- الإعلانات -

حکومت فیصلے میں جلد ی کرے ورنہ دیر ہوجائے گی

حکومت بنے ڈیڑھ ماہ سے زائد سے کا عرصہ ہوچلا ہے مگر مسائل ہیں کہ اپنی گرداب سے نکلنے ہی نہیں دے رہے ، حکمرانوں کو سمجھ نہیں آرہی کیا کیا جائے ، ان کا خیال تھا کہ وہ حکومت میں آتے ہی ملک کو درپیش مسائل پلک جھپکتے حل کردیں گے مگر جب ایوان اقتدار میں داخل ہوئے تو انہیں سنگین مسائل کا احساس ہوا جو ملک کو درپیش تھے اور جو سابقہ حکمران ورثے میں ان کیلئے چھو ڑ گئے تھے ، اب صورتحال یہ ہے کہ نہ جائے مانند ،نہ پائے رفتن، اب یہ فیصلہ نہیںہوپارہا کہ آئینی مدت پوری کرے یا فوری طور پر اسمبلیاں توڑ کرفوری طور پر نئے انتخابات کروائے جائیںچونکہ یہ حکومت نو پارٹیوں کے اتحاد پر مبنی ہے اس لئے متفقہ رائے تک پہنچنا مشکل ہورہا ہے ، اسی سلسلے میں گزشتہ روز وزیراعظم شہبازشریف سے سابق صدر آصف زرداری نے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران پی ٹی آئی کے لانگ مارچ، ڈالر کی بڑھتی اڑان اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلی کی نمبرنگ اور آئینی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کےلئے بھی لائحہ عمل طے کیا گیا، اور حکمت عملی بنائی جا رہی ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کو کیسے مات دی جائے، جب کہ اس ملاقات میں ملکی معاشی استحکام اور اسمبلیوں میں رہنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔24 گھنٹے میں وزیراعظم کی آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے دو ملاقاتیں ہوچکی ہیں، ان ملاقاتوں میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم شہبازشریف کےساتھ بھی معاملے پر طویل مشاورت کی گئی، ملکی معیشت کو بہتر بنانے، بجٹ کی تیاری، آئی ایم ایف سے مذاکرات پر بھی مشاورت ہوئی، ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کےلئے قومی سلامتی کمیٹی اور گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے آنے والے ہفتے میں اہم ترین مشاورت شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے حکومت اور اتحادیوں کی مسلسل مشاورت جاری ہے، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز پر حکومت نے سنجیدگی سے غور شروع کردیا ہے، اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے متوقع لانگ مارچ اور اس کے اثرات کا بھی جائزہ لیا جارہاہے، سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر بھی مسلسل مشاورت کی جارہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کرنے کی تجویز پر بھی غور کررہے ہیں، آئندہ ہفتے انتخابی اصلاحات، نیب اصلاحات سمیت دیگر کاموں میں تیزی لانے پر بھی مشاورت کی جارہی ہے، اکتوبر میں انتخابات ہوسکتے ہیں یا نہیں، مردم شماری میں کتنا وقت درکار ؟ ان تمام امور پر آئندہ ہفتے حتمی مشاورت ہوگی، گرینڈ ڈائیلاگ میں پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن، تمام طبقات ، سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کی تجویز پر حتمی فیصلہ ہوگا۔موجودہ حکومت کو ایک جانب معاشی مسائل کا سامنا ہے تو دوسری جانب داخلی انتظامی امور کا مسئلہ ہے ، عمران خان اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کئے ہوئے ہیں جبکہ وزیر اعظم اس بات پر شاکی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں سابق وزیر اعظم کے برابر سپورٹ نہیں کررہی ، ان حالات میں ملک کو مزید مسائل کے دلدل میں دھکیلنے سے بہتر ہوگا کہ عوامی عدالت سے رجوع کیا جائے اور جلد از جلد ان مسائل سے نکلا جائے مگر یہاں بھی حکومت تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے اور اس کی خواہش ہے کہ انتخابات سے پہلے انتخابی اصلاحات اور نیب جیسے اداروں کے مستقبل کا فیصلہ کرلیا جائے مگر یہ حقیقت ہے کہ فیصلہ کرنے میںجتنی دیر کی جائے گی اتنا ہی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جو آنے والی حکومت کو ورثے میں ملیں گے۔
عالمی برادری یاسین ملک کیخلاف جھوٹے مقدمے کا نوٹس لے
بھارت کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہیں جہاں ایک نہتے اور پر امن شہریوں کو گولیوں سے بھونا جارہا ہے تو دوسری جانب حریت قیادت کو مسلسل جیلوں میں قید رکھا جارہا ہے ، سید علی گیلانی مرحوم ، شبیر شاہ، میر واعظ یوسف، میر واعظ عمر فاروق جیسے رہنماو¿ں کو سالہا سال تک بھارت کی بدنام زمانہ جیلوں میں قید رکھا گیا اور ان پر زندگی کو تنگ کرنے کی کوشش کی گئی ، ان کا جرم محض آزادی مانگنا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں کشمیری عوام کو جو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا اس پر عملدرآمد کرے تاکہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہیں گے یا پاکستان کے ساتھ مگر بھارت گزشتہ ستر سالوں سے اپنے وعدے سے مکرتا چلا آرہا ہے اور کشمیری عوام کو یہ حق دینے سے انکار کرتا چلا آرہا ہے ، تین سال قبل بھارت نے تمام عالمی اداروں کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک متنازعہ علاقہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت یونین کا حصہ قرار دے دیا جو کسی طور پر بھی آئینی یا قانونی حیثیت نہیں رکھتا ، یاسین ملک کشمیر کی آزادی کے ایک بھرپور اور طاقتور آواز سمجھے جاتے ہیں ، ان کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے کشمیر کی آزادی کے حوالے سے ، انہیں گزشتہ کئی سالوں سے مختلف جھوٹے مقدمات کے تحت بھارتی جیلوں میں بند رکھا جارہا ہے ، انہیں بیرون ملک جانے کیلئے پاسپورٹ جاری نہیں کیا جاتا اور نہ ہی انہیں کسی پبلک فورم پر بولنے کی اجازت دی جارہی ہے ، ابھی ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ فارن فنڈنگ میں ملوث ہے اور اس الزام کے تحت بھارت کی جھوٹی عدالتوں کے ذریعے انہیں سزائے موت دیے جانے کا ایک منصوبہ بنایا گیا ہے جس پر پورا پاکستان سراپا احتجاج نظر آرہا ہے ، اسی حوالے سے گزشتہ روزاسیر حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ بھارت نے پرامن حریت لیڈر یاسین ملک پر جھوٹے مقدمات بنائے،دہشت گردی کے جعلی مقدمات بنا کر بھارت نے یاسین ملک پر 19مئی کو فرد جرم عائد کی، میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں 25مئی کو سزا سنائی جائے گی، بھارت یاسین ملک کو سزائے موت یا عمر قید سزا سنانا چاہتا ہے، یاسین ملک پر آج تک کسی بھی منفی سرگرمی کا الزام نہیں لگا، مریم اورنگزیب نے کہا کہ مشعال ملک ستمبر 2014 میں یاسین ملک سے ملیں، اس وقت ان کی بیٹی کی عمر دو سال تھی، یاسین ملک کی کشمیر کاز کے لئے لازوال قربانیاں ہیں، تہار جیل سے ان کی جاری ہونے والی ویڈیو میں وہ ایک ہی بات بول رہے ہیں کہ انہیں بولنے کی اجازت دی جائے، وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت کو خوف نہیں تو وہ ایک شخص کے بولنے سے کیوں گھبرا رہا ہے، بھارت یاسین ملک کے فری ٹرائل سے کیوں گھبرا رہا ہے؟، بھارت کھلم کھلا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے، وزیراعظم نے یاسین ملک کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھانے کی ہدایت کی ہے، یاسین ملک کے خلاف بھارت میں منظم مہم چلائی جا رہی ہے، بھارت مذہبی کارڈ کے ذریعے کشمیریوں کے اندر تقسیم پیدا کرنے کی ناکام اور بھونڈی کوشش کر رہا ہے، بھارت نے سید علی گیلانی کا جنازہ پڑھنے کی بھی اجازت نہیں دی تھی، و، بھارت کو سید علی گیلانی کے جسد خاکی سے بھی خوف تھا، آج ان کی قبر پر بھی پہرا ہے، ہندوستان چاہتا ہی نہیں کہ کشمیر میں پرامن آزادی ہو، آزادی کی آواز بلند کرنے والے یاسین ملک کو فری ٹرائل دینے سے روکا جا رہا ہے، عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت کی کھلم کھلا عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، وزیراعظم نے وزارت قانون اور وزارت انسانی حقوق کو ہدایت جاری کی ہے کہ یاسین ملک کے مسئلہ کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے، ہم توقع کرتے ہیں کہ حکومت اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرکے حریت رہنما کی سزا کو رکوانے کی کوشش کرےگی۔