- الإعلانات -

یواے ای کے صدر کے انتقال کا سانحہ ارتحال

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید النہیان کے انتقال کی خبر دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں میں نہایت دکھ اور صدمے کے ساتھ سنی ، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے شہریوں نے اس خبر کا صدمہ تقریباً یکساں طور پر جھیلا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ پاکستانی عوام کوان کی وفات کا صدمہ قدرے زیادہ محسوس ہوا اس لئے کہ وہ پاکستان کے دوست ، بھائی اور محسنین میں شامل تھے ، وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر تصور کرتے تھے ، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوستی کی بنیاد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شہید نے یو اے ای کے پہلے صدر اور بانی شیخ زید بن سلطان النہیان کے ساتھ مل کر رکھی ، اس دور میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے امارات ایئر لائن بنانے کا مشورہ شیخ کو دیا اور انہوں نے اس پر عمل کر دکھایا ، ابتدائی طور پر پاکستانی پائلٹوں نے جاکر اس ایئر لائن کی بنیاد رکھی اور اسے کامیاب کرکے دکھایا ، آج یہ ایئر لائن دنیا کی نمبر ون ایئر لائن تسلیم کی جاتی ہے اور اس کی فلیٹ میں 600سے زائد جدید ترین طیارے موجود ہیں جو دنیا بھر کے تمام ممالک کے درمیان ایک رابطے اور پل کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ، اس کے بدلے میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کیلئے عرب امارات کو ہوم اسٹیشن کا درجہ دے دیا جس کے نتیجے میں یہ واحد ایئر لائن ہے جس سے لینڈنگ چارجز وصول نہیں کئے جاتے ، شیخ زید بن سلطان النہیان مرحوم نے اپنی پاکستان دوستی کے بدلے میں لاکھوں پاکستانیوں کو اپنے ملک میں روزگار کے مواقع فراہم کئے جس کے نتیجے میں ان پاکستانیوں نے زرمبادلہ کے ذخائر بجھواکر پاکستانی معیشت کو مضبوط کرنے میں مدد دی ، لاہور میں دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف شیخ زید ہسپتال اور رحیم یار خان کا ایئر پورٹ بانی صدر کی پاکستان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے ، اسی محبت کو ان کے مرحوم صاحبزادے شیخ خلیفہ بن زاید نے مزید آگے بڑھایا اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور مدد کی ، 2011میں آنے والے سیلاب کے بعد تعمیر وترقی کیلئے انہوں نے ایک خصوصی امدادی پروگرام شروع کیا جس کے نتیجے میں متاثرہ علاقوں کی عوام کی بھر پور مدد کی گئی ، ان کی رہائش کے لئے کالونیاں بنائی گئی ، انہیں غذائی اجناس تک فراہم کی گئی اور اس سے قبل جنرل پرویز مشرف کے دور میں آنے والے شدید زلزلے کے بعدتعمیر وترقی کے کاموں میں بھی مرحوم صدر نے اپنے ملک کی جانب سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ، آزاد کشمیر میں ہسپتال ،پل اور تعلیمی ادارے قائم کئے ، صوبہ خیبر پختونخوا کے اندر بے پناہ ترقیاتی کام کرائے ، 2011سے لیکر 2017تک پاکستان کے اندر 165منصوبوں کی تکمیل کیلئے 42کروڑ ڈالر خرچ کئے جبکہ 2019 میں اسی پروجیکٹ کے تحت 40 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 20کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کی ، 2014میں پولیو ویکسی نیشن کیلئے بھی بھرپور مالی مدد فراہم کی ، زلزلہ کے دوران صرف بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی کیلئے 10کروڑ ڈالر کی مدد کا اعلان کیا ، یہ تمام اقدامات ان کی پاکستان سے محبت اور دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، ان کی رحلت کا دکھ خیبر سے کراچی تک جھونپڑیوں میں بسنے والے غریب عوام سے لیکر عالی شان بنگلات میں مقیم پاکستانیوں نے دلی طور پر محسوس کیا اور افسردہ نظر آئے ، پاکستان کی تمام مساجد میں ان کی بلندی درجات اور مغفرت کیلئے اجتماعی دعائیںکی گئیں ، یہ سب ا ن کی محبت کا نتیجہ ہے ، گوکہ دکھ بہت بڑا ہے مگر پاکستانی عوام اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ان کے بعد منتخب ہونے والے نئے صدر شیخ محمد بن زید النہیان بھی پاکستانی عشق میںمبتلا ہے اور وہ اپنے عظیم والد کے روایات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ، چونکہ پاکستان کی معیشت قرضوں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہمیں مختلف عالمی اداروں کی ماہانہ اقساط کی ادائیگی کرنا ہوتی ہے تو دوتین مواقع پر ان اداروں کو بروقت ادائیگی کیلئے شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ان اقساط کی ادائیگی بھی کی جبکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستانی معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے پاکستانی سٹیٹ بینک کو دو ارب ڈالر کا بلاسود قرضہ بھی دیا جس سے ہماری معیشت قدرے سنبھالا ملا ، میں سمجھتاہوں کہ ہز ہائینس شیخ محمد زاید النہیان اپنے مرحوم والد اور مرحوم بھائی کی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے پاکستانی عوام کی مدد جاری رکھیں گے اور نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کی سرپرستی کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے ، اللہ پاک ان کا حامی و ناصر ہو۔