- الإعلانات -

میرٹ پر تعیناتیاں

وطن عزیز میں اگرچہ دیانتدار ‘ فرض شناس اور مستعد افسر و اہل کار خال خال ہی نظر آتے ہیں لیکن وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کا وجود غنیمت ہے کیونکہ وہ قابل قدر قومی اثاثہ ہیں اور اپنے فرائض منصبی خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں۔ ایسے افسران ریاستوں اور قوموں کی تعمیر میں گراں قدر خدمات انجام دیتے ہیں۔ایسے ہی ایک افسر سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب راجہ جہانگیر انور ہیں جنہیں حال ہی میں کمشنر بہاولپور ڈویڑن تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک نہایت زیرک افسر کے طور پر محکمہ اطلاعات میں ایک نئی روح پھونکی اور جس طرح محکمے کو از سر نو منظم اور فعال کیا اس سے محکمے کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہو ۔
بحیثیت سیکرٹری اطلاعات وثقافت راجہ صاحب نے پنجاب کی ثقافت اور فروغ کےلئے بہت کام کیا۔ ان کی ان تھک محنت اور اپنے کام سے لگن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ خوش اخلاق‘ خوش لباس‘ فرض شناس اور دیانت دار افیسر ہیں۔ یہ میری ذاتی رائے نہیں بلکہ یہ ان سے معاملات کرنے والے ایڈیٹروں اور صحافیوں کی آراءکانچوڑ ہے۔ راجہ جہانگیر انور پہلے افیسر ہیں جن کومالکان اخبارات کی تنظیم اے پی این ایس کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے ”حسن ِ سلوک“ پرپسندیدگی کی سند عطا کی۔انکی ح±ب الوطنی اور راست فکری کی دلیل ان کی بزمِ اقبال کے معاملات میں منصبی تقاضے سے بڑھ کر ذاتی دلچسپی ہے ۔ بزمِ اقبال صوبائی محکمہ اطلاعات کے زیر انتظام ادارہ ہے جو کافی عرصہ سے بعض مشکلات و مسائل کا شکار چلا آرہا ہے۔ یہ صورتحال ان کے علم میں لائی گئی تو انھوں نے بزمِ اقبال کو درپیش مشکلات و مسائل کو دور کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات کیے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ حکومت پنجا ب نے فکر اقبال کو فروغ دینے کےلئے رواں سال کو اقبال کا سال منانے کا جو فیصلہ کیا وہ ان کا خصوصی کارنامہ تھا۔ اس سلسلے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ نہایت فعال، مستعد اور دیانتدار افسر ہیں جو پنجاب کی ثقافت اور ثقافتی معیشت کو فروغ دینے کےلئے دن رات کوشاں رہے ہیں۔ راقم الحروف کا ان سے بہت دیرینہ تعلق رہا ہے ۔بزم اقبال کے معاملات میں انہوں نے ہمیشہ شفقت کا اظہار کیا اور مالی معاملات میں بھی ادارے کی بہت مدد کی۔ ان کی نرم لب ولہجہ، پرتاثیر گفتگو اور شیریں بیانی کا ہر شخص معترف ہے۔ بزم اقبال کے زیر اہتمام جشن خودی کی تقریب کے شاندار انعقاد کا سہرابھی ان کے سر جاتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ دن رات کوشاں رہے اور تقریب کے شاندر انعقاد کےلئے ہر روز اجلاس میںمتعلقہ اداروں کوہدایات دیتے اوراپنی زیر نگرانی کام کرواتے۔
انہوں نے بزم اقبال لاہور کو اس سلسلے میں 10 لاکھ روپے کے فنڈز بھی دیئے۔ ان کی خواہش تھی کہ چونکہ 2022 اقبال کا سال ہے تو بزم اقبال پنجاب کے دیگر شہروں میں خصوصی پنجاب کی نو آرٹس کونسلوں میں فکر اقبال کے فروغ کےلئے تقریبات کا انعقاد کرے اور اس سلسلے میں انہوں نے فنڈز فراہم کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ یہ کریڈٹ بھی ان کوجاتا ہے کہ انہوں نے انتہائی محنت اور لگن سے پنجاب کی پہلی ثقافتی پالیسی تیار کی۔
اس پالیسی کا مقصد صوبے بھر میں فن و ثقافت کی ترویج و ترقی کےلئے صوبائی حکومت کے متعلقہ اداروں کو مستحکم کرنا، ثقافتی سرگرمیوں، تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے صوبہ میں رواداری اور امن کا فروغ، روایتی مقامی فنون و مہارات اور ثقافتی ورثے کی حفاظت ترجمانی اور ترویج، صوبہ بھر میں منعقدہ ثقافتی سرگرمیوں میں مختلف شعبہ جات سے متعلق افراد خصوصاً نوجوانوں کی شرکت یقینی بنانا، تخلیقی و ثقافتی صنعت کی ترقی کےلئے سازگار ماحول مہیا کرنا ہے ۔ وہ ثقافت کے فروغ کےلئے دل و جان سے کوشاں ہیں۔ ان کی یہ کاوش آئندہ نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب انتہائی خوش قسمت ہے کہ اسے ان جیسا مہذب، خوش اسلوب، خوش خلق اور شائستہ سیکرٹری ملا۔ راجہ صاحب انتہائی ملنسار اور مشفقانہ مزاج رکھتے ہیں۔ دھیمے لہجے میں بات کرکے لوگوں کے دل ہی موہ لیتے ہیں۔ اپنی اسی عادت کے باعث وہ ہر دلعزیز بھی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ بحیثیت کمشنر بہاولپور وہ انتہائی ذمہ دار منتظم کے طورپر سامنے آئیں گے۔ اپنی خوش گفتاری اور شفیق طبیعت کے باعث اہل بہاولپور کو بھی اپنا گرویدہ بنا لیں گے۔