- الإعلانات -

خادم اعلیٰ متوجہ ہوں

uzairahmedkhanاس ملک کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ 1947ءمیں جب یہ ملک معرض وجود میں آیا اس کے بعد سے لیکر آج تک یہاں کی عوام بنیادی حقوق سے عاری ہے ۔اس جانب آج تک کسی نے توجہ ہی نہ دی نہ اس طرح تعلیم کی سہولیات میسر ہیں اورنہ ہی صحت کی ۔زندگی تو اتنی ارزاں ہے کہ جیسے کوئی چیونٹی مرگئی اسی طرح یہاں کوئی انسان مر گیا ۔دونوں برابر ہیں کسی کی کوئی قدر نہیںقدر صرف ان کی ہے جو بااختیار لوگ ہیں ،قانون بھی ان کے گھر کی باندھی بنا ہوا ہے کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا ۔اختیارات کی بھی عجیب وغریب تقسیم ہے ،خادم اعلیٰ کچھ آرڈردیتے ہیں اورنیچے عملہ اسے اس طرح ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے کہ جیسے اس کا کوئی اثر ہی نہیں ۔بہت زیادہ دورجانے کی ضرورت نہیںادویات کے مسائل تو یہاں آئے دن جاری رہتے ہیں ۔بیرونی دنیامیں اگردیکھا جائے تو اگرکوئی صحت کے حوالے سے کسی جرم میں پکڑا جائے تو یقینی طور پر اس کیلئے اتنے کڑے قوانین ہیں کہ آنیوالی نسلیں بھی کان پکڑ لیتی ہیں کہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا جس سے انسانی زندگیوں سے کھیلا جائے ۔مگر ہمارا تو ایسا نظام ہے جس کو جتنی داد دی جائے اتنی ہی کم ہے ۔پہلے تو لوگ ڈینگی سے مرتے رہے ،کیس نکلتے رہے ،کبھی کہیں ڈینگی ،کبھی کہیں ڈینگی ،اس نے ایسا قوم کو ”ڈنگا“ کہ شاید حکمرانوںنے بھی نہ ڈنگا ہوگا۔میڈیا نے خوب شورمچایا ،پھر مہم چلائی ،اشتہارات چلے کہ کیسے ڈینگی سے بچاﺅ کیاجائے ۔یہ زیادہ دورکی نہیں ماضی قریب ہی کی باتیں ہیں اس مرتبہ پھر موسم آنا شروع ہوا تو پنجاب حکومت نے ڈینگی سپرے کا اہتمام کیا ،یقینی طورپر یہ خادم اعلیٰ پنجاب کاایک احسن اقدام تھا مگر حیف ہے ان کے نیچے کام کرنیوالے عملے پر کہ جس نے شاید چند ٹکوں کی خاطر طالبات کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ۔واقعہ کچھ اس طرح رونما ہوا کہ جنڈ میں ڈینگی کیخلاف سپرے ہوا اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سپرے کیسا تھا ۔شاید مچھر تو اس سے نہ ہی مرا ہو ۔طالبات کومارنے کی مہم خوب چلی ۔کلاسوں میں بیٹھی ہوئی معصوم بچیاں سانس لینے میں شدید تکلیف محسوس کرنے لگیں ۔انہیں ہسپتال لے جایا گیا میڈیا میں واضح طور پر دکھایا گیا کہ بچیاں نڈھال تھیں اور وقفے وقفے کے بعد جھٹکے لے رہی تھیں ۔میڈیکل کی سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر تھیں ۔خادم اعلیٰ پنجاب نے ا یک دم آرڈر صادر کیے کہ طبی سہولیات فی الفور پہنچائی جائیں کچھ کو ملیں اور کچھ بے چاری اسی طرح خوار ہوتی رہیں ۔ابھی اس ڈینگی سپرے کا اثر ختم بھی نہ ہوا تھا کہ پھر یہی سانحہ جہلم میں رونما ہوا وہاں پر بھی سپرے کیا گیا اورپھر حالت وہی جو کہ جنڈ میں بچیوں کی ہوئی ۔خادم اعلیٰ نے سوچا یہ تو شاید کوئی بڑا ہی ہاتھ ہوگیا انہوں نے متعلقہ حکام کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے مگر شاید ان کے احکام میںاتنا زور نہیں تھا یا پھر پنجاب کے معاملات پر اب قابو کھوچکے ہیں ۔نہ کوئی معطل ہوا اور نہ ہی کسی حکم پر عمل ہوا ۔ایسا لگتا ہے جیسے پنجاب میں جنگل کا قانون ہے ۔خادم اعلیٰ سے آج قوم یہ سوال پوچھنے کیلئے حق بجانب ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی طالبہ کی اس سپرے کی وجہ سے زندگی چلی جاتی ہے یا وہ کسی دائمی مرض کا شکار ہوجاتی ہیں تو کیا صرف ان متعلقہ افسران کو معطل کرنے سے جو کہ معطل بھی نہیں ہوئے ۔ان والدین کے زخموں کا مداوا ہوجائیگا ۔دراصل ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس ڈینگی سپرے کا آغاز جناب خادم اعلیٰ کی رہائشگاہ سے ہوتا پھر آج جو عوام مشکلات سہ رہی ہے تو پھر انہیں پتہ چلتا کہ کیا اس میں وہی متعلقہ ادویات یا اس سے متعلقہ فارمولا استعمال کیا گیا ہے جو کہ ڈینگی کے خاتمے کیلئے مفید ثابت ہوتا ہے یا کوئی ایسی ادویات استعمال کی گئیں جس سے انسان کے پھیپھڑے متاثر ہوں،سانس لینے میںتکلیف ہو،جھٹکے لگیں ،سپرے ابھی موجود ہے ۔اتنے دن گزرنے کے باوجود تحقیقات سامنے نہیں آئیں اب صرف معطلی سے کام نہیں چل سکتا۔وزیراعلیٰ بذات خود جنڈ اورجہلم میں تشریف کا ٹوکرا لیکر آئیں اور ایک مرتبہ جیسا کہ ماضی میں انہوں نے ایک ایس ایچ او کو موقع پر ہتھکڑی لگوائی تھی ۔اسی طرح وہاں بیٹھ کربھی جزا اورسزا دیں ۔ان لوگوں کو جو کہ اس گھناﺅنے جرم میں شامل ہیں سرعام عبرت کا نشان بنایا جائے ۔تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت کرنے کی جسارت نہ کرسکے ۔یہ بھی ہمارے نظام کا ایک اورالمیہ ہے کہ یہاں احکامات بھی افسر در افسر چلتے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے احکامات دے دئیے آگے ان کے منشی نے احکامات صادر کردئیے ۔منشی در منشی معاملات چلتے چلتے ہوا کی نظر ہوجاتے ہیں ۔وہ تو اللہ تعالیٰ کا شکرہے کہ اس وقت میڈیا اتنا تیز ہوچکا ہے کہ وہ لمحے لمحے بھر کی خبریں سکرین پر اوراخبارات کے صفحات پر پھیلاتا رہتا ہے ۔مگر یہ ساری چیزیں دیکھ کر بھی خادم اعلیٰ کو کوئی ہوش نہیں آیا ۔جناب یہ سیاست اور اقتدار اسی وقت تک قائم رہتے ہیں جب تک عوام کو آپ تحفظ فراہم کرتے رہیں ۔لیکن جب سپرے کے ذریعے ہی عوام کو بلکہ نوجوان نسل کو ختم کرنے کی ٹھان لی جائے تو اس کے ذمہ دار کون ہیں ۔یہ ان خود کش دھماکوں ،حملوں اوردہشتگردی سے بھی بڑی دہشتگردی ہے کہ حکومت پنجاب کی چھتری تلے ایسا زہریلا سپرے کیا جارہا ہے جس سے نوجوان نسل متاثر ہورہی ہے ۔وزیراعلیٰ صاحب آپ نے جو نوٹس لیا ہے ذرا اس پر ازراہ کرم غور فرمائیں کہ وہ کونسی قوتیں جنہوں نے آپ کے احکامات کو دھول میں اڑا دیا ۔ان مکروہ چہروں کو فی الفور واشگاف کریں ۔