- الإعلانات -

سی پیک منصوبے کے ذریعے پاکستان کی عالمی تجارت میں واپسی

پاکستان میں اس وقت سی پیک جیسے عالمی منصوبہ اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے 46 ارب ڈالر میں سے 18 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے اور آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے جبکہ 17 ارب ڈالر کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر رواں سال کام شروع ہوجائے گا۔سی پیک منصوبہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ اس پورے خطے کی تقدیر بدل دے گا۔کہا جارہا ہے کہ اس منصوبے سے کم و بیش تین ارب لوگ مستفید ہونگے۔گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کے زیر اہتمام دو روزہ سی پیک نمائش و کانفرنس کاانعقاد کیا گیا۔اس کا نفرنس کے انعقاد کا مقصد پاکستان میں گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے علاوہ سی پیک منصوبے پر عملدرآمد کے بعد پاکستان میں تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ تھا۔ اس کانفرنس میں سرمایہ کاروں اور بزنس مینوں کی بڑی تعداد میں شرکت ان کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔کانفرنس میں چینی سفیر سن وی ڈونگ نے بھی شرکت کی اور اپنے خطاب میں کہا کہ خطے کی ترقی چین کا دیرینہ خواب ہے ¾اقتصادی راہداری منصوبہ عملدرآمد کے مرحلے میں آگیا ہے ¾ پاکستان سے رشتہ عظیم ہے ¾ پاکستان ہمارا آئرن فرینڈ ہے۔ سن وی ڈونگ کا خطاب ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ چین پاکستان کا ہرمشکل گھڑی میں ساتھ دیتا رہے گا اور جیسا کہ اس خطے کے ہی نہیں بلکہ تمام دنیا کے ممالک پہلے سے ہی جانتے ہیں کہ پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے بلند اوربحر الکاہل سے بھی گہری ہے۔یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ اس خطے کی ترقی چین کا دیرینہ خواب ہے جس کا مطلب ہے کہ چین پاکستان کو ترقی کی بلندیوں پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے بھی خصوصی طورپر شرکت کی انہوں نے کانفرنس کے شرکاءسے خطاب میں سی پیک منصوبے کی اہمیت کے بارے میں کہا کہ پاکستان عالمی تجارت میں واپس آگیا ہے اور دنیاسے تجارت کرناچاہتا ہے ۔چین کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ چین دنیا بھر میں پاکستان کے تشخص کا محافظ ہے اور ہر مشکل وقت میں چین نے پاکستان کی مدد کی۔ چین کا پاکستان پر بھر پور اعتماد کبھی نہیں بھولیں گے۔نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی اور مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ سی پیک سفارت کاری کا ایک نیا تصور ہے جو پاکستان اور ریجن کی خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کی بنیاد پر تخلیق کیا گیا۔ یہ ایسا منصوبہ ہے جس سے غربت ¾ بیروز گاری اور پسماندگی کا خاتمہ ہوگا۔ سی پیک چین اور پاکستان کے درمیان محض ایک اسٹریٹجک معاہدہ نہیں 65 سالہ دوستی کی کامیاب تکمیل ہے ¾ منصوبہ سے معاشی محرومیوں کو دور کرنے اور امن و خوشحالی کے حصول میں مدد ملے گی ¾ ملک میں خوشحالی کا نیا دور آئے گا ¾ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاک چین تعلقات مضبوط ہو رہے ہیںہم اکٹھے کام کر کے اپنے عوام کی معاشی ترقی کے ذریعے خطے میں امن اور استحکام لا سکتے ہیں۔اس کانفرنس میں دیگر شرکاءنے بھی اپنے اپنے خطاب میں سی پیک منصوبے کی افادیت کو اجاگر کیا اور خطے میں اس منصوبے کو ترقی کا راستہ قرار دیا۔اس کانفرنس کے ذریعے کاروباری طبقہ کو یہ پیغام بھی ملا کہ پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیاں اور صوبے اس منصوبے پر یک زبان ہیں اور ہر قسم کے تعاون کے لئے آمادہ ہیں۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے جس سے دنیا بھر کو پاکستان کے میں اندرونی یکجہتی نظر آئے جبکہ مخالفین کے لئے یہ ایک واضح پیغام ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل پرمکمل توجہ مرکوز کی جائے اوراس بارے بیرونی سازشوں پر بھی کڑی نظررکھی جائے۔ سی پیک پاکستان کی ترقی کا دروازہ تصور کیاجارہاہے جوکہ ملک دشمنوں کوایک آنکھ نہیں بھارہا۔پاک فوج نے اس کی حفاظت کاذمہ تو اٹھارکھا ہے لیکن کچھ کام حکومت کے ذمے بھی آتے ہیں کیونکہ پاکستان سی پیک منصوبے کیخلاف کوئی بھی سازش برداشت نہیں کرسکتا یہ ملکی ترقی وسلامتی کامعاملہ ہے جبکہ حکومت پر یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ پڑوسی دشمن اس منصوبے کیخلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔
سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے فیصلے برقرار
چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 16 دہشت گردوں کی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں کے فیصلوں کو درست قرار دیا اور انہیں برقرار رکھا۔ فوجی عدالتوں نے ان مجرموں کو ملک کے اندر ہونے والی دہشت گردی کی مختلف وارداتوں ¾ سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں ¾ خوش کش بمبار تیار کرنے ¾ دہشت گردی کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے ¾ اغواءبرائے تاوان ¾ آرمی پبلک سکول کے بچوں اور اساتذہ کے قتل عام ¾ بنوں جیل توڑنے جیسے الزامات پر سزائیں سنائیں تھیں۔ اس وقت ہمارا ملک سی پیک جیسے منصوبوں پرعملدرآمد کے دھانے پر کھڑا ہے اور دنیا کے سرمایہ کاروں اور بزنس مینوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری پر آمادہ کر رہاہے ایسے میں ملک میں امن و امان اور سکیورٹی کی بہتری کے لئے ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے ۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے دہشت گردوں پر یہ واضح ہوا ہے کہ اب اس ملک میں امن و امان کو خراب کرنے والوں کے لئے کوئی جگہ نہیں اور تمام سول و فوجی ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ اب اس ملک کو دہشت گردوں سے پاک ہونا چاہئے تا کہ سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر کیا جاسکے تاکہ امن وامان کے قیام کے بعد یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
 صدر مملکت اور آرمی چیف کی صدر آزاد کشمیر سے ملاقاتیں
صدر مملکت ممنون حسین نے ایوان صدر میں آزاد کشمیر کے نو منتخب صدر مسعود خان سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے حصول کےلئے جاری جدوجہد کی سفارتی اور اخلاقی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین نے آزاد کشمیر میں ہونے والے پر امن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد اور منتخب حکومت کو پر امن اقتدار کی منتقلی پر اطمینان کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے امید ظاہر کی کہ مسعود خان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لئے اپنے وسیع تجربے اور تمام تر صلاحیتوں کو بروے کار لائیں گے۔ آزاد کشمیر کے نومنتخب صدر مسعود خان سے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی جنرل ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کی اس موقع پر آرمی چیف نے آزاد کشمیر کے نو منتخب صدر کو مبارکباد پیش کی اور کشمیر کے مسئلے پر ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی