیغام ہے، مفرور، بز دل اور ڈاکو جو لندن میں بیٹھا ہے وہ بھی سن لے، سزا یافتہ، مفرور اور ڈاکو تم نے نہیں قوم نے پاکستان کی قیادت کے فیصلے کرنے ہیں، شریف اور زرداری بڑی بیماری، ڈیزل سے پاکستان کو نجات دلانی ہے، ڈیزل نے آتے ساتھ ہی وہ وزارت پکڑی جس میں سب سے زیادہ پیسہ بنیں،مجھے پتہ ہے کہ کس کس آدمی نے میری حکومت کیخلاف سازش کی ہے ایک ایک سازشی میر جعفر اور میرصادق کی شکل میرے دل میں نقش ہے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے کہنا چاہتا ہوں کہ صدر مملکت نے جو خط لکھا ہے اس حوالے سے تحقیقات کروائیں اور قوم کو بتائے کہ کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کے خلاف سازش میں حصہ لیا ہے اور کون کون میر جعفر اور میر صادق ہے جنہوں نے ملک کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے،پاکستانی قوم کے اوپر جو غلام بیٹھے ہیں وہ کبھی پاکستان کو عظیم قوم بننے نہیں دینگے، ساری قوم الیکشن کمیشن کی طرف دیکھ رہی ہے جبکہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے ہیں۔نیزعمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ڈالرکے مقابلے میں روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح 193پر ہے جو کہ 8 مارچ کو 178 تھا، شرح سود 1998کے بعد 15 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ 3000 پوائنٹس یا 6.4 فیصد تک گر چکی ہے، سٹاک مارکیٹ 604 ارب روپے کی کیپیٹلائزیشن گنوا چکی ہے۔مہنگائی جنوری 2020 کے بعد سے 13.4 فیصد کی بلند ترین سطح پر ہے، یہ سب امپورٹڈ حکومت پر تاریخ کے کم ترین اعتماد کی علامتیں ہیں۔ مارکیٹ پالیسی اور اقدامات کی منتظر ہے جو فراہم کرنے میں یہ امپورٹڈ حکومت مکمل ناکام رہی ہے، میں نے اور شوکت ترین نے متنبہ کیا تھا کہ اگر سازش کامیاب ہوئی تو ہماری نحیف معاشی بحالی ڈوب جائے گی، یہی سب اب ہوچکا ہے۔گزشتہ روزکے جلسہ عام میں انہوں نے افواج پاکستان پربراہ راست الزامات عائد کئے اور کہاکہ جب وہ نیوٹرل کہتے ہیں تو ان کی مرادفوج ہوتی ہے ،اتنے ذمہ دار عہدے پررہنے کے باوجود عمران خان ہرادارے کوتباہ کرنے پرتلے نظرآتے ہیںان کی نظرمیں سپریم کورٹ، افواج پاکستان ،الیکشن کمیشن اورقومی اسمبلی میں ان کے خلاف ووٹ دینے والے تمام ممبران محب وطن نہیں بلکہ محب وطن صرف وہ لوگ ہیں جو عمران خان کے حامی ہیں موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر وہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے سے گریز کریں اور ملکی معیشت کومزیدتباہی سے دوچارنہ کریں یہ انکاقوم پراحسان عظیم ہوگا۔
ایس کی نیازی کی صحافتی خدمات پرخراج تحسین
چیف ایڈیٹر روزنامہ پاکستان، چیئر مین روز نیوز، سینئر صحافی، تجزیہ کار اور پروگرام سچی بات کے اینکر ایس کے نیازی ملک کے واحد صحافی ہیں جن کی غیرجانبدارانہ صحافت کی ہرپلیٹ فارم پرتعریف اورتوصیف کی جاتی ہے اوریہ کہاجاتاہے کہ نیازی صاحب لگی لپٹی رکھے بغیر سچی بات کہہ جاتے ہیں،تمغہ امتیاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی اور بین الاقوامی سطح پرکئی ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں مگر ان کی طبیعت میں سادگی ،عاجزی اورمنکسرالمجازی کاعنصرکوٹ کوٹ کربھراہوا ہے ۔گزشتہ روز انہوں نے پارلیمنٹ ہاﺅس میں اسپیکر چیمبر میں راجہ پرویز اشرف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایس کے نیازی کی صحافتی میدان میں خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایس کے نیازی کیساتھ نشستیں ہمیشہ خوشگوار رہیں۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف سیاسی جد و جہد کا استعارہ ہیں۔ امید ہے راجہ پرویز اشرف قوی اسمبلی کے امور بہتر انداز میں چلائیں گے۔چیرمین پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز ایس کے نیازی نے پاکستان میں آئین کی بالادستی کے لئے عدلیہ کے کردار کو سراہا ہے۔اسلام آباد میں کے ایم اے صمدانی مرحوم کی تصنیف کی تقریب رونمائی میں سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایس کے نیازی نے کہا کہ بطور چیف جسٹس انکی خدمات قابل رشک ہیں۔قبل ازیں ایس کے نیازی تقریب میں شرکت کےلئے پہنچے تو سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انکا والہانہ استقبال کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آصف سعید کھوسہ اور دیگر کا کہنا تھا کہ آزاد عدلیہ کے لئے عدلیہ کا انتظامیہ سے علیحدہ ہونا ضروری ہے۔بحیثیت صحافی سردارخان نیازی عدلیہ، مقننہ ،افواج پاکستان اوردیگرتمام اہم اداروں کے لئے قابل احترام سمجھتے جاتے ہیں یہی ہماری کمائی ہے اوریہی ہمارااعزازہے۔
زیرزمین آبی ذخائرمیں کمی کامسئلہ
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ساتھ ہی پانی کی کمی کابحران اٹھ کھڑا ہوتاہے جس پرقابوپاناایک بڑامسئلہ ہوتاہے مگراس کی واحدوجہ یہ ہے کہ زیرزمین آبی ذخائرمیں کمی واقع ہورہی ہے۔کمشنر راولپنڈی ڈویژن نور الامین مینگل نے پانی چوری کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر تے ہوئے کہا کہ اگرچہ راولپنڈی ڈویژن میں پا نی چوری کی شکایات نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم اگر صا رفین کو کہیں بھی ایسی کوئی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈپٹی کمشنر آفس مطلع کر یں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بارشیں کم ہونے کی وجہ سے پانی کی کمی کی صور تحال ہے اور ایسے میں زرعی مقاصد کے لئے پانی کی کمی کو دور کر نے کی کو ششیں جاری ہیں تاہم زرعی کمی کو پورا کر نے کے لئے صا ر فین کے لئے مسئلہ بننے نہیں دیں گے۔ پانی کی زیر زمین کمی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہمیں پانی کے ضیاع کو روکنے کی ہر ممکن کو شش کر نی چا ہئے۔ کمشنر راولپنڈی کو ایس ڈی او سمال ڈیم کی طرف سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہاں کل 57 ڈیمز ہیں اور کوئی کھلاچینل موجود نہیں۔ راولپنڈی سمیت ملک بھرمیں پانی کی کمی پرقابوپانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ لوگ پانی کی تلاش میں مارے مارے نہ پھریں۔