- الإعلانات -

کیا کسی نئی وبا کا امکان پیدا ہورہا ہے؟

دنیا بھر میں مونکی پوکس کے کیسز بڑھتے جارہے ہیں۔ اس نئے چیچک اور کرونا وائرس کا ایک موازنہ کیا گیا ہے اور ماہرینِ صحت اس بات کا یقین دلا رہے ہیں کہ مونکی پوکس کے پھیلنے کے باوجود ہمیں اب ایک نئی وبائی بیماری کا خطرہ نہیں ہے، کیونکہ دونوں پیتھوجینز بنیادی طور پر مختلف ہیں۔متعدد ممالک میں مونکی پوکس کے حالیہ واقعات لوگوں کو کرونا وبائی مرض کے شروع کے دنوں کی یاد دلارہے ہیں۔ اس وقت بارہ ممالک میں کم از کم 80 مانکی پوکس کے انفیکشن کی تصدیق ہوچکی ہے۔ جرمنی میں بھی اس جمعہ کے دن مونکی پوکس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے – یہ شہر میونخ سے تعلق رکھنے والا ایک 26 سالہ جوان ہے۔ اسی دوران برلن میں بھی مونکی پوکس کے دو کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔دنیا بھر کے محققین انفیکشن کے اس نئے راہ کی بنیادی وجوہات پر نئے سرے سے غور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن آپ وائرس کی خصوصیات کو جتنا قریب سے دیکھیں گے، اتنا ہی واضح ہو جائے گا کہ مونکی پوکس بنیادی طور پر Sars-CoV-2 سے مختلف ہے اور اسی لیے اس وقت ہم ایک بالکل مختلف صورتحال میں ہیں۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ مونکی پاکس کا ایک وبائی بیماری کی صورت میں دنیا بھر میں پھیلنے کے امکانات کم ہیں۔ جرمنی کے شہر میونخ کی کلینک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اور ماہر کلیمینس نے بتایا ہے کہ "جب ہم نے جرمنی میں مونکی پاکس کے مریض کی خبر سنی تو ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی، ہمیں اس بات کا انتظار تھا کہ جرمنی میں بھی کسی نہ کسی وقت پہلا مریض آئے گا۔ ہم فی الحال اس پہلے مریض کا علاج کر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم ایک دوسری نئی وبائی بیماری کی طرف نہیں جائیں گے اگر یہ نیا انفیکشن محدود پیمانے پر پھیلتا ہے تو۔ ماہر وائرولوجسٹ اور ویٹرنریرین گیرڈ سٹر نے بھی بتایا ہے کہ انہوں نے مونکی پوکس کو صرف ایک وقتی پھیلا ہی جانا ہے ۔ہمیں کسی نئی وبا سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ Monkeypox وائرس کئی دہائیوں سے مشہور ہیں ۔ یہ وسطی اور مغربی افریقہ کے مقامات میں پائے جاتے ہیں اور ان کا انسانوں میں پھیلنے کا باقاعدہ مشاہدہ بہت کم کیا گیا ہے۔موجودہ معلومات کے مطابق، جرمنی میں عام آبادی کی صحت کےلئے اس بیماری کا خطرہ کم ہی پایا جاتا ہے۔ جرمنی کے صحت کے مشہور و معروف ادارے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ (RKI) نے بھی یہی جائزہ پیش کیا ہے ۔ بندروں میں سب سے پہلے مونکی پوکس کا پتہ 1958 میں ڈنمارک کی لیبارٹری میں ہوا تھا – اس لیے اس کا نام مانکی پوکس رکھا گیا۔ تاہم ماہرین کو شبہ ہے کہ اس بیماری کی وجوہات دراصل گلہریوں اور چوہوں کی وجہ سے ہے۔اس بیماری کی علامات میں شامل ہیں اچانک بخار، شدید سر درد، کمر درد، گلے میں خراش، کھانسی، اور اکثر لمف کی سوجھن۔ اس بیماری میں ایک عام چیچک کی طرح خارش چہرے سے شروع ہوکرجسم تک پھیل جاتی ہے۔ اس کا علاج ثانوی بیکٹیریل انفیکشن کے طرز پر کیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی خاص علاج موجود نہیں ہے۔ وائرس کی مغربی افریقی شکل، جو اس وقت یورپ اور امریکہ میں پائی جارہی ہے کہ مطابق خبر یہی ہے کہ اس بیماری سے تقریبا ایک فیصد متاثرہ افراد افریقہ میں ہلاک ہوتے ہیں ۔کرونا وائرس کی طرح چیچک کے وائرس بھی مختلف خصوصیات کے ساتھ متنوع پیتھوجینز کا ایک پورا خاندان بناتے ہیں۔ ویریولا چیچک نے صدیوں میں لاکھوں افراد کو ہلاک کیا ہے۔ 1979میں، ڈبلیو ایچ او نے عالمی ویکسین مہم کی بدولت ان کے اختتام کی خبر سنائی تھی ۔ تاہم جانوروں کا چیچک بدستور موجود ہے اور یہ دوسری نسل کے جانورورں کے علاوہ انسانوں میں بھی پھیل سکتا ہے اور انسانوں سے دوسرے انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ اصولی طور پر جانور کے چیچک کے وائرس ڈی این اے وائرس ہوتے ہیں اور نمایاں طور پر زیادہ مستحکم ہوتے ہیں ۔ یاد رہے کہ کرونا وائرس ایک آر این اے وائرس ہے ۔ اس لیے جانور کے چیچک میں مسلسل نئے تغیرات کا امکان نہیں ہوتاہے۔ اس سے اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ موجودہ علم اور موجودہ ویکسین کو اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس وقت بیلجیئم میں پائے گئے مونکی پوکس کے کیسوں کی ترتیب کو 2018 کے پچھلے انفیکشن کی ترتیب سے موازنہ کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح کی تحقیق فی الحال دوسرے ممالک میں بھی جاری ہیں۔ ڈبلیو ایچ او فی الحال اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ کیا وائرس اپنی خصوصیات میں تبدیلی کرتاہے؟ یا اس بات کی کوئی وضاحت موجود ہے کہ یہ وائرس تقریبا ایک ساتھ کیوں یورپ اور امریکہ کے مختلف ممالک میں پھیلا ہے ؟ ” کرونا وائرس اپنی متعدد خصوصیات کے باعث عالمی پھیلاﺅ کی تصدیق کرچکا ہے۔ مثال کے طور پر، اس کی غیر علامتی منتقلی، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بغیر کسی علامات کے پیتھوجین کو منتقل کر سکتے ہیں، لیکن مونکی پاکس کی صورت میں ایسا ہونا ممکن تو نہیں ہے ۔مونکی پوکس کے انفیکشن سے بچنا آسان ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے لگنے کےلئے ضروری ہے کہ آپ کا چیچک کے زخم کے ساتھ براہ راست جسمانی رابطہ ہو، یعنی آبلوں سے خارج ہونےوالی رطوبت یا متاثرہ کے ساتھ بلغمی رابطے پیدا ہوئے ہوں۔ اس بیماری کاایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقلی کی رپورٹ بہت ہی کم ہے اور صرف قریبی رابطے سے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ جرمنی کے صحت کے اداروں کا اب تک یہی خیال ہے۔ ان کے خیال میں موجودہ ویریولا ویکسین مونکی پوکس کے خلاف بھی موثر ہیں۔ کیسز کی قابل برداشت تعداد کے پیش نظر ویکسین کی وسیع پیمانے پر فی الحال منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے۔ ماہرین فی الحال انفرادی خطرے اور رابطہ گروپوں کےلئے ٹارگٹ امیونائزیشن کے سوال پر بحث کر رہے ہیں ۔ جرمنی نے کئی دہائیوں سے ایسے ہنگامی حالات کےلئے انتظامات کر رکھے ہیں۔ وفاقی وزارتِ صحت نے اعلان کیا کہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کے پاس چیچک کی ویکسین کی 100ملین خوراکوں کا ذخیرہ موجود ہے۔