- الإعلانات -

سپہ سالار کا شہداءکو خراج تحسین

مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا اور شہادت جیسے منصب پر فائز ہونا افواج پاکستان کی ایک پرانی روایت ہے جو گزشتہ 73سالوں سے مسلسل چلی آرہی ہے ، پاکستان آرمی کے ماٹو ہے غازی یا شہید یعنی یا تو دفاع وطن کیلئے شہادت کو گلے لگالے یا پھر دشمن پر غلبہ پاکر غازی بن کر واپس لوٹو اس کے علاوہ تیسرا کوئی آپشن افواج پاکستان کے بہادر جوانوں کے پاس نہیں ہوتا، 48,65,71سیاچن اور کارگل کی جنگوں میں اپنے لہو کو اس دھرتی میں ملاکر پاک فوج کے جوان اسے زرخیز بنا چکے ہیں ، پاک فوج ملکی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی محافظ اور پاسبان ہیں اور قوم کو کسی بھی درپیش مشکل و پریشانی کے عالم میں سب سے پہلے جو ادارہ عوامی امداد کیلئے آتا ہے وہ افواج پاکستان ہے ،یہی وجہ ہے کہ 22کروڑ عوام انہیں اپنا محافظ اور پاسبان سمجھتے ہیں، افواج پاکستان اپنے شہداء، غازیوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے ، اسی حوالے سے گزشتہ روز جی ایچ کیو میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں سپہ سالار نے آپریشنز کے دوران قوم کے لیے جرات و بہادری کی داستانیں رقم کرنے والوں کو فوجی اعزازات سے نوازا۔ شہدا کی فیملیز نے بھی تقریب میں شرکت کی، 48 افسران کو ستارہ امتیاز ملٹری سے نوازا گیا جبکہ تین جونیئر کمیشنڈ افسران اور تیس سپاہیوں کو تمغہ بسالت سے نوازا گیا، سینئر فوجی افسران اور اعزازات پانے والوں کی فیملیز کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آج ہم پھر مادر وطن پر جان نچھاور کرنے والے بہادر جوانوں کی قربانی کو تسلیم کرنے، وطن کے بہادر سپوتوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، یہ پاکستان جو آج محفوظ ہے، جہاں ہم رات کو آرام سے سوتے ہیں، یہ انہی آفیسرز، جے سی اوز اور جوانوں کے خون کی قربانی کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔سپہ سالار نے مزید کہا کہ میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ہمارے اصل ہیرو ہمارے شہید ہیں، یہ ہمارے غازی ہیں اور جو قومیں اپنے شہیدوں کو یا ہیروز کو بھول جاتی ہیں، وہ مٹ جایا کرتی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ایک شہید جو ہے جب تک دنیا قائم ہے، اس کا نام ہمیشہ چمکتا رہے گا، شہید نے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنا نام کما لیا، جیسا کہ فرمایا گیا ہے کہ شہید کے خون کا قطرہ گرنے سے پہلے ہی اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔شہید نہ صرف اپنے آپ کو بخشوا لیتا ہے بلکہ اپنے ورثا کیلئے بھی جنت کے راستے کھول دیتا ہے، کوئی قوم، کوئی ملک اپنے شہدا کی قربانی کا صِلہ پیش نہیں کر سکتی، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شہدا کے ورثا کی دیکھ بھال کریں، ایک والد کیلئے، والدہ کیلئے، جب تک وہ اس دنیا میں زندہ ہیں اور جب تک وہ اس دنیا سے نہیں جاتے کوئی بھی دیکھ بھال اور کوئی بھی مراعات شہادت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، والدین مرتے دم تک اپنے شہید بچوں کو نہیں بھولتے، والدین کو اپنے شہید بیٹے ہر روز نظر آتے ہیں۔ سپہ سالار نے کہا کہ یہ ملک آپ لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے زندہ ہے اور میں آپ کو سلام پیش کرتا ہوں، آپ لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے آج پاکستان محفوظ ہے، یہ فوج ہی ہے جو صبح سے لیکر شام تک پاکستان کے ہر چپہ پر آپ کو ملے گی، کوئی حادثہ ہو فوج بتائے بغیر وہاں پر پہنچ جاتی ہے، شہدا کے ورثا کو یقین دلاتا ہوں کہ انشا اللہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ دنیا مجھے کہتی ہے کہ یہ واحد فوج ہے جس نے دہشتگردی کا خاتمہ کیا ہے، آپ نے یہ کیسے کیا، باقی ملک اس میں ناکام ہوگئے ، پاکستان میں کیا خوبی ہے کہ اس نے یہ کر دیا؟، تو میں انہیں کہتا ہوں کہ ہمارے پاس ایسی مائیں ہیں جو اپنے لخت جگر کو ملک پر قربان کرنے کے لئے تیار ہیں، ہماری ایسی بہنیں ہیں جو اپنے شوہر اور ایسے بچے ہیں جو اپنے والد اس ملک پر قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ آج کل بلوچستان میں کئی جگہ پر ہیضہ پھیلا ہوا ہے، وہاں پر پانی کی کمی ہے، میرے بتائے بغیر وہاں پر فوج پہنچ کر ان لوگوں کی خدمت کر رہی ہے، صاف پانی مہیا کر رہی ہے، ہم اپنی اس خدمت اور اس کام پر فخر محسوس کرتے ہیں۔یقینا پاکستانی عوام بھی اپنی بہادر افواج کی خدمات پر فخر کرتی ہے ، دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ کے دوران جب پاک فوج کے دستے قبائلی علاقہ جات کی طرف محو سفر تھی تو ان مقام پر ان کا ایک قافلہ کچھ اشیاءکے خریداری کیلئے رکا تو وہاں کے عوام نے پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے اور موقع پر دستیاب اشیاءبغیر کسی قیمت کے ان کے حوالے کئے ، اس موقع پر اس قافلہ کے کمانڈر عوام سے اپیل کرتے رہ گئے کہ خدارا ہمارے پاس ان اشیاءکو سنبھالنے کیلئے جگہ نہیں اور آپ لوگ ان اشیاءکی قیمتیں وصول کریں مگر وہاں موجود عوام نے قیمتیں لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں تو یہ اشیاءہماری طرف سے اپنی بہادر افواج کیلئے نذرانہ عقیدت ہے ، اس قسم کے واقعات روزمرہ زندگی میں دیکھنے میں آتے ہیں ، اس موقع پر سپہ سالار کا خطاب نہ صرف ولولہ انگیز بلکہ از حد تک جذباتی تھا ،ستر ہزار جانوں کی قربانی دے کر ملک سے دہشتگردی کے عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا پاک فوج کا ہی کارنامہ ہے جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ، سپہ سالار کا یہ کہنا کہ وقت پڑنے پر فوج اپنے ہم وطنوں کو مایوس نہیں کرے گی یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے ، آج اگر ہم اپنے گھروں میں محفوظ اور سلامت اور سکھ کی نیند سوتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری بہادر افواج ہے ورنہ ہمارا مشرقی ہمسایہ جو نہ صرف ایٹمی طاقت ہے بلکہ اسلحہ کے انبار لگائے بیٹھا ہے ہمیں کب کا ہڑپ کرچکا ہوتا مگر ہمارے جوان دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے روکے ہوئے ہیں ،ہم فقط اتنا ہی کہیں گے ”پاک فوج زندہ باد“
پولیو کا مکمل خاتمہ پاکستان کی اہم ضرورت
پولیو کو دنیا بھر میں ایک مو ذی مرض سمجھا جاتا ہے جو بچپن میں لاحق ہوتا ہے اور یہ جسمانی معذوری کا موجب بنتا ہے ، یہ قابل علاج مرض نہیں تاہم اس کی روک تھام ممکن ہے ، پاکستان میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے پولیو کا خاتمہ کردیاگیا تھا مگر گزشتہ دنوں قبائلی اضلاع میں اس کے کچھ کیسز دیکھنے میں آئے ہیں ، پولیو کے خاتمہ کیلئے مسلسل مہم چلائی جارہی ہے اور سال میں دوبار سات سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں تاکہ ان میں یہ مرض نہ پنپ سکے ،گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پولیو کا چیلنج اب بھی موجود ہے جس کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پولیو کے خاتمے کےلئے تمام اسٹیک ہولڈرز، وفاقی اداروں، صوبائی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کا کردار قابل ستائش ہے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او، بل اینڈ ملینڈا گیٹس فانڈیشن اور دیگر اداروں کے انسداد پولیو مہم میں بھرپور مدد پر ان کے شکر گزار ہیں، حکومت بین الاقوامی اداروں کی ہر ممکن مدد کرے گی۔بعد ازاں وزیر اعظم نے بچوں کو قطرے پلا کر انسداد پولیو مہم کا افتتاح کیا، یہ مہم 27 مئی تک جاری رہے گی۔پولیو کے خاتمے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا ، ماضی میں دیکھنے میں آیا کہ کچھ مخصوص مکتبہ فکر کے علماءکرام اور کچھ دیگر گروہ پولیو کے قطرے پلائے جانے کی مہم کی مخالف کرتے دکھائی دیئے بلکہ بعض علاقوں میں پولیو کے مر د و خواتین ورکروں کو اغوا کرکے انہیں شہید بھی کردیا گیا جس پر حکومت کو ان ورکروں کو مسلح سیکورٹی فراہم کرنا پڑی ، ان طبقات کو یہ بات مدنظر رکھنا چاہیے کہ علاج سنت رسول ہے اور ان پولیو کے خطرات میں کسی قسم کی کوئی مضر دوائی شامل نہیں بلکہ یہ صرف پاکستان کو محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔