- الإعلانات -

پاکستان خالصتان اور دلستان کےلئے کیا کرسکتا ہے

بھارت میں مقیم اقلیتوں کے صبرکا پیمانہ لبریزہوگیا ہے، خصوصاً سکھوں کی طرح دلت برادری نے بھی بھارت سے آزادی کا مطالبہ کردیا ہے۔ریاست گجرات میں حالیہ دنوں میں دلتوں پرانتہا پسند ہندوں نے وحشیانہ تشدد کیا تو ریاست بھرمیں ہنگامے پھوٹ پڑے۔کرناٹکا دلت سنگھرش سمیتی ودیگر دلت تنظیموں کے کارکنان گجرات ،کرناٹک سمیت ملک بھر میں دلتوں پر ہورہے مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے جب سے مرکز میں بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے سرکار برسراقتدار آئی ہے تب سے سنگھ پریوار کی غنڈہ گردی عروج پر ہے۔جمہوری ملک میں ذات کی بنیاد پر حملے ہورہے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں گجرات میں کچھ نوجوان دلتوں کو مردہ گائے کا چرم نکالنے پرنام نہاد گاو ¿ رکشا سمیتی کے لوگوں نے سرے عام بر بریت کے ساتھ پیٹا اور غیرانسانی طریقہ سے ظلم و جبر کا مظاہرہ کیا لیکن گجرات پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اور غنڈوں کو قانون ہاتھ لینے کی پوری چھوٹ دی گئی۔ انہوں نے احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دلتوں پر گجرات میں ہوئے حملے کا زخم ابھی بھرا ہی نہیں تھا کہ ریاست کرناٹک میں گزشتہ دنوں چکمگلورضلع کو پامیں ایک دلت طبقے سے تعلق رکھنے والے بلراج اور اس کے خاندان کے چار افراد کو 30 تا 40بجرنگ دل کارکنوں نے صرف اس لئے مارا کہ ان کے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہوا تھا۔اسی طرح ریاست ہریانہ میں ایک دلت نوجوان لڑکی کی عصمت لوٹ جاتی ہے جب وہ لڑکی ان غنڈوں کے خلاف کیس درج کرواتی ہے تو پھر وہی غنڈے ے اسی لڑکی کی دوبارہ عصمت لوٹتے ہیں اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہریانہ کی بی جے پی کی حکومت کتنی ناکام ہے۔انہوں نے مزید کہا ہندوستان کو آزادی ملے 70سال ہورہے لیکن اس ہندوستان میں دلتوں کو اب تک آزادی نہیں ملی۔اس احتجاج کے بعد تحصیلدار کو یادداشت پیش کی گئی۔دلتوں کا یہ مطالبہ کتنا اہم اور کہاں تک ممکن ہوسکتا ہے،یہ تو وقت ہی بتائے گا تاہم بھارت میں اس وقت 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں جن میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی تحریکیں چل رہی ہیں ،ان میں سکھوں کی خالصتان تحریک سب سے نمایاں ہے، اب دلتوں کا مطالبہ سامنا آگیا ہے تو یہ جلتی پر تیل کے مترادف ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ہندو معاشرہ دراصل نسلی برتری اور ذات پات کی گہری تقسیم پر کھڑا ہے۔اسی نسلی برتری اور مذہبی تعصب کی وجہ سے 1947میں ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہوا اور مزید تقسیم اس کا مقدر ہے۔ 1944ءمیں انگریز مصنف بیورلے نکلسن نے اپنی کتاب (Verdict on india) میں لکھا کہ ہندو مذہب بہت سی رسومات، توہمات اور روایات کا مجموعہ ہے یہ کوئی باقاعدہ مذہب ہے اور نہ عیسائیوں کی طرح کوئی باقاعدہ چرچ ، نہ پوپ اور بائبل ، صرف چند قبل از مسیح تاریخی تحریریں، گانے اور قصے کہانیاں ہیں جنہیں ہندو اپنی مقدس کتاب کا درجہ دیتے ہیں۔یہ بات نامور دانشور رانا عبدالباقی نے اپنی کتاب جنوبی ایشیا میں تہذبی کشمکش میں لکھی ہے۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ ” ہندو مذہب البتہ ذات پات اور چھوت چھات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ اچھوت ڈاکٹر امبید کر کولمبیا یونیورسٹی سے فارغ التحصیل اور ایڈل برگ یونیورسٹی سے علمی اعزازات حاصل کرنے اور ہندوستان کے چھ قابل ترین لوگوں میں شامل ہونے کے باوجو تنگ نظر ہندو اکثریت کیلئے محض نجس تھے۔ اگر کسی اونچی ذات کے ہندو کی میلی دھوتی بھی اسے چھو جائے تو نجس ہو جائے گی۔ ان کی نجاست ایسی ہی ہے جیسے ایک صحت مند آدمی کو کسی کوڑھی سے بچنا چاہیے۔ ہندو دھرم میں انسانیت کی تذلیل کا یہ عالم ہے کہ اچھوت شودرہندو عام کنوﺅں کا پانی استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ یہ اونچی ذات کے ہندوﺅں کیلئے نجس ہو جائے گا۔ اچھوت بچے سکولوں میں تعلیم سے محروم ہیں۔نچی ذات کے ہندوﺅں اور اچھوتوں کیلئے مندروں میں داخلہ ممنوع ہے۔ سرکاری سرپرستی میں اگر اچھوتوں کیلئے مندروں میں داخلے کا بندوبست کیا بھی گیا تو اعلیٰ ذات کے ہندوﺅں نے ایسے مندروں کا بائیکاٹ کیا۔یہ درست ہے کہ مہاتما گاندھی متعصب ہندو معاشرے یا آریا سماج میں اصلاح کے حامی تھے۔ انہوں نے شودروں اور اچھوتوں کی مندروں میں داخلے کی حمایت میں تحریک چلائی لیکن ڈاکٹر امبید کرگاندھی جی کے معتمد ہونے کے باوجود ہندو سماج میں ذات پات اور چھوت چھات سے سخت متنفر تھے۔ پروفیسر منور نے اس کا تذکرہ اپنی کتاب تحریک پاکستان میں بھی کیا ہے” ڈاکٹر امبید کرنے ایک موقع پر گاندھی جی کو صاف صاف کہا کہ وہ کس ہندوستان کی بات کرتے ہیں۔ کوئی بھی اچھوت جس میں ذرہ بھر بھی انسانیت باقی ہے اس سرزمین کو اپنا وطن کیسے کہے گا جس میں وہ کتے کے برابر بھی زندگی بسر نہیں کرسکتا۔“ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ” اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ڈاکٹر امبید کرنے اچھوتوں کی علیحدہ نمائندگی کے برخلاف پوناپیکٹ ، گاندھی جی کے دباﺅ پر شکستہ دلی سے قبول کیا لیکن گاندھی جی کے قتل کے بعد جب ہندوﺅں کے اچھوتوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک میں کمی نہ آئی تو بلا آخر1955ءمیں ڈاکٹر امبید کرنے بہت سے ساتھیوں کے ہمراہ بدھ مذہب قبول کرلیا۔ 1956ءکی بدھوں کی عالمی کانفرنس منعقد کھٹمنڈو میں شرکت کی اور اسی سال وفات پاگئے۔یہ درست ہے کہ گاندھی جی انتہا پسند دہشت گرد ہندوﺅں کے ہاتھوں ہندوستان کے طول و عرض میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام اور اچھوتوں کے ساتھ ظالمانہ رویے کے خلاف تھے۔ جنوری 1948ءمیں انہوں نے بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مرن برت رکھا تو راشٹریہ سیوک سنگھ ، ہندو مہاسبھا کے ایک دہشت گرد نے انہیں سر عام گولی مار کر ہلاک کردیا کیونکہ آریا سماج کے دہشت گرد کسی اچھوت یا ملیچھ( مسلمان ،دلت، عیسائی وغیرہ) کی حمایت کرنے کا حق کسی ہندو لیڈر کو نہیں دیتے۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اونچی ذات کے متعصب ہندوﺅں نے دہشت پسندانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کیلئے ہندوستان کے طول و عرض میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کو منظم کیا جن میں ہندو مہاسبھا ، راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ، آرایس ایس جنگ سنگھ، بجرنگ دل ، شوسینا اور ویشوا ہندو پریشد قابل ذکر ہیں۔ یہ انتہا پسند گروپ ہندوستان میں سنگھ پریوار کے نام سے مشہور ہیں جنہوں نے انتہا پسند ہندوﺅیت کو ہندو توا کے فلسفے کے نام سے مسلمانوں و دیگر ہندوستانی اقلیتوں کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور قتل و غارت گری کو اپنا مقصد حیات بنایا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ جن سنگھ پارٹی نے بتدریج بھارتیہ جنتا پارٹی کا روپ دھار کر سنگھ پریوار کے سیاسی ونگ کی شکل اختیا رکرلی اور بھارتی سیاست میں غلبہ حاصل کیا“۔
دلت آج جس کسمپرسی کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی نسل پرستی ہے۔انہیںسکولوںمیں پڑھائی کے وقت دوسرے طالب علموں سے الگ بٹھایا جاتا ہے، پانی الگ برتن میں دیا جاتا ہے ، کسی عام ہوٹل پر کھانا کھانے سے بھی قاصر ہیں۔کوئی دھوبی ان کے کپڑے نہیں دھوتا۔ ان کی مائیں یا عورتوں کی طرح خریداری کرتے وقت اشیا کو چھو نہیں سکتیں ۔اس کسمپرسی کا عالمی سطح پر یقینا نوٹس لیا جانا چاہیے خصوصاً عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس معاملے پر مداخلت کرنی چاہئے۔یواین او کا چارٹربھی ایسے رویے کی مخالفت کرتا ہے۔دلتوں کو اپنی آواز یواین تک پہنچانے میں مددکی ضرورت ہے تو اس کی مدد کی جانی چاہیے تاکہ ان کے دکھوں کا کچھ تو مداوایا ہوسکے۔رہ گئی بات آزادی کی تو یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ جبرواستبداد سے نجات کے لئے جدوجہد کریں۔سکھ برادی خالصتان کےلئے قربانی دے رہے ہیں تو دلستان کے نعرے میں بھی وزن ہے۔ 1947میں مسلمانوں نے ایسی ہی صورتحال کے پیش نظر اپنے لئے الگ وطن کا انتخاب کیا تو کامیابی نے ان کے قدم چومے،دلتوں اور سکھوں کو بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔خالصتان ہو یا دلستان دونوں تحریکوں کی اخلاقی مدد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔قبل ازیں پاکستان نے نے خالصتان سے ہاتھ کھینچ لیاتھا جس سے سکھ برادری گلہ مند ہے لیکن وہ اب بھی پاکستان کی طرف دیکھتی ہے کہ پاکستان کو خالصتان بنانے کے لئے ہماری اخلاقی اور سفارتی مدد کرنی چاہیئے۔
٭٭٭٭٭