- الإعلانات -

اٹھو ماں۔۔۔اماں اٹھو

اٹھو اماں ۔۔اماں اٹھو ایک ننھا بچہ زمین پر گری اپنی ماں کو پکار رہا تھا ۔ایک قیامت کا منظر تھا، اور معلوم ہے کہ قیامت شور سے برپا ہو گی،تو شور بھی قیامت ہی کا تھا۔کل شام کراچی بم دھماکے میں زمین پر پڑی ماں ایک ننھے بچے کی ماں ہی نہیں تھی کہ جسے اس کا بچہ روتے ہوئے پکار پکار کر اٹھنے کا کہہ رہا ہے ،یہ بم دھماکے میں جاں بحق ہو جانے والی ماں دراصل بدقسمت ریاست ہے ، جو عملًا مر چکی ہے ، زمین پر پڑی ہے ،لیکن پھر بھی اماں اٹھو ۔۔اٹھو اماں کی پکار جاری ہے۔میرا خیال ہے کہ سارے کام چھوڑ کر ذمہ داران کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بلا کر اندرونی سیکیورٹی کے حوالے سے سوالات پوچھنے جائیں ۔ایک طرف افغانستان کے بارڈرز پر حالت امن میں بھی ہر روز ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ ہمارے جتنے فوجی افغان بارڈر سے متصل علاقوں میں شہید ہوئے ہیں ،اتنے بھارت کے ساتھ جنگوں میں شہید نہیں ہوئے ۔تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس افغانستان کے لیے ہم نے اپنے ملک کا تیاپانچہ کر کے رکھ دیا ہے ۔جس کے لیے ہم دنیا سے بھیک مانگتے ہیں ۔ویسے ہم بھی بڑے انوکھے بھکاری ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں ایک کی بجائے دو کشکول ہوتے ہیں ،ایک میں اپنے لیے تو دوسرے کشکول میں افغانستان کے لیے بھیک مانگتے ہیں ،لیکن چونکہ ہم ایک ایٹمی ملک ہیں اور بڑے نادر سائنسدان ہماری پشت پر ہیں تو اسی وجہ سے کشکول میں گرنے والی ریزگاری ازخود ہماری جیبوں میں پہنچ جاتی ہے اور کشکول ، حسب دستور خالی رہتا ہے ۔ بہر حال اس کا مزید مطلب یہ بھی ہے کہ ہماری حکمت عملی حماقتوں اور مزید حماقتوں کے تصور پر قائم کی گئی ہے ۔دوسری طرف بلوچستان کو بھی میدان جنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے وہاں بھی جوان شہید ہو رہے ہیں اور اب اس جنگ کا سب سے خطرناک دور شروع ہوا ہے یعنی گنجان شہروں میں دہشت گرد حملے۔جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا بٹن مڑوڑ کر سلامتی کو درپیش خطرات کو سرحدوں سے اٹھا کر اندرون ملک منتقل کر دیا گیا تھا ، یعنی امریکی اتحاد کا ملازم بننے کے بعد جنرل مشرف نے اعلان کر دیا تھا کہ۔اب پاکستان کی سلامتی کو بیرون ملک سے نہیں ، اندرون ملک سے خطرہ ہے ۔وہ دن اور آج کا دن ،ہم نے اس قلعہ ریاست کو مختلف مقاصد کے لیے لڑی جانے والی جنگوں کی آماجگاہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔ہر بم دھماکہ اور سانحے میں ہونے والی ہلاکتیں خبروں کا حصہ بن کر اخباروں کی ردی میں گم ہو جاتی ہیں۔یہ کراچی شہر میں گزشتہ چار دنوں میں دوسرا بم دھماکہ ہے ۔کراچی کو امر واقعہ کے طور پر ،پاکستان کی شہ رگ کہنا چاہیے ۔ کراچی کا علاقہ کھارادر ایک گنجان آباد علاقہ ہے ۔کپڑے کی مارکیٹ کے قریب ایک پولیس وین نشانہ تھی ۔لیکن بات یہ ہے کہ سائنس کی بے تحاشا ترقی کے باوجود ابھی تک دھماکوں میں استعمال ہونے والے بموں کی آنکھیں ایجاد نہیں کی جاسکیں ۔ یہ سارے بم اپنے منصوبہ سازوں سمیت بالکل اندھے ہوتے ہیں۔اس بم دھماکے میں ایک راہ گیر خاتون جو شائد اپنے ننھے بچے کے ساتھ کوئی خریداری کر رہی تھی کہ پولیس وین کو نشانہ بنانے کے لیے رکھا گیا بم پھٹ گیا ،یہ بے گناہ خاتون اس کی زد میں آ کر سیدھی اپنے مالک کے پاس یہ شکائت لے کر چلی گئی ،کہ اس ملک میں مال کی طرح جان بھی محفوظ نہیں۔وہ اپنے مالک کو یقینا یہ بھی بتائے گی کہ اس طرح بم دھماکوں میں مرنے والی مائیں اپنی ناگہانی موت سے زیادہ اپنے ان بچوں کے لیے آزردہ ہوتی ہیں ، جنہیں اپنی باقی ماندہ ساری زندگی اپنی ماں کے بغیر گزارنی پڑے گی ۔اٹھو ماں۔۔ اماں اٹھو چلانے والی بچہ ساری زندگی اس پکار کی گونج اور الم سے آزاد نہ ہو پائے گا۔ستم ظریف حیرت سے پوچھ رہا ہے کہ ہم تو دنیا کا واحد مسلمان ایٹمی ملک ہیں ، ہماری افواج کا دنیا میں ایک نام ہے ،ہماری خفیہ ایجنسیاں زمین تو زمین ، آسمانوں کی خبر رکھتی ہیں۔پاکستان کے آسمانوں پر اب اڑتے پرندے نسبتاً کم دکھائی دیتے ہیں ، ہمارے ملک میں رواج بلکہ شائد قانون ہے کہ واردات ہو جانے کے بعد حکام بالا کی طرف سے درجہ بدرجہ رپورٹ طلب کر لی جاتی ہے۔ یہ رپورٹ بس طلب ہی کی جاتی ہے اور اس کی خبریں شائع اور نشر کی جاتی ہیں اور پھر بس ۔میں نے ایک تر دماغ بیوروکریٹ سے پوچھا کہ رپورٹ طلب کر نے والے ڈرامے کا کیا فائدہ ہوتا ہے؟ عمل پر توجہ دینے کی بجائے رپورٹ پر وقت کیوں برباد کی جاتا ہے ۔کھلکھلا کر ہنسا،اسے ہنسنا بھی چاہئیے کیونکہ پاکستان کا جو بھی بنے،بیوروکریسی کے ہاتھوں میں بنی قسمت اور دولت کی لکیریں دراز تر ہوتی جا رہی ہیں ۔ تو کہنے لگا کہ اس طرح عوام پر تاثر جاتا ہے کہ اس معاملے کو بڑی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ایسی طلب کی جانے والی رپورٹس نہ بھیجنے والے پڑھتے ہیں ،نہ منگوانے والے دیکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سلسلہ حوادث تمام نہیں ہوتا۔جن دنوں ذرا امن کا وقفہ ہو، تو سمجھ جایئے کہ دہشت گرد منصوبہ بندی اور تیاری میں مصروف ہیں۔یہ صرف دہشت گرد ہوتے ہیں جو اپنا کام پوری دلجمعی کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔وہ اڑتے پرندوں کے پر نہیں گنتے ، اپنی واردات کے نتیجے میں گرنے والی لاشوں کا شمار کرتے ہیں۔دہشت گردی کو منصوبہ بندی سے پہلے مرحلے یعنی سوچ اور تاثر کی سطح پر روکنا ہی واحد حل ہے اور یاد رکھئیے، ” ملا شور بازاری افغانستان” جب تک دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا رہے گا، پاکستان میں دھماکے ہوتے رہیں گے ، افغان سرحد سے متصل علاقوں میں فورسز پر حملے جاری رہیں گے ۔مجھے نہ سہی ، میں تو ایک بالکل ہی عام سا پاکستانی ہوں۔مگر یہ جو ایوان بالا اور ایوان زیریں ہم نے بنا رکھے ہیں ،یہ جو وزیراعظم اپنی کابینہ سمیت ہمہ وقت ایسا مزاح پیش کرنے میں مصروف رہتے ہیں ،جس پر کسی کو بھی ہنسی نہیں آتی ، ان کو تو بتا سکتے ہیں کہ ہمارے ان گنت آپریشنز، چوکسی ، افغانستان کے ساتھ ہمہ پہلو محبت کے حاصلات اور نتیجہ بم دھماکے اور پیہم دہشت گردی؟ آخر کیوں۔ کھارادر کی کپڑا مارکیٹ کے نزدیک بم دھماکے میں جاں بحق ہونےوالی ایک ماں کے ننھے بیٹے کی صدائیں پورے ملک کے لوگوں کو اداس کر رہی ہیں۔۔اماں اٹھو۔۔۔۔اٹھو اماں۔۔لیکن اس کی ماں اس ریاست کی حدود سے نکل کر ،اب ، اپنے رب کے حضور پہنچ چکی ہے ، اگر ایک بے رحمانہ دہشت گرد حملے میں جان گنوانے والی بے بس عورت کو موقع ملا تو وہ اپنے رب سے کچھ سوالات تو ضرور کرے گی۔