- الإعلانات -

سیاسی گفتگو منع ہے ، سر اور بازو اندر رکھیں

سیاسی گفتگو منع ہے” یہ ستر اور اسی کی دہائی کا سب سے معروف اور مقبول اعلان ہے ،جو بسوں ، چائے خانوں، سڑک کنارے بنے ڈھابوں ، حجام کی دکانوں اور ہر اس جگہ لکھا نظر آ جاتا تھا ،جہاں ایک سے زیادہ لوگ اکٹھے ہونے کا امکان ہوتا ۔ اگرچہ زیادہ معروف اور متداول اعلان تو ” سیاسی گفتگو منع ہے ” کا ہی ہوتا تھا ،جو ہر جگہ لکھا نظر آتا تھا۔لیکن بات یہیں تمام نہیں ہوتی تھی ۔اس کے علاہ بھی رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ جاری رہتا تھا ۔ مثلا سر اور بازو اندر رکھیں والی ہدایت بسوں اور ٹرین میں لکھی نظر آجاتی تھی۔اس میں سگریٹ پینا منع ہے والی ہدایت بھی شامل کر لیں۔یہ سارے اعلانات اور ہدایات اس ذہنی فضا کا پتہ دیتی ہیں ،جس سے اس عہد میں پاکستانی معاشرہ گزر رہا تھا۔ساٹھ کی دہائی عسکری بندوبست میں گزری،ستر کی دہائی کا آغاز ملک کے دولخت ہونے سے ہوا ۔صورت حال سنبھالنے کے لیے کچھ سال جمہوریت کو عطا کیے گئیے ، یہ رعایت ضرورت پوری ہوتے ہی واپس لے لی گئی اور ملک پھر سے عسکری بندوبست کا شکار ہوگیا۔ایسے میں سیاسی گفتگو سے پرہیز ایک قومی حکمت عملی قیاس کی جا سکتی ہے۔تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی گئی۔اجتماعی گھٹن کے اس ماحول میں عامتہ الناس کے لیے یہی پیغام تھا کہ اے لوگو ! سیاسی گفتگو منع ہے۔ اس سے مراد یہ تھی کہ پاکستان میں سیاست اور ریاست کے معاملات عوام کی شرکت ،شمولیت اور مشاورت کے بغیر چلا کریں گے۔ اور ایک طویل مدت تک ایسا ہوا بھی۔ عامتہ الناس کو روتے پیٹتے سیاستدانوں کی آوازیں آتی رہتیں ، لوگ سنتے رہتے ، پر تماشا گر باز نہیں آئے۔پھر ہوا یوں کہ ایک تجربہ کرنے کی ٹھانی گئی، اسے ایک متاثر کن بیانیے کی صورت دے کر ، اور ایک ہتھیار بنا کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا ، پھر اس ہیرو کو وزیراعظم بنا دیاگیا۔ مگر انہیں قطعا یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس بڈاوے میں جان پڑ جائے گی۔ اور اب وہ روز بروز بے قابو ہوا جا رہا ہے۔
اب میں آپ کو تھوڑی دیر کے لیے آئی ٹن سیکٹر میں سڑک کنارے آباد ایک ڈھابے پر لے چلتا ہوں ۔فیشن کے مطابق چاچے چودھری نے اس پر بھی ایک کونے میں کوئٹہ کیفے لکھوا رکھا ہے ، حالانکہ اس میں کویٹہ سے تعلق رکھنے والا کوئی ایک بھی ملازم نہیں پایا جاتا۔لیکن چونکہ کویٹہ کیفے کا نام اسلام آباد کا سستا ترین فیشن ہے اس لیے چاچے نے بھی اپنے ڈھابے کے ایک خاموش کونے میں یہ نام لکھوا لیا۔ چاچا چودھری کمال آدمی ہے ، چودھری کی گھنی مونچھ ہونی چاہئیے تھیں ، پر چاچا کلین شیو ہے ،داڑھی ذرا نہیں بڑھنے دیتا۔یہ شرلی بے بنیاد کا پسندیدہ ٹھکانا بھی ہے ۔اس کا خیال ہے کہ چاچا اگر دن میں پانچ بار نماز پڑھتا ہے تو کم از کم دو بار روزانہ شیو ضرور کرتا ہے۔اچھا چاچے کو یہیں چھوڑ کر اس ڈھابے پر بیٹھنے والے حاضر سروس اور سابق سروس گاہکوں کی بات کرتے ہیں۔یہاں نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی معاملات پر بھی بحث مباحثہ جاری رہتا ہے اور مختلف ملکوں کی طرف سے مجوزہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ملکی سیاست تو یہاں چائے کی طرح پی جاتی ہے۔کبھی کڑوی ،کبھی دیسی گڑ ملا کر، کبھی چھوٹی الائچی والی اور کبھی ملائی مار کر ،غرض ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہوتا ہے ،اس کا نقشہ اسی سیکٹر آئی ٹن کے ڈھابے پر تیار کیا جاتا ہے ۔یہاں تک تو جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے وہ پاکستان بھر میں سڑک کنارے بنے ہر ڈھابے پر پورا اترتا ہے ، کم وبیش ہر جگہ اسی طرح کی باتیں اور اسی طرح کی صورت حال پائی جاتی ہے۔پر چاچے کا ڈھابہ آج کل ایک انوکھے بحران کا شکار ہے ۔یہاں بیٹھنے اور ساری شام باتوں میں مصروف رہنے والے حاضر سروس اور سابق سروس گاہک ملکی سیاست اور مملکت کے مستقبل کے حوالے سے دو حصوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔۔ایسا شائد پہلی بار ہوا ہے ۔حالانکہ کہ اس ڈھابے پر چاچے کی رائے ایک حکم کا درجہ رکھتی ہے لیکن آج کل بحث مباحثے میں ایک بات سامنے آئی ہے کہ دونوں فریق اب چاچے کی رائے کو بھی کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ابھی کل بھی یہاں بحث کے دوران خوب ہنگامہ ہوا ۔ستم ظریف بھی میرے ساتھ تھا،وہ ذرا جذباتی سا ہے ۔اس نے ایک مشتعل فریق کو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر سمجھایا کہ دیکھو بھائی ! جب غلطی پکڑی جائے، تو غصہ کرنے کی بجائے تھوڑی بہت ڈانٹ ڈپٹ، تھوری بہت ملامت شلامت برداشت کر لینی چاہئیے ۔ اگر دوبارہ غلطی نہیں کرو گے تو کوئی بھی ملامت نہیں کرے گا۔ لیکن اس کی اس بات کو کوئی بھی سننے کے لیے تیار نہیں تھا۔ملکی سیاست کے مستقبل کے سیاسی نقشے بنانے والے اپنے ناکام تجربات اور غلط اندازوں پر ذرا برابر شرمسار نہیں تھے ۔اس پر یہ مطالبہ بھی تھا کہ ہماری طرف کوئی اشارہ نہ کیا جائے۔
ستم ظریف مایوس ہو کر میرے پاس آ بیٹھا۔میں خاموشی سے اس ڈرامے کو دیکھ رہاتھا۔ستم ظریف کو اداس دیکھ کر میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے سمجھایا کہ جب کوئی بھی ڈرامہ دیکھو، ڈرامے سے باہر بیٹھ کر دیکھو ۔میری طرح آپ بھی ایک عام شہری ہو، ہمیں ڈرامے دیکھنے کی حد تک تو اجازت ہے ،پر ہم جیسے لوگ ان ڈراموں کا حصہ نہیں بن سکتے۔تمہیں اس بات کو سمجھنا چاہئیے۔میں جہاں مجھے اختلاف ہو ،اپنے اختلاف کو برقرار رکھتے ہوے اپنے سے مختلف نکتہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ آپ اپنے تصور سے برعکس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کیا کریں۔آپ کا ایماندارانہ تجسس آپ کو درست فراست تک لےجائے گا۔اچھا تو پھر اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟یہ سوال ستم ظریف کا تھا۔میرا جواب وہی تھا جو ستر اور اسی کی دھائی کی مقبول ہدایت رہی تھی،اور آج کل اسے پھر سے تازہ کیا جا رہا ہے۔ یعنی یہ کہ ؛ سیاسی گفتگو منع ہے۔مزید احتیاط یہ کہ سر اور بازو اندر رکھیں۔کیونکہ بہرحال، میں دیوتاں کی بات نہیں کرتا ،لیکن عام لوگوں کے لیے سر اور بازو کی موجودگی اور سلامتی بے حد ضروری ہوتی ہے۔