- الإعلانات -

سپریم کورٹ کا جمہوری استحکام کیلئے تاریخی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو ملکی استحکام اور انصاف کی فراہمی کیلئے دن رات کوشاں ہیں اور اس کی خواہش ہے کہ جمہوری ملک میں تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کئے جائیںاور اس پر کوئی ادارہ یا شخصیت اثر انداز نہ ہوسکے مگر بدقسمتی سے کچھ لوگ اس غیر جانبدارانہ ادارے کو بھی متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ اس ادارے کے اندر ہونے والے تمام فیصلے ان کی مرضی سے کئے جائیں مگر عدالتوں، آئین ، قانون اور شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ دیا کرتی ہے ، اس ادارے نے ماضی میں پیدا ہونے والے بڑے بڑے بحرانوں کو سلجھایا ہے، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان ہمیشہ آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور حق پر مبنی فیصلے کرتی چلی آرہی ہے ، گزشہ روزاسی طرح کے ایک اہم فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلہ دیا ہے جس میں انہوں نے قرار دیا ہے کہ پارٹی کے انحراف سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل کرسکتا ہے جبکہ اس حوالے سے تاحیات نااہلی کا فیصلہ عدالت نے پارلیمنٹ ہاو¿س پر چھوڑدیا کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ نااہلی کتنی مدت کی ہونی چاہیے،سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا ہے کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کے معیاد کا تعین پارلیمان کرے،صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینا ہمارے لیے آئین دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے جبکہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق پی ٹی آئی کی درخواستیں خارج کردی گئیں تاہم منحرف ارکان تاحیات نااہلی سے بچ گئے۔ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور فیصلہ 2 کے مقابلے میں 3 کی برتری سے سنایا گیا۔چیف جسٹس عمر عطابندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے کہا کہ منحرف رکن کا دیا گیا ووٹ شمار نہیں کیا جائے جبکہ جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلاف کیا۔صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63- اے سے متعلق سپریم کورٹ سے 4 اہم سوالات پوچھے تھے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ انحراف کرنا سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کر سکتا ہے، آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں کے حقوق ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63- اے کا مقصد انحراف سے روکنا ہے، آرٹیکل 63- اے کی اصل روح ہے کہ سیاسی جماعت کے کسی رکن کو انحراف نہ کرنا پڑے۔چیف جسٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 63- اے کا مقصد جماعتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے، منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا، پارٹی پالیسی کے خلاف ڈالا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔فیصلے میں صدر مملکت کے رکن اسمبلی کے انحراف کی صورت میں تاحیات نااہلی کے سوال پر رائے نہیں دی گئی اور مستقبل میں انحراف روکنے کا سوال عدالت نے صدر کو واپس بھجوا دیا۔سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ منحرف رکن کی نااہلی کی معیاد کا تعین کا پارلیمنٹ کرے، صدر مملکت کے ریفرنس پر رائے دینا ہمارے لیے آئین دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے۔ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تین دو کی اکثریت سے فیصلہ سنایا جاتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اختلافی نوٹ لکھے جب کہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر نے اکثریتی رائے دی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس نمٹایا جاتا ہے، سوال تھا کہ منحرف رکن کا ووٹ شمار ہو یا نہیں، آرٹیکل 63 اے اکیلا پڑھا نہیں جاسکتا، آرٹیکل 63 اے اور آرٹیکل 17سیاسی جماعتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے، سیاسی جماعتوں میں استحکام لازم ہے، انحراف کینسر ہے، انحراف سیاسی جماعتوں کو غیرمستحکم اور پارلیمانی جمہوریت کو ڈی ریل بھی کرسکتاہے، سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں، سیاسی جماعتوں کے حقوق کا تحفظ کسی رکن کے حقوق سے بالا ہے، منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوسکتا۔ سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کا سوال صدرمملکت کو واپس بھیج دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس میں انحراف پر نااہلی کا سوال بھی پوچھا گیا، انحراف پر نااہلی کےلئے قانون سازی کا درست وقت یہی ہے، ریفرنس میں پوچھا گیا چوتھا سوال واپس بھیجا جاتا ہے۔ جبکہ عدالت عظمیٰ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی درخواستیں خارج کردیں اور منحرف ارکا ن تاحیات نا اہلی سے بچ گئے۔صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں 58 دن زیر سماعت رہا، سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید کے دلائل سے ریفرنس کا آغاز ہوا اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کے دلائل پرلارجربینچ میں سماعت مکمل ہوئی، سیاسی جماعتوں کے وکلا نے بھی صدارتی ریفرنس میں دلائل دیے،سابقہ وفاقی حکومت نے 21 مارچ 2022 کو منحرف اراکین کے معاملے پر آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدر مملکت کا منظور کردہ ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا۔ریفرنس میں سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے بارے میں رائے لی گئی تھی۔صدارتی ریفرنس کی کاپی کے مطابق 8 صفحات پر مشتمل ریفرنس میں 21 پیراگراف تھے۔ریفرنس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 63 اے میں درج نہیں کہ ڈیفیکٹ کرنے والا رکن کتنے عرصہ کے لیے نااہل ہو گا، وفاداری تبدیل کرنے پر آرٹیکل 62 ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہونی چاہیے، ایسے ارکان پر ہمیشہ کے لیے پارلیمنٹ کے دروازے بند ہوں۔صدارتی ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ووٹ خریداری کے کلچر کو روکنے کے لیے 63 اے اور 62 ایف کی تشریح کی جائے اور منحرف ارکان کا ووٹ متنازع سمجھا جائے۔صدارتی ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نااہلی کا فیصلہ ہونے تک منحرف ووٹ گنتی میں شمار نہ کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ صدارتی ریفرنس میں قانونی سوال یا عوامی دلچسپی کے معاملے پر رائے مانگی جاسکتی ہے،یہ فیصلہ ایک تاریخی نوعیت کا ہے جو مستقبل میں جمہوری استحکام کا باعث بنے گا اور فلو ر کراسنگ کرنے والے اراکین اسمبلی کے لئے بھی ایک ضابطہ اخلاق کے طور پر کام کرے گا، ظاہر ہے کہ جب پیسے لیکر اراکین اسمبلی اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے پھرے تو معاشرے میں سیاسی عدم استحکام کا پیدا ہونا یقینی ہے جو ملک کیلئے سودمند نہیں۔
فوری الیکشن کا مطالبہ مسترد، اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ
بظاہر تو حکومت ایک دلدل میں پھنسی نظر آتی ہے کہ جس میں سے نہ وہ نکل سکتی ہے اور نہ ہی آگے بڑھ سکتی ہے کیونکہ حزب اختلاف کی جانب سے مسلسل فوری الیکشن کا مطالبہ کیاجارہا ہے ، دوسری جانب ملکی خزانہ خالی ہے ، ان حالات میں عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا حکومت کو عوام میں غیر مقبول بناسکتا ہے ، اتحادی حکومت اس کشمکش میں تھی کہ وہ اسمبلیاں توڑے، نئے انتخابات کا اعلان کرائے یا پھر اپنی مدت پورے کرے مگر گزشتہ روز کے خصوصی اجلاس میں حکومتی اتحادیوں نے وزیراعظم شہباز شریف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت کے ساتھ ہیں، معاشی استحکام کے لیے ہر فیصلے میں ساتھ ہوں گے جبکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا عمران خان کا فوری الیکشن کرانے کا مطالبہ مسترد کرتے ہیں۔ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اتحادی جماعتوں کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی اتحاد کے اجلاس میں امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن، سابق صدر آصف زرداری، ایم کیو ایم کے کنونیئر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزرا اعظم نذیرتارڑ، خواجہ آصف،سعد رفیق اورمریم اورنگزیب بھی شریک ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری قانونی رائے لی جائے اور آئندہ الیکشن کیلئے انتخابی اصلاحات جلد مکمل کی جائیں۔ذرائع کے مطابق اتحادیوں نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت کےساتھ ہیں اور معاشی استحکام کے لیے ہر فیصلے میں ساتھ ہوں گے۔اتحادیوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ معیشت کے استحکام کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔اتحادی پارٹیوں کا یہ فیصلہ ایک لحاظ سے خوش آئند بھی ہے کیونکہ نئے انتخابات کی صورت میں اربوں روپے مزید خرچ ہوں گے جس کا ملکی خزانہ اس وقت متحمل نہیں ہوسکتا ہے اور انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔