- الإعلانات -

موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے ٹاسک فور س کا قیام خوش آئند

موسمیاتی تبدیلیاں ایک بین الاقوامی سطح کا مسئلہ ہے ، کرہ ارض پر نہایت تیزی کے ساتھ تبدیلیاں وقوع پزیر ہورہی ہے جس کے باعث موسم تبدیل ہوتے جارہے ہیں ، اوزون کی سطح پھٹنے کی وجہ ہے گرمی کی حدت میں شدید اضافہ ہوتا چلا جارہاہے جبکہ سردیوں موسم کی شدت میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ،دنیا کے جدید ممالک میں اس سے نمٹنے کیلئے بہت تیزی کے ساتھ سوچ و بچار جاری ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک بھی اپنے تیں اس سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں ، بدقسمتی سے پاکستان کا شمار بھی انہیں ممالک میں ہوتا ہے جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مرتب ہورہے ہیں ، چنانچہ ان سے نمٹنے کیلئے وفاقی حکومت اپنے طور پر مضبوط اور مربوط حکمت عملی بنارہی ہے، اس حوالے سے گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ گرمی کی شدید لہر (Heat Wave) اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر اعلی سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا،اجلاس کو حالیہ گرمی کی شدید لہر کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ گرمی کی شدید لہر کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے لحاظ سے دنیا بھر میں پانچویں نمبر پر سب سے ذیادہ نتاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ملک ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان کو گلیشیئرز کے بڑے ذخائر ہونے کے باوجود پانی کی کمی کا خطرہ بھی لاحق ہے، اس سب کے براہِ راست اثرات پاکستان کی زراعت پر مرتب ہوتے ہیں۔اجلاس میں وزیر اعظم نے ہنگامی بنیادوں پر اس حوالے سے جامع حکمتِ عملی مرتب کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ پانی کے بچاو¿ کیلئے عوامی آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے،بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے بھی آئندہ مون سون سے پہلے فوری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔وزیر اعظم کو چولستان میں پانی کی قلت پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ چولستان میں انسانی بستیوں اور جانوروں کیلئے پانی کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے،ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے چولستان میں حالیہ گرمی کی شدید لہر میں فوری امدادی سرگرمیوں کو یقینی بنائیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کو فوری ہنزہ دورہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ہنزہ میں شسپر گلیشئیر واقعے میں منہدم ہوئے پ±ل کو فوری تعمیر کیا جائے۔وزیراعظم نے پ±ل کی تعمیر پر پیش رفت کے حوالے سے آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔وزیرِ اعظم نے وزارتِ تعلیم کو سرکاری سکولوں میں حالیہ گرمی کہ شدید لہر سے بچاو¿ کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد اور نجی سکولوں کو ان پر عملدرآمد کیلئے احکامات جاری کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیرِ اعظم نے وزراتِ صحت کو فوری طور پر COVID-19 کے نئے سب-ویرئینٹ کے حوالے سے تحقیق اور اسکے ممکنہ اثرات پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کئے۔نیزوزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صوبوں کو گندم کی خریداری کا ہدف مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے صوبوں کو گندم کی خریداری کے لیے دیئے گئے اہداف پورے نا کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس حوالے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ عوام کو کسی صورت مشکل میں نہیں ڈالا جا سکتا ہے اور اس سے متعلق کسی قسم کی کمی کو برداشت نہیں کیا جائیگا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے وزیر خوراک کو ہدایت کی کہ باہر سے درآمد کی جانے والی گندم کی صوبوں میں شفاف تقسیم کے لیے فوری کمیٹی قائم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہر صورت کم قیمت پر آٹا فراہم کرے گی اور ہر ممکن مدد بھی فراہم کی جائیگی۔اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت جاری کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ صوبے یکم جون تک گندم خریداری کے اہداف پورے کریں۔ جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے زرمبادلہ کی موجودہ صورتحال اور بڑھتے کرنسی ایکسچینج ریٹ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم کے زیرصدارت ملک میں زرمبادلہ کے ذخائراور کرنسی ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اجلاس میں شہباز شریف نے گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے تمام متعلقہ اداروں کو صورتحال کی بہتری کیلئے جامع حکمت عملی وضع کرنے، ہنگامی بنیادوں پر موثر اور قابل عمل پلان پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ایک جانب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلیشیئر پھٹنے کا عمل جاری ہے جس کے باعث دریاو¿ں میں طغیانی آنے کا عمل بھی جاری ہے اور گلگت بلتستان میں کچھ پلوں کی ٹوٹنے کی اطلاعات بھی ہے ، نئے ڈیم نہ بننے کی وجہ سے ہم اس پانی کو سٹور نہیں کر پارہے اور یہ سارا پانی بہہ کر سمندر میں جارہا ہے ، اگر ملک میں نئے ڈیم بنے ہوتے تو اسی پانی کو سٹور کرکے آبپاشی کیلئے استعمال کیا جاتا جس سے ہم اپنی زراعت کو بہتر بناسکتے تھے مگر فیلڈ مارشل محمد ایوب خا ن کے بعد آنے والی کسی حکومت نے بڑے آبی ذخائر بنانے پر توجہ نہیں دی، کالا باغ ڈیم کا منصوبہ سیاست کی نظر ہوگیا، کہا جاتا ہے کہ اس کے پس منظر میں بھارت نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنڈوں کو استعمال کیا اور یہ ڈیم نہ بننے دیا اگر یہ ڈیم بن جاتا تو نہ صرف بجلی سستی ہوجاتی بلکہ اس کی بدولت سبز انقلاب بھی وقوع پزیر ہوتا اور آج ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمیں گندم باہر سے درآمد نہ کرنا پڑتی ، وزیر اعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تبدیلی کیلئے ٹاسک فورس تو بنادی مگر اس پر عمل درآمد کون کرے گا ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی دفتری راہداریوں میں گم ہوکر نہ رہ جائے اس لئے اس پر وزیر اعظم کو براہ راست نظر رکھنا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی عرض کئے دیتے ہیں کہ سابقہ حکومت نے دس ارب درخت لگانے کا ایک منصوبہ بنایا تھا جس پر عمل درآمد بھی شروع ہوگیا تھا ، اس منصوبے کی بدولت پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی مثبت طور پر آتی ، جنگلات میں اضافے کی بدولت نہ صرف موسم خوشگوار ہوتے بلکہ ایندھن کیلئے وافر مقدار میں لکڑی بھی میسر آتی ، پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا اور اچھا منصوبہ تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ منصوبہ بھی روایتی بدعنوانی کا شکار ہوا ، اس میں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے خوب ہاتھ رنگے اور ایک ہزار درخت لگاکر کاغذات میں انہیں ایک لاکھ درخت شو کیا گیا ، اس منصوبے کی نہ صرف شفاف انکوائری کرنا ضروری ہے بلکہ اس کو جاری رکھنا بھی ضرور ی ہے کیونکہ اسی میں پاکستان کی بقاءمضمر ہے۔
جڑواں شہروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کا بحران
جڑواں شہروں میں لوڈشیڈنگ میں اضافے کی بدولت پانی کے بحران نے بھی سر اٹھالیا ہے ، کئی علاقوں میں کئی کئی گھنٹے کی لوڈشیڈنگ جاری ہے ، حالانکہ وزیر اعظم شہباز شریف کے واضح احکامات کے باوجودگرمی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی جڑواں شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ زور پکڑ گئی راولپنڈی اسلام آباد میں6سے8گھنٹے یومیہ بجلی کی بندش سے جہاں گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو گئی وہیں پر کاروباری طبقے کے لئے معمولات جاری رکھنا اور طلبا وطالبات کے لئے امتحانات کی تیاری ناممکن ہو گئی دن رات کے اوقات میں بجلی کی طویل بندش نے طلبا وطالبات کو انتہائی اذیت ناک صورتحال سے دوچار کر دیا وفاقی دارلحکومت کے علاقوں کھنہ ڈاک ، کھنہ ایسٹ ، مدینہ ٹاﺅن ،قطبال ٹاﺅن ،راجہ نصیب اللہ ٹاﺅن ،شکریال ایسٹ اورچوہدری فرمان علی ایونیو کے علاوہ راولپنڈی کے علاقوں صادق آباد ، مسلم ٹاﺅن ، خرم کالونی ، آفندی کالونی ، ڈھوک کالا خان سمیت اندرون شہر گنجان علاقوں میں وقت بے وقت کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ نے روز مرہ کے معمولات درہم برہم کر دیئے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے مطابق ایک سے 2گھنٹے بجلی کی بندش کو آئیسکو کا عملہ پہلے لوڈ شیڈنگ کا نام دیتا ہے جس کے بعد دوبارہ بجلی کی بندش کو فیڈر میں خرابی کا بہانہ بنایا جاتا ہے اسی طرح ہر مرتبہ ایک نئے اور الگ جواز کے ساتھ مختلف علاقوں میں1سے3گھنٹے لگاتار بھی بجلی بند کر دی جاتی ہے عوامی حلقوں کے مطابق اس وقت جڑواں شہروں میں تعلیمی سیشن اختتام کی جانب رواں دواں ہے فیڈرل بورڈ کے علاوہ پنڈی بورڈسمیت تعلیمی ادروں کی سطح پر بھی سالانہ امتحانات کا آغاز ہو چکا ہے لیکن یومیہ 6سے8گھنٹے اور بعض علاقوں میں10گھنٹے تک بجلی کی بندش سے طلباو طالبات کے قیمتی سال کا ضیاع کا خطرہ پیدا ہو گیا۔