- الإعلانات -

بھارتی کینگرو کورٹ کا متعصبانہ فیصلہ

بھارتی عدالت نے ایک اور متعصبانہ فیصلہ سناتے ہوئے حریت رہنما یاسین ملک کو جھوٹے کیس میں مجرم قرار دیا ہے۔یاسین ملک پر بھارت کے خلاف مجرمانہ سازش کرنے، بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے کا الزام ہے۔ عدالت نے یاسین ملک کو حریت پسند سرگرمیوں سے متعلق ایک جعلی مقدمے میں قصوروار ٹھہرایا اور یاسین ملک سے ان کے مالیاتی تخمینہ سے متعلق حلف نامہ بھی طلب کیا۔ فاروق احمد ڈار، شبیر شاہ، مسرت عالم سمیت دیگر کشمیری حریت رہنماو¿ں پر بھی فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ یاسین ملک نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے اسے بھارتی حکومت کی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ یاسین ملک گزشتہ 3 سال سے بھارت کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ بھارتی فورسز اور جیل حکام کے بدترین تشدد کے باعث یاسین ملک کی صحت تشویشناک حد تک خراب ہوچکی ہے اور انہیں جیل میں علاج کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جاتی۔پاکستان پہلے ہی بھارت سے یاسین ملک کیخلاف جھوٹا کیس ختم کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔ مشیر برائے امور کشمیر چوہدری قمر زمان کائرہ نے یاسین ملک کا موقف سنے بغیربھارت عدالت کی جانب سے سزا دینے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک دہشت گرد نہیں وہ مظلوم کشمیریوں کی حق خودارادیت کےلئے جدوجہد کررہے تھے جس کی وجہ سے وہ آج بھی قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ یاسین ملک تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو ہیں۔ فاشسٹ نریندر مودی حکومت کے اس غیر جمہوری اقدام سے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک مزید تیز ہوگی۔ دنیا بھر میں کشمیریوں اور پاکستانیوں نے بھارت میں ایک ’کینگرو کورٹ‘ کے ذریعے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک کے یکطرفہ ٹرائل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یٰسین ملک کو بدنام زمانہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے دائر دہشت گردی کے من گھڑت اور سیاسی طور پر محرک مقدمے میں جرم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔یٰسین ملک آزادی کےلئے جدوجہد کرنے والے انسان ہیں اور آزادی کی جدوجہد کوئی جرم نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارتی حکومت انہیں جھوٹے الزامات میں سزائے موت دے سکتی ہے۔ یٰسین ملک کے منصفانہ ٹرائل سے انکار نریندر مودی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کے کہنے پر ان کے خلاف سیاسی انتقام کا ایک اور واضح مظہر ہے جس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر متنازع ریاست جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے لوگوں کی سب سے طاقتور اور مقبول آواز کو خاموش کرنا ہے۔ 22 فروری 2019 کو یٰسین ملک نے اپنی گرفتاری اور خاص طور پر 10 مئی 2019 کو نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ان کی منتقلی کے بعد جے کے ایل ایف کے سربراہ نے ان من گھڑت مقدمات نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور غیر منصفانہ اور متعصب عدالتی کارروائیوں اور بھارتی حکومت کے ناپاک عزائم کے پیش نظر احتجاجاً اپنا دفاعی وکیل واپس لے لیا تھا۔یٰسین ملک بلاشبہ ایک کشمیری رہنما ہیں اور برسوں سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ہیں، مودی حکومت انہیں پھانسی دینے کے لیے جھوٹی بنیادیں تیار کر رہی ہے جیسا کہ مقبول بھٹ اور افضل گرو کے معاملے میں کیا گیا تھا۔کشمیری اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک انہیں اقوام متحدہ کے وعدے کے مطابق حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا۔آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم نے کہا کہ ’یٰسین ملک ایک سیاسی قیدی اور تحریک آزادی کے رہنما ہیں جو کشمیریوں کی آزادی کے منصفانہ مقصد کی پرامن طور پر حمایت کر رہے ہیں جس طرح مہاتما گاندھی اور نہرو نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی‘۔بھارتی میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کےلئے مناسب جواب دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے آزادی کے حامی سوشل میڈیا صارفین سے کہا کہ بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کی تائید سے گریز کریں ۔ موجودہ حالات میں مودی سرکار کیلئے مقبوضہ کشمیر میں حالات پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔ بھارت کے اندر بھی بغاوت بڑھتی جارہی ہے اور آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم کی پردہ پوشی میں کامیاب ہے مگر بھارت کے اندر ریاستی دہشت گردی پوری دنیا پر عیاں ہورہی ہے۔ مودی سرکار عوام کی توجہ حقائق سے ہٹانے کیلئے پاکستان کیخلاف کوئی بھی مہم جوئی کرسکتی ہے جس کیلئے پاکستان کے گھوڑے ہمہ وقت تیار ہیں۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر مخدوش صورتحال سے آگاہ ہے۔ مگر افسوس اسکی طرف سے بھارتی حکومت کے رویوں پر صرف تشویش کا اظہار اور مذمت کی جارہی ہے۔ عملی طور پر بھارتی مظالم کے آ گے بند باندھنے کی جرات کوئی نہیں کررہا۔ ضرورت مودی سرکار کے جنونی اقدام کو لگام دینے کی ہے‘ اسکی خاطر اب عملیت کی طرف آنا ہوگا ورنہ بھارت جس راستے پر چل نکلا ہے‘ وہ سراسر تباہی کی طرف جاتا ہے۔آج بھارت میں بغاوت کی سی کیفیت ہے۔ کشمیر کی طرح بھارت میں بھی مظاہروں میں تیزی آرہی ہے۔