- الإعلانات -

جائیں تو جائیں کہاں

توپ اور ترازو دونوں کامختصر تعارف یہ کہ کسی زمانے میں توپ سے گولہ دشمن پر پھنکا جاتا تھا مگر اب نہیں،اسی طرح ترازو سے ہر چیز تولی جاتی تھی ۔مگر اب نہیں ۔ توپ کسی معزز مہمان کی آمد پر سلامی دینے کے کام آتی ہے ۔بچپن میں طوطے کو توپ چلاتے دیکھا کرتے تھے ۔ اب تو کسی چھاونی سے گزریںتو توپ دیکھ سکتے ہیں ۔ اب تو توپ چلانے والے طوطے بھی نہیں رہے ۔ ماضی میں ترازو کو بچہ بچہ جانتا تھا کہ یہ تولنے کا ایک آلہ ہے ۔ جس میں آلو ٹینڈے پیاز ،تربوز تولا کرتے تھے ۔ اب ہر تبدیلی میں ترازو اور توپ کا اہم رول ہے۔ مشہورقصہ ہے دو بلیوں کی روٹی کے چند ٹکروں پر جھگڑا ہو گیا ۔جنگل میںایک جنگلی بزرگ ترازو اٹھا کر لے آیا تھا ۔جانوروں نے کہا لڑوں نہیں ان کے پاس ترازو ہے وہ آپ کو برابر کا حصہ تقسیم کر دے گا ۔ بلیاں یہ روٹیوں کے ٹکڑے لے کر اس کے پاس پہنچیں تو وہ ترا زو کے دونوں پلڑو ں پر روٹی کے ٹکڑے رکھتا ۔جس پلڑے کا جھکاﺅں زیادہ ہوتا اس میں اٹھا کر خود کھاجاتا ۔
ساتھ کہتا گھبرانا نہیں برابر تول کر آپ کا حصہ آپ کو دونگا ۔مگرروٹیاں تو اس کے کھانے سے ختم ہو گئی اور انہیں انصاف نہ ملا۔یوں بلیاں اس کی ہوشیاریوں کا شکار ہو گئیں یہ تماشہ ایک بندر بھی دیکھ رہا تھا۔جنگل کے اس بزرگ جیسے کام اب شہروں میں عام انسان کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ایک روز مداری بندر کا تماشا دکھانے سائیکل پر شہر میں انصاف کی بلڈنگ کے سامنے سے گزر رہا تھا ۔بندر کی نظر جب بلڈنگ پر لگے ترازو پر پڑی تو اچھل پڑا ۔ شائداسے وہ بزرگ یاد آ گیا ہو ۔بندر کے مالک نے کہا یہاں شور کرنا منع ہے لیکن بندر ترازو کی جانب جانا چاہتا تھا ۔بندر کے مالک نے اسے سمجھایا مگر وہ مطمئن نہ ہوا ۔ پاس سے گزرتے ایک وکیل کو بندر نے پکڑ لیا ۔کہا یہ ترازو تو وہی ہے جس میں ہمارے جنگل کے ایک بزرگ نے انصاف دینے کےلئے استعمال کیا تھا ۔ بندر کے مالک نے بندر کو خاموش رہنے کو کہا اور خود وکیل سے پوچھا کیا یہ بلڈنگ شاپنگ مال ہے ۔ یہاںترازو کیوں لگا رکھا ہے ۔ وکیل نے جواب دیا کہ اس ترازو کا تمہارے بزرگ کی کہانی سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ ظاہرکرتا ہے کہ یہاں کوئی شاپنگ مال ہے ۔بندر کے مالک نے کہا پھر یہ رش یہاں کیسا ۔کہا اس لئے کہ یہاں عوام کو انصاف لینے کےلئے یہی آناپڑتا ہے ۔ کیسوں کے انبار ہیں ۔پوچھا یہاں انصاف کیا تول کر ملتا ہے ۔کہا نہیں یہاں انصاف قانون اور آئین کے مطابق دیا جاتا ہے ۔ وکیل کے منشی نے کہا رش کی وجہ سے یہاں انصاف مرنے کے بعد بھی ملتا ہے۔یہاں انصاف انہیں بھی ملتا ہے جو انصاف لینے آتے نہیں ۔ بندر آج اس جگہ پر پہنچ کر بہت خوش تھا ۔شائد اس لئے کہ اسے آج اس بزرگ کا ترازو ہاتھ لگ چکا تھا ۔اس روز اس بلڈنگ میں رش بھی زیادہ تھا۔ بندر کے مالک نے کہا اس ترازو کو لگانے کی وجہ میں سمجھ نہیں سکا ۔کیا عدالت کا نام ہی کافی نہیں تھا ۔وکیل نے کہا میں بھی جب بچوں کو یہ بلڈنگ دکھانے پہلی بارلایا تھا تو انہوں نے بھی یہی پوچھا تھا کہ کیا یہاں انصاف تول کر دیا جاتا ہے۔اب تو بڑے ہو کر انہوں نے یہ بھی سن رکھا ہے کہ دوکاندار اس ترازوسے کم تولتے ہیں ۔جس سے یہ آلہ بدنام ہو چکا ہے ۔لہٰذا میں بھی یہی سمجھتا ہوں اس ترازو کو یہاں نہیں لگانا چاہیے ۔ ویسے بھی آئے روز کے حالات ان دونوں کی وجہ سے بدلتے ہیں ۔ماضی میں بابا رحمتے عجیب عجیب فیصلے دے کر گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ بابا رحمتے بعد میں سیدھے راستے سے شاباش لینے بھی پہنچے یا بتانے گئے تھے کہ ہم نوکری پیشہ ہوتے ہیں جو ہمیں حکم ملتا ہے وہ کر گزرتے ہیں ۔ملاقات میں کہا جاتا ہے کہ بتایا کہ آپ ان سے ناراض نہ ہوا کریں ۔انہیں بد نام نہ کریں ۔بعض اوقات ہم اپنے ساتھی ججوں کا بھی خیال نہیں رکھ سکتے ۔یہی ایک خامی ہے باقی سب اچھا ہے ۔ انہیں میں سے ایک سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر ہم سب کے ہیرو اب ریٹائرڈ ہو چکے ہیں ۔ اپنے ریٹائرڈ ہونے پر فل کورٹ ریفرنس کو اب بھی وکلا یاد کرتے ہیں ۔ اس ریفرنس میں جسٹس مقبول باقر جو نام کے ہی مقبول نہیں ہم سب میں بھی مقبول جج تھے۔اپنے اعزاز میں الواعی تقریب میں چیف جسٹس صاحب کو اچھا مشورہ بھی دیا کہ حساس نوعیت کے مقدمات میں مخصوص ججزشامل کرنے سے عدلیہ کی آزادی مجروح ہوتی ہے ۔ کہا غیر متوازن جوڈیشیل ایکٹیوزم قانون کی حاکمیت کےلئے موت کا سبب ہے ۔ کہا تمام تر کوششوں کے باوجود عدلیہ سائلین کی تو قعات پر پورا نہیں اتر سکی ۔
کہا آئینی ذمہ داری کے دوران سیاسی اور سماجی وابستگیاں آڑے نہیں آنی چائیں ۔جب کہ لگتا یہی ہے کہ آڑے آتی ہیں ۔پھرکہا یہ تباہ کن ہوگا کہ کسی بھی جج کی معیاد اور فیصلے طاقت ور حلقوں کی خوشنودی سے مشروط ہوں۔جسٹس مقبول باقر نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے ریفرنس میں اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ ملکی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل کچھ سیاسی جماعتیں اورادارے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو رکاوٹ سمجھتے ہوئے ان کو راستے سے ہٹا نا چاہتے تھے۔کہا کہ ان پر الزامات بے بنیاد بد نیتی پر مبنی ہیں انہیں غیر قانونی طریقے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ کاش ان کے ساتھی جج آپ کی باتوں پر سو موٹو لیا جاتا ۔ پاکستانیوں نے بھی کیا قسمت پائی ہے ۔کبھی ججوں کی بحالی کی تحریک جنم لیتی ہے کبھی آزادی کی تحریک سے واسطہ پڑتا ہے ۔ یہاں قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق ۔ تنخواہیں سبزی منڈی کے مطابق ، سہولتیں مویشی منڈی کے مطابق رکھتے ہیں ۔پھر یہاں دشمن سے زیادہ محافظ سے خطرہ ہے ۔ بیماری سے زیادہ طبیب سے خطرہ ہے مجرم سے زیادہ منصف سے خطرہ ہے۔ جائیں تو جائیں کہاں ۔