- الإعلانات -

نازیباالفاظ کی سیاست

 بدزبانی کرنے والے لوگوں کو کسی بھی معاشرے میں تعظیم کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا کیونکہ وہ لوگوں کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ ان پر کون سی گالی سوٹ کرتی ہے۔ گالیاں دینے والوں کا ذکر کرتے ہوئے عمومی طور پر جو شکل ذہن میں آتی ہے وہ بہت گھناﺅنی ہوتی ہے۔ جس طرح پچھلے دنوں بے چاری چند خواتین کو اس لئے مار پڑ گئی کہ ان کی شکل بچے اغوا کرنے والی جیسی لگتی تھی۔ لہٰذا شکل دیکھ کر ایک ایمپریشن تو ضرور بنتا ہے لیکن ضروری نہیں وہ صحیح ہو۔ اسی طرح ایک پارٹی جو خود کو سیاسی کہنے پر مضر ہے اس نے جو اپنے لئے لیڈر رکھا ہوا ہے یا لیڈر نے کارکن رکھے ہوئے ہیں آئے روز کسی گراﺅنڈ یاچوک میں بیٹھ کر اسی سرزمین کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں جہاں انہوں نے جنم لیا ہے۔ اُن کے بچے یہیں پلے بڑھے ، بہترین نوکریاں کر رہے ہیں اور انتہائی عزت اور شان کی زندگی بسر کر رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ کسی نہ کسی ایشو کو بنیاد بناکر اس ملک کو گالیاں بکتے ہیں اور ایسے بکتے ہیں جیسے بکنے کا حق ہوتاہے۔ اُن کے لئے اپنے ملک کو نعوذ باﷲ مردہ باد کہہ دینا بہت نارمل سی بات ہے۔ درحقیقت جن لوگوں نے ایسے لوگوں کو پروموٹ کیا اُن کے بھی اپنے مفادات تھے یوں انہوں نے کچھ گروہوں کو مادرپدر آزادی فراہم کی۔ ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ حقوق اور آزادی جو دیگر شہریوں کو حاصل ہو اسے بھی دی جائے۔ شومئی قسمت سے ہمارے ہاں بہت سے لوگوں نے اپنے ہی ملک کے ساتھ وہ کچھ کیا ہے جو شائد دشمن ممالک بھی اس ملک کے ساتھ نہیں کر سکتے تھے۔ ہمارے ہاں تو ایک اور ہی ٹرینڈ پاپولر ہو چکا ہے کہ کوئی بھی گینگ خود کو سیاسی پارٹی کے نام پر رجسٹرڈ کروا کر اپنا عسکری ونگ بنا لیتا ہے اور وہی ونگ اُن کا ایجنڈا لے کر چل رہا ہوتا ہے۔ درحقیقت ان کا ایجنڈا ہوتا ہی وہی ہے جس کو وہ فالو کر رہے ہوتے ہیں۔ سیاست تو ایک مقدس کام ہے جس کے ذریعے ملک چلایا جاتا ہے۔ عوام الناس کی خدمت کو شعار بنایا جاتا ہے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جس سیاست کا نمونہ اس قوم کے سامنے رکھا اسے قطعاً فالو نہیں کیا گیا۔ قائد نے تو نہ اپنی صحت کا خیال کیا اور نہ ہی اپنی فیملی لائف کا۔ انہوں نے اپنی توانائیاں اور عمر اس قوم کے نام کر دیں۔لیکن اُن کے بعد اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور اسے تکمیل پاکستان کی جانب لے جانے کے لئے جو اقدامات کئے جانے تھے وہ اس طرح سے نہیں ہو پائے اور مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگ لوٹ مار میں شریک ہو گئے اور وہ لوگ جو شائد روٹی سے بھی تنگ تھے آناً فاناً جائیدادوں اور کمپنیوں کے مالک بن گئے۔ جنہوں نے حق حلال کی کمائی سے یہ سب کیا وہ قابل احترام ہیں اور ملک کا اثاثہ ہیں۔ اُنہی کے ٹیکس کے پیسوں سے ملک کا نظام چلتا ہے لیکن ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ یہاں اربوں کے حساب سے کمانے والے لوگ بھی ہیں۔ جو بہت واجبی سا ٹیکس جمع کراتے ہیں۔ لیکن کراچی میں تو ایسے ایسے گینگ پیدا ہو گئے جنہوں نے پاکستان کے نظام کو چلانے کے لئے ٹیکس تو کیا دینے تھے الٹا وہاں حلال روزگار کما کر اپنے بچے پالنے والے دوکانداروں سے بھتہ وصول کرنا شروع کر دیا اور جو مزاحمت کرتے انہیں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہونا پڑتا۔ حتیٰ کہ قربانی کی کھالیں بھی چھین کر حاصل کی جاتیں۔ کوئی بھی حکومت حتیٰ کہ ڈکٹیٹر شپ کے ادوار میں بھی یہ گروہ کچھ اس طرح سے ان کی مجبوری بنے رہے کہ الٹا وہ ان کے مرہون منت ہو جاتے۔ گویا بعض لوگوں کو مہذب لوگوں کی طرح سے رہنا سیکھایا ہی نہیں گیا۔ اس طرح سے وہ اب ہر کام ہی خواہ وہ مقامی سطح کا ہو یا قومی سطح کا وہ تشدد، دھونس، ڈنڈے اور گالی کے زور پر کراتے ہیں۔ایسے لوگوں کو شاید اس امر کا احساس بھی نہیں رہتا کہ اس ملک کو گزشتہ چودہ برس سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا ہے اور افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب لانچ کر رکھا ہے۔کراچی جو ملک کا معاشی مرکز ہے میں رینجرز امن عامہ بحال رکھنے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسے میں کسی عسکری گروہ کو پھر سے ملک اور بالخصوص کراچی کا امن و امان تہہ و بالا کرنے کی اجازت کیونکر دی جا سکتی ہے۔ اب صرف ایک کال پر پورا کراچی بند نہیں ہوتا بلکہ شائد کراچی کا کوئی ایک ٹاﺅن بھی پورا بند نہ ہوتا ہو۔ لیکن وہ لوگ پوز اس طرح سے کرتے ہیں کہ جیسے ملک کے طول و عرض میں انہیں انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو اور اپنی خفت مٹانے کے لئے اُنکے لیڈرز انہیں میڈیا ہاﺅسز پر حملے کرنے کا حکم صادر فرماتے ہیں جس کا عملی مظاہرہ چند روز قبل دیکھنے میں بھی آیا۔ اب میڈیا کی کچھ حدود قیود ہوتی ہیں بہرطور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ میڈیا کو ڈکٹیٹ کرے اور ڈنڈے اور گالیوں کے زور پر اُنہیں زیر کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے اقدامات سے سیاست کے روپ میں ان عسکری گروہوں کو از حد گریز کرنے اور ماضی کی طرز عمل سے اجتناب کرنا چاہئے کیونکہ اس طرح وہ عوام الناس کی نظروں سے بھی گر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قومی دھارے میں کسی نے نہیں لانا ہوتا۔ انہوں نے خود آنا ہوتا ہے شرافت اور تہذیب کے ساتھ۔