- الإعلانات -

درآمد ی اشیاءپر پابندی کا فیصلہ طویل المدت ہونا چاہیے

کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے کے مصداق بالاخر حکومت نے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے ، یہ پابندی ابتدائی طور پر تین ماہ کیلئے لگائی گئی ہے جس کا مقصد ملک کی تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینا ہے ، کاش یہ فیصلہ تیس سال پہلے کرلیا جاتا تو آج ملک کی معاشی صورتحال اس نوبت تک نہ پہنچتی اور ہم دنیا میں کشکول اٹھائے نہ پھرتے ، یہ سخت اقدام ماضی کی حکومتوں کو اٹھانا چاہیے تھا تو آج ہمیں اس نوبت کو نہ پہنچتے ، ہمارے مشرقی ہمسایہ ملک میں درآمدی اشیاءپر نصف صدی تک پابندی رہی جس کی بدولت ان کی معیشت مضبوط ترین حالت تک پہنچ گئی ، یہ ملک سوئی سے لیکر جہاز تک اب خود بنانے کے پوزیشن میں ہے ، اس ملک نے باہر سے درآمد کردہ گاڑیوں پر مسلسل پابندی عائد کی رکھی جس کی بنیاد پر ان کی مقامی آٹو موبائل کی صنعت اس قدر ترقی کرگئی کہ آج ان کی تیار کردہ گاڑیاں ، ٹرک ، ملائشیاء، انڈونیشیاء، تھائی لینڈ ، برما ، نیپا ل ، سری لنکااور بوٹان کی سڑکوں پر دوڑتی دکھائی دے رہی ہیں اور اس کے بدلے میں یہ ملک زرعی مبادلہ کے مد میں اربوں روپے سالانہ کمارہا ہے ، اگر اس کے مقابلے میں وطن عزیز کی صورتحال کا موازنہ کرے تو یہاں پر سوئی سے لیکر جہاز تک بیرون ملک سے درآمد کئے جاتے ہیں ، یہاں پر قیمتی موبائل ، گھڑیاں ، پرفیوم ، کٹلری، کراکری ، باتھ روم کے اندر لگنے والا سامان تک بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے ، جس کے نتیجے میں قیمتی زرمبادلہ بیرون ملک چلا جاتا ہے اور ملکی خزانہ زرمبادلہ بچا نہیں پاتا ،ہم ان اشیاءکے استعمال میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ریاست کو اس کی کیا قیمت چکانا پڑتی ہے اور کس قدر زرمبادلہ ہم ان فضول اشیاءکی خریداری میں ضائع کربیٹھے ہیں ، پڑوسی ملک بھارت کے سینئر سیاستدان لالو پرشاد یادیو جب 2007میں پاکستان کے دورہ پر آئے تو صحافیوں سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات تو دونوں ممالک میں یکساں ہیں مگر آپ کے سیاستدان ہم سے قدرے بڑھ کر بددیانت ہے کیونکہ جب ہمار ے وزیر خزانہ اور دیگر وزرا ءدیگر ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے کرتے ہیں تو ان کا زور قیمتوں کی کمی پر ہوتا ہے اور بعد میں وہ اپنے کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں جبکہ آپ کے سیاستدان پہلے اپنے کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور بعد میں قیمتوں کا تعین کرتے ہیں ، ان کا یہ فعل قوم کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے مترادف ہوتا ہے ، بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ،اگر تیس سال پہلے یہ سخت فیصلہ کرلیا جاتا اور دس سال یا بیس سال کیلئے غیر ضروری امپورٹ آئٹمز پر پابندی لگا دی جاتی تو ہماری مقامی صنعت تباہی سے دوچار نہ ہوتی اور ہمارے سرمایہ دار بنگلہ دیش ، سری لنکا اور ملائشیا جیسے ممالک میں کارخانے لگانے پر مجبور نہ ہوتے ، گزشتہ روز حکومت نے تین ماہ کیلئے کچھ امپورٹڈ آئٹمز پر پابندی کا نفاذ کرکے ایک اچھا اور مستحسن فیصلہ کیا ہے ، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ لوگ جو صبح، دوپہر اور شام ملکی معیشت پر سوال اٹھا رہے ہیں، ان پر عمران خان نے خود اعتماد نہیں کیا۔وزیراطلاعات نے کہا کہ اسد عمر کو عمران خان نے ایک دن میں دو دو مرتبہ وزارت دے کر تبدیل کی گئی، ہر روز وزیرخزانہ بدلا جاتا تھا اور آج وہی لوگ دوسروں پر معیشت کا سوال کرتے ہیں، اب ایک معاشی منصوبے کے ذریعے، جس کے ذریعے بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہو اور ملک کے اندر ایسے مالی انتظامات کیے جائیں، اس کے لیے ایک مکمل منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ تمام غیرضروری لگژری اشیا کی درآمدات پر پابندی لگائی جارہی ہے، تمام وہ اشیا جو عام عوام کے استعمال میں نہیں ہیں اور جنہیں غیرضروری اشیا کہا جاتا ہے، ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے،اس میں کھانے کی اشیا، تزئین و آرائش کی تمام اشیا اور تمام امپورٹڈ گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، اس کا غیرملکی ذخائر پر فوری اثر پڑے گا،سالانہ ان تمام چیزوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ 6ارب ڈالر کا اثر پڑے گا، اولین ترجیح درآمدات پر جو انحصار پر اس کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات سے متعلق معاشی پالیسی متعارف کروائی جارہی ہے، اس سے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوگا، مقامی سطح پر تیار ہونے والی صارفین کی اشیا کے استعمال میں اضافہ ہوگا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ اس اقدام سے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوں گے، بڑی گاڑیوں، برآمدی موبائل، کراکری، شوز، لائٹننگ، ڈیکوریشن، فروٹ، گوشت کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی جارہی ہے، فش اور فروزن فوڈ، کارپٹ، ٹشو پیپرز درآمد کو بھی بند کیا جارہا ہے،بیکری کے امپورٹڈ سامان پر پابندی لگادی گئی ہے، جام جیلی، باتھ روم کا سامان ٹائلز پر پابندی عائد کی جارہی ہے، چاکلیٹ کی درآمد پر پابندی لگادی گئی ہے، یہ سب مالیاتی منیجمنٹ کے اقدامات ہیں تاکہ صورتحال بہتر ہو۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پٹرولیم اور انرجی پرائسز پر بھی کام ہورہا ہے، پٹرولیم پرائسز کو روک کر معیشت پر بوجھ ڈالا گیا، ہماری کوشش ہے عام آدمی پر بوجھ نہ ڈالا جائے، شہبازشریف دن رات عوام کوریلیف دینے کے لیے کوششیں کررہے ہیں، ہمارے اکنامک پلان کی آج شروعات ہے، اس عمل کو مستقبل بنیادوں پر جاری رکھا جانا چاہیے اور بیرون ملک سے درآمد کی جانے قیمتی گاڑیوں پر مستقل پابندی کا نفاذ کیا جانا چاہیے اور مقامی سطح پر تیار کی جانے والی 1600سی سی تک کی گاڑیوں کی استعمال کو عام کیا جانا چاہیے ، اس کے ساتھ ساتھ افسران کو دی جانے والی گاڑیوں کے استعمال پر بھی پابندی عائد ہونا چاہیے ، ادویات اور سرجیکل آئٹمز کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والی تمام اشیاءپر اگر آئندہ دس سال تک پابندی عائد کردی جائے تو اس سے ہم قیمتی زرمبادلہ بچانے میں کامیاب ہوسکیں گے جو ملک کے مستقبل کیلئے ایک ضروری اقدام ہے ۔
وزیر خارجہ کا سابقہ حکومت کا دفاع ،سیاسی پختہ نظری کا ثبوت
پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران جس طرح ریاستی پالیسیوں کا دفاع کیا ہے وہ ایک خوش آئند اور تاریخی اقدام ہے ، انہوں نے بین الاقوامی فورم پر کھڑے ہوکر اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح سابق وزیر اعظم کے دورہ روس کا دفاع کیا ہے اس کی مثال گزشتہ چار سالوں میں نہیں ملتی ، سابقہ دور حکومت میں وزیر اعظم اور ان کے وزراءجب بیرون ملک دورے کیا کرتے تو وہاں کھڑے ہو کر بھی وہ ملک کے اندر اپنے سیاسی مخالفین کو للکارتے نظر آتے تھے ، اس اقدام سے جہاں ملک کی جگ ہنسائی ہوتی تھی اس کے ساتھ ساتھ ا ن کی سیاسی طور پر پختہ نظری کا بھی فقدان نظر آتا تھا ،وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے خارجہ پالیسی کے تحت روس کا دورہ کیا، ان کے دورے کا دفاع کرتا ہوں۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم سب کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتے ہیں کوئی ہمارا دشمن نہیں، ایڈ نہیں ٹریڈ یہ ہماری وزارت خارجہ کی ترجیح ہے، ہم جنگ دیکھ دیکھ کر تھگ گئے ہیں، جنگوں میں ہمارے بچے، خواتین شہید ہوئے ہیں، ہم سمجھتے ہیں جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کی خارجہ پالیسی تبدیل ہے، بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، ہم سب کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں کوئی ہمارا دشمن نہیں ہے۔عمران خان کے دورہ روس سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سیاسی طور پر پاکستان میں اختلافات ہو سکتے ہیں، سابق وزیراعظم نے دورہ ماسکو خارجہ پالیسی کے تحت کیا، ان کے دورے کا دفاع کرتا ہوں۔ دورہ روس پر پاکستان کو قصور وار ٹھہرانا غلط ہو گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ بلاول نے اس دورہ کے دوران ثابت کیا کہ وہ ایک آزاد ملک کے وزیر خارجہ ہے ، ان کا یہ اقدام خوش آئند ہے۔