- الإعلانات -

میرانشاہ دھماکہ ، سیاستدان ہوش کے ناخن لیں

پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے ملکی دفاع کیلئے دی جانے والی قربانیوں کی ایک مفصل تاریخ ہے جس میں قربانیوں کی ، شہادتوں کی ایک طویل فہرست ہے جو پاکستان کا ایک مضبوط اثاثہ ہے، افواج پاکستان کے شہداءہمارے ماتھے کا جھومر ہیںجسے ہم کسی طور پر بھی فراموش نہیں کرسکتے۔ گزشتہ روزشمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں خودکش دھماکے میں 3 سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق میران شاہ میں ہونے والے خود کش دھماکے میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ 3 بچے بھی شہید ہوئے۔ شہید اہلکاروں میں حولدار زبیر قادر، سپاہی عزیر اصفر اور سپاہی قاسم مقصود شامل ہیں۔ شہید بچوں میں 4 سال کی انعم، 8 سال کا احسن اور 11 سال کا احمد حسن شامل ہے۔ انٹیلی جنس ایجنسیاں خودکش حملہ آور اور اس کے ہینڈلرز اور سہولت کاروں کے بارے میں جاننے کیلئے تحقیقات کر رہی ہیں۔مقامی پولیس کے مطابق خودک±ش حملہ آور کے اعضاءکو سکیورٹی فورسز نے اپنے قبضے میں لے لیا جبکہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق واقعے کے بعد قریبی علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا تاہم ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ اس دوران کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے یا نہیں۔اس واقعہ کی شدت کو ملک بھر میں محسوس کیا گیا اور اس واقعہ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداءنے ایک بار پھر قوم کا سینہ فخر سے چوڑا کردیا کیونکہ محافظ اس دھرتی کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت چوکس ہیں اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جاگ رہے ہیں اور کوئی مشکل وقت پڑنے پر وہ کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے، یہی پاک فوج کا خاصہ ہے اور اس کا ورثہ ہے کہ وہ شہادت کو گلے لگانے سے دریغ نہیں کرتے۔ پاکستانی فوج کا موٹو ہے کہ شہادت ہمارا وہ ورثہ ہے جو ہماری ماو¿ں نے ہمیں دودھ کی صورت میں پلایا ہے جو خون کی صورت میں ہماری رگوں میں منتقل ہوا ہے ، اس واقعہ پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افواج پاکستان کی عظیم قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہری باب ہیں۔شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں خود کش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 3 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 افراد کی شہادت پر رنج و غم اور افسوس ہوا ہے ، ہم متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں کے قاتل اسلام اور انسانیت دونوں کے دشمن ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سفاک وحشت اور درندگی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، قاتلوں کے سرپرستوں کو سزا دے کر رہیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ افواج پاکستان کی عظیم قربانیاں ہماری تاریخ کا سنہری باب ہے، اپنے شہداء پر پوری قوم کو فخر ہے ، شجاعت و شہادت ہماری افوج کی تابناک روایت ہے ہمارے شہدا نے اسے برقرار رکھا ہے۔ملک میں بہتر سیاسی حالات فوج کے لئے بہت موزوں ہوا کرتے ہیں کیونکہ جب فوج دشمن کے ساتھ نبردآزما ہوتی ہے تو پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اس کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے مگر بدقسمتی سے تحریر کرنا پڑرہا ہے کہ اس وقت قوم مختلف سیاسی دھڑوں میں بٹی نظر آرہی ہے اور وہ کسی صورت بھی ایک قوم نظر نہیں آرہی ، حالانکہ یہ وقت متحد ہونے کا ہے تاکہ اندرون ملک سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکا جائے اور بیرون ملک موجود دشمنوں کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں لوہے کے چنے چبوائے جاسکے۔ اس صورت حال سے یقینا عسکری حلقے بھی پریشان ہوں گے مگر وہ اپنے حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے ملکی کی دفاع کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ، 4سال حکومت کرنیوالی تحریک انصاف نے ملک کو دیوالیہ پن کے قریب لاکر کھڑا کیا مگر اس کے باوجود وہ اب بھی ملک میں معاشی استحکام نہیں دیکھنا چارہی اور آئے روز ملک کے مختلف حصوں میں جلسہ ہائے عام کرکے انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں ، ابھی اس نے اسلام آباد میں دھرنے کی کال بھی دینا ہے ، اس دھرنے کی کال کے بعد ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کیا ہوگی یہ سوچ کر ہی ہول اٹھ رہے ہیں۔ کاش کہ سیاستدان ملک کے اندر ایک مضبوط جمہوری نظام کو سپورٹ کرتے اور ملکی معیشت کو مضبوط بناتے مگر کرسی کے لالچ نے ان کی آنکھوں پر شاید پردے ڈال رکھے ہیں کہ وہ ہر قیمت پر اقتدار کا حصول چاہتے ہیں ۔ تحریک انصاف نے چار سال حکومت کی اور ملک کو دیوالیہ پن کے حدود تک پہنچادیا مگر اب وہ حکومت پر یہ الزام عائد کرتے نظر آتے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ کرنے جارہا ہے اس لئے ادارے اپنا کردار ادا کرے اور مداخلت کرے ، چار سال میں حکومت کیا کارکردگی رہی یہ بتانے سے گریزاں ہیں جبکہ ایک مہینے کے اندر ملک ڈیفالٹ کرنے کو پہنچ گیا اس کا واویلا وہ ہر جلسے میں کرتے پھررہے ہیں ، کوئی ان سے پوچھے کہ چار سالوں میں آپ نے خزانہ کو بھرنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے اور ملک میں دودھ شہد کی کونسی نہریں بہادیں کہ جس کو حکومت نے ایک مہینے کے اندر ختم کرڈالا ، یہ عوام کو کھلا دھوکہ دینے کے مترادف ہے اور پھر اداروں کو دعوت دینا کہ وہ مداخلت کرے مزید پریشانیاں پیدا کرنےکا موجب ہے ، ایک ایسے وقت میں جب ملک ڈیفالٹ کرنے کے قریب ہو، اندرونی ، بیرونی دشمنوں سے نبردآزما عسکری ادارے کس طرح سیاست میں مداخلت کر پائیں گے ، اس حوالے سے افواج پاکستان بار بار یہ کہہ رہی ہیں کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے مگر دونوں طرف کے سیاستدان ہر حال میں اداروں کو سیاست میں گھسٹینے پر تلے ہوئے ہیں ، تحریک انصاف کے قائدین افواج پاکستان کے سپہ سالار اور ان کے ساتھیوں کو کھلے عام میر جعفر اور میر صادق کے القابات سے پکار رہے ہیں ، ان حالات میں ہمیں کسی بیرونی دشمن کا خطرہ نہیں بلکہ اپنوں سے ہی خطرہ ہے ، خدارا سیاست دان ہوش کے ناخن لیں۔
وزیر خزانہ کا خوش آئند اعلان
ملک میں جاری مہنگائی کی لہر کو کم کرنے کیلئے حکومت بنیادی اقدامات کررہی ہے ، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے گزشتہ روز حوصلہ افزا بات کی ہے کہ ہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتے کیونکہ اس کی وجہ سے معاشرے کے تمام طبقات مہنگائی کے لپیٹ میں آجاتے ہیں ، اس لئے اس پر سبسڈی دینے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب چار سال پہلے مسلم لیگ (ن)نے حکومت چھوڑی تو اس وقت گندم درآمد کررہے تھے،اس سال پاکستان گندم برآمد کرے گا،وفاقی حکومت نے تیس لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے، پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں زراعت کے شعبے میں کوئی توجہ نہیں دی گئی،ہم سستی گیس اس لئے دیتے ہیں کہ کھاد کی قیمتیںکم رہیں،ہم چار بلین ڈالر خوردنی تیل درآمد کریںگے،کپاس اور دوسری زرعی اشیاءبھی درآمد کرنی پڑیںگی،وفاقی حکومت چینی اور گھی پر سبسڈی دے رہی ہے،کورونا کے دوران امداد اور قرضوں کی ادائیگی کے التواءسے گزشتہ حکومت کو فوائد ملے،عمران خان کی پالیسی اور نااہلی کی وجہ سے ملکی معیشت شدید خسارے میں رہی،روپے کی قیمت گرنے پر شور ڈالنے والے خود ہی ذمہ دار ہیں،پٹرول پر سبسڈی ختم کرنے کا وعدہ عمران خان کی حکومت نے کیا تھا،پٹرول مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے وزیراعظم شہبازشریف عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے،عمران خان کی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ایل این جی درآمد نہیں کی گئی،ہم نے کوشش کی ہے کہ چینی اور آٹے کی قیمت کم کردیں، ہم یوٹیلٹی سٹورز پر گھی پر بھی سبسڈی دے رہے ہیں،سبسڈی دینے کا عمل مشکل ہے اس حوالے سے بھی ایک پالیسی بنایا جانا چاہیے کہ یہ ریلیف صرف چھوٹے طبقات کو ہی مل سکے۔