- الإعلانات -

مسائل کے حل میں بلدیاتی ادارے اہم کردار کرسکتے ہیں

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہبازنے مقامی حکومتوں سے متعلق امور کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ عوام کو نچلی سطح پر اچھی خدمات کی فراہمی میں بلدیاتی ادارے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مقامی حکومت کو عوام دوست ہونا چاہئے۔ گراس روٹ لیول پر ترقی کے لئے اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس بارے عوامی نمائندوں اور ماہرین نے تجاویز بھی پیش کیں ۔ وزیر اعلیٰ کا مقامی حکومتوں کے قیام اور عوامی سطح پر ان کی کارکردگی بارے جائزہ لینا خوش آئند ہے۔ دراصل کسی بھی جمہوری نظام میں مقامی حکومت کو نچلی سطح پر حکمرانی کا ایک اہم ڈھانچہ تصور کیا جاتا ہے،عوام کو جمہوری عمل میں شامل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کا مکمل اختیارات اور فنڈز کے ساتھ فعال رہنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ بلدیاتی ادارے اور مقامی حکومت ہی عوام کےلئے گلی محلے کی سطح پر خدمات فراہم کرتی ہیں ۔ بلدیاتی انتخا بات کا جلد انعقاد سے عوامی مسائل جلد حل ہو سکیں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے تھیلے سیمیا کا شکار بچوں کےلئے قائم ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بچے بھی قوم کے بچے ہیں ۔ دوسروں کے دکھ درد بانٹنے والے دین اوردنیا دونوں کماتے ہیں۔انسانیت کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔ سیاست بھی دکھی انسانیت کے درد بانٹنے کا نام ہے۔ دوسروں کا دردبانٹنا ہی کامیاب زندگی ہے کچھ ادارے منظم انداز میں درد مندی کے ساتھ ان بچوں کا خیال رکھ رہے ہیں اور بچوں کے علاج معالجہ کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں لہٰذا ایسے اداروں کی معاونت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی سے قبل تھیلے سیمیا ٹیسٹ کرانے کو لازمی قرار دینے کے حوالے سے قانون سازی وقت کا تقاضا ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے عوام کیلئے چیف منسٹر ریلیف پیکیج کے تحت پنجاب بھر میں آٹے کی قیمت میں ریکارڈ کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ میں 10 کلو آٹا تھیلا کی قیمت اس وقت 650 روپے سے زائد ہے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پنجاب بھر کے عوام کیلئے 10 کلوآٹا تھیلا کے نرخ میں 160 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے اور پورے صوبے میں ہر جگہ 10 کلو آٹا تھیلا 490 روپے میں دستیاب ہو گا جس سے صوبے کے عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف ملے گا اور مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومت نے سستے آٹے کی فراہمی کیلئے عوام پرتقریباً سالانہ 200 ارب روپے کا بوجھ کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میاں حمزہ شہباز آٹے کی طرح چینی اور گھی کی قیمتیں بھی کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں بھی جلد عوام کو خوشخبری دیں گے۔میں خود بازاروں کے دورے کروں گا اور پرائس کنٹرول کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی مانیٹرنگ کروں گا۔ سب سے پہلے شریف فیملی کی شوگر ملوں نے چینی کا ریٹ کم کیا ہے۔ہم دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ پنجاب میں ڈسٹرکٹ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو ازسر نو فعال کردیا گیا ہے۔ پرائس کنٹرول کیلئے مربوط پالیسی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ جائز منافع کمانا تاجروں کا حق ہے لیکن کسی کو ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں ہوگی۔یہ بہت اچھی بات ہے کہ صوبے کے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دینے کیلئے میاں حمزہ شہباز خود متحرک ہوگئے ہیں۔انہوں نے اس مقصد کےلئے اپنے دفتر میں چیف منسٹر پرائس کنٹرول سیل قائم کیا ہے اور پنجاب میںضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیاں تشکیل دے کر ازسر نو فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ کمیٹیاں عوام کو اشیا ضروریہ کی مقرر کردہ نرخوں پر یقینی بنانے میں متحرک کردار کریں گی۔وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ آٹے اور چینی کی ذخیرہ اندوزی کو قطعا برداشت نہیں کیا جائے گا ، خوش آئند ہے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں پر کڑی نظر رکھے، مہنگائی کی جو بھی وجہ ہو، مجھے پریشان عوام کو ریلیف دینا ہے۔ غیر معمولی حالات میں فوری اقدامات کے متقاضی ہیں، عام آدمی کےلئے آسانیاں پیدا کرنے کےلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے ۔ سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا اور عام آدمی کی قوت خرید تقریباً ختم ہو چکی ہے اورغریب کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ میں عوام کے ساتھ کھڑا رہوں گا اور کوئی طاقت مجھے مخلوق خدا کی خدمت سے نہیں روک سکتی ، امید افزا بات ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان خاندان کے بڑوں اور سیاسی قائدین نے انہیں مخلوق خدا کی خدمت کرنا سکھایا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے آٹا سستا کر کے مہنگائی میں پسے عوام کو حقیقی ریلیف دیا ہے۔انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کا دل عام آدمی کےلئے دھڑکتا ہے۔ عوام کےلئے درد دل نہ رکھنے والا حکمرانی کا حق نہیں رکھتا۔پنجاب حکومت نے چند روز میں آٹے کی قیمت میں کمی کرکے صوبے کے عوام کی مشکلات کم کی ہیں۔ بقول ان کے ، ہماری سیاست کا محور مخلوق خدا کی خدمت ہے۔