- الإعلانات -

افغانستان میں پاک پرچم کی توہین

وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امورسرتاج عزیز نے افغانستان پر واضح کردیاکہ پاکستانی پرچم کی توہین کرنے پر کابل حکومت کی معافی کے بعد ہی باب دوستی کھلے گا۔ پاکستان پاک افغان سرحدپربند باب دوستی کھولنے پر تیار تھاتاہم اس کیلئے کچھ اصولی شرائط تھیں کہ کابل حکومت پاکستانی پرچم کو جلائے جانے پر معافی مانگے پھر ہم باب دوستی کھولیں گے۔ سرتاج عزیز نے کہاپاکستان نے فلیگ میٹنگ کے دوران باب دوستی کھولنے کیلئے کچھ شرائط عائد کیں۔ہم اب بھی افغانستان سے مثبت ردعمل کی توقع رکھتے ہیں۔ہم نے افغان حکومت سے کہا ہے کہ وہ الزام لگا کر دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں بڑھانے کے بجائے شواہد کے ساتھ بات کرے۔پاک افغان حکام کے درمیان سرحدی مذاکرات اتوارکو بھی ناکام رہے جس کے نتیجے میں پاک افغان دوستی گیٹ گیارہ روز سے مسلسل بند پڑا ہے۔ چمن میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی شہریوں کی طرف سے ہندوستان کے خلاف احتجاج کے جواب میں افغان شہریوں نے پاکستانی پرچم کی توہین اور اسے آگ لگا دی۔ پاکستانی فورسز نے گیارہ روز سے بطور احتجاج پاک افغان سرحد کو بند کر رکھا ہے جس کے باعث دو طرفہ تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ سرحد پر ہر قسم کی آمدروفت ،تجارتی سرگرمیاں ، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو سپلائی بھی معطل رہی جس کی وجہ سے دونوں اطراف مال بردار گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں ۔افغانستان بھی بھارت کے نقش قدم پر چل نکلا ہے۔ جس طرح بھارت اپنے ہاں ہونے والے کسی بھی دہشت گردی کے واقعہ کا بلا سوچے سمجھے الزام پاکستان پر دھر دیتا ہے چاہے بعد میں اس کو اس بات کے لئے شرمندہ ہی کیوں نہ ہونا پڑے، افغانستان نے بھی اب وہی وطیرہ اپنا لیا ہے۔ افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان سے امریکی یونیورسٹی پر حملے سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور انکے حامیوں کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان خوشحالی اور اپنے دشمنوں کو تباہ کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ صدر کے نائب ترجمان نے کہا کہ ہم نے تمام ثبوت اوردستاویزات پاکستان کو فراہم کردی ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ کابل کی امریکی یونیورسٹی پر دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی۔25 اگست کو کابل میں واقع امریکن یونیورسٹی میں حملے کے دوران سات طلبہ سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اشرف غنی کے ترجمان بھی عجیب خبطی ہیں جن کو حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہونے کے اشارے ملے ہیں۔ اگر واقعتاً ایسا ہی ہوا ہے تو اس سے یہ نتیجہ کیسے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس میں پاکستان کے ادارے ملوث تھے۔ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کی منصوبہ بندی افغانستان کے اندر سے ہوتی رہی ہے۔ جس کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے اور پاکستان کی طرف سے افغان حکومت کو واضح ثبوت بھی پیش کئے جاتے رہے ہیں۔ ملا فضل اللہ جیسے دہشتگرد افغان انتظامیہ کی پناہ میں ہیں۔ جبکہ پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہو رہی ہے اور وہ موقع ملتے ہی آج بھی ملک کے کئی حصوں میں دہشتگردی کر کے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں ایسے لوگ افغانستان کے اندر دہشتگردی کی پلاننگ کر سکتے ہیں جن کے خلاف پاک فوج برسر پیکار ہے۔ ایسے دہشتگرد پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ دشمن ہیں جن کا خاتمہ باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی سے ہو سکتا ہے بے بنیاد الزام تراشی سے نہیں۔یہ کہنا غلط نہیں کہ افغان حکومت سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت دہشت گردی کے ہر واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کررہی ہے۔ پڑوسی ملک اس حقیقت کو عملاً نظر انداز کرنے کا مرتکب ہورہا کہ انتہاپسندی کے خلاف جس قدر قربانیاں پاکستان نے دیں اس کی دوسری مثال دنیا بھر میں ملنی مشکل ہے۔ افغان حکام اپنی ناکامی اور نااہلی تسلیم کرنے کی بجائے ان حلقوں کو خوش کرنے پر عمل پیرا ہیں جو خالصتاً بھارت کے زیر اثر ہیں۔ بعض باخبر حلقوں کے مطابق اشرف غنی اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے بھی پاکستان پر الزام تراشی کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔افغان حکومت کا پاکستان بارے رویہ عملاً احسان فراموشی کا پتہ دے رہا ہے۔ اشرف غنی آگاہ ہیں کہ اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں میں اس انداز میں قیام پذیر ہیں کہ اس سے عملاً عام پاکستانی مسائل سے دوچار ہے۔ کابل کو اگر پاکستان سے شکوے شکایات کسی بھی سطح پر ہیں تو اس کے اظہار کے کئی طریقے موجود ہیں۔ بھارت کی اپنی چالوں سے افغان عوام میں پاکستان دشمنی کے بیج پہلے سے موجود ہیں چنانچہ کھلے عام تنقید سے ایسے تشدد پسند عناصر مزید تقویت پکڑ سکتے ہیں جن کا مفاد ہی کشت وخون سے وابستہ ہے-