- الإعلانات -

وزیر اعظم کی لیور اینڈ کڈنی انسٹیٹیوٹ میں بات چیت

پاکستان میں گردوں کے مریضوں کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، سرکاری ہسپتالوں میں علا ج ، معالجے کی سہولت صرف با اثر مریضوں اور ان کے لواحقین کو حاصل ہے جبکہ عام آدمی ان ہسپتالوں کی راہداریوں میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں ، یورالوجی سے وابستہ ڈاکٹر صاحبان نے اپنے پرائیویٹ ہسپتال بنا رکھے ہیں جہاں پر ڈائلاسز اور دیگر علاج معالجہ کے نام پر لاکھوں روپے بٹورے جاتے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں ان امراض کیلئے لاہور اور راولپنڈی میں جدید مراکز قائم کئے مگر بدقسمتی سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف کی حکومت نے ان مراکز پر کوئی خاص توجہ نہ دی اور ایک مخصوص فرد کو فائدہ پہنچانے کیلئے اس کے سربراہ کو امریکا جانے پر مجبور کردیا ، اب دوبارہ حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے ان مراکز کو ترجیحی بنیادوں اور فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے ، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی غریب کے علاج کیلئے بنایا گیا تھا، گزشتہ سالوں میں ہسپتال کو نقصان پہنچایا گیا، 50فیصد مریضوں کا مفت علاج ہوگا، بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین کو بحال کر دیا گیا ہے، نرسنگ یونیورسٹی کو ایک سال میں مکمل کیا جائے گا، ورلڈ کلاس نرسنگ یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ نیب الٹا ہوگیا، ایک دھیلے کی کرپشن نہیں نکال سکے، عمران خان نے اقتدار میں اپنے مخالفین کو دیوار سے لگایا، ایک ماہ میں میرا پی کے ایل آئی کا تیسرا دورہ ہے، ہسپتال کی اربوں روپے کی جدید ترین مشینری بند پڑی رہی، عمران خان نے عوام سے جھوٹے وعدے کیے، کسی کو ایک گھر اور نوکری نہیں ملی، یہ جو مرضی کر لے پاکستان قائم و دائم رہے گا، عمران خان کو کردار کشی کے علاوہ فرصت نہیں تھی جب کہ ہمارا صرف ایک مہینہ ہوا ہے اور اس میں ہم نے آٹا و چینی سستی کردی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رمضان میں سستا آٹا اور چینی فراہم کی گئی، نئے پاکستان کی بات کرنیوالے نے عوام کو ایک سبسڈی نہیں دی، عمران خان نے سماج کو برباد کر دیا ہے، عمران خان نے جو پرسوں بات کی وہ زبان پر نہیں لا سکتا۔ عمران دن رات نیب کے اوپر سوار رہتا تھا، عمران خان نے شہزاد اکبر کو ہدایات دیں کہ جیل میں مجھے زمین پر سلایا جائے، جمہوریت ہوگی اور ملک آگے چلے گا، 2018میں میثاق معیشت کا کہا تھا جسے ٹھکرا دیا گیا، عمران خان معاشرے میں زہر گھول رہا ہے، پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا، اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں، عمران خان کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ پی کے ایل آئی کے شعبہ جات کو مرحلہ وار فعال کیا جائے، گزشتہ تین سالوں میں جو منصوبے تعطل کا شکار رہے ا±ن کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔وزیراعظم نے چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری خزانہ پنجاب کو ہدایت کی کہ پی کے ایل آئی کو فنڈز کی فراہمی 10 جولائی تک یقینی بنائی جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان کڈنی انیڈ لیور انسٹیٹیوٹ PKLI کے مالی اور انتظامی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔بریفنگ میں وزیرِ اعظم کے گزشتہ دورے میں جاری کی گئیں ہدایات کی روشنی میں پی کے ایل ائی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل نو ،نرسنگ انسٹیٹیوٹ کا قیام ، پچاس فیصد مستحق مریضوں کا مفت علاج ، مفت علاج سب کے لئے اور پی کے ایل آئی ٹرسٹ کے قیام پر پیش رفت سے اگاہ کیا گیا، نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے قیام کے لئے تمام اقدامات اگلے ماہ تک مکمل کر لئے جائیں ۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں قابل اور اہل پرائیوٹ ممبران کو شامل کیا جائے تا کہ پی کے ایل آئی کے امور کو احسن طریقے سے سر انجام دیا جاسکے۔وزیراعظم نے نو منتخب پی کے ایل آئی بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر سعید اختر کو مبارکباد دی اور ہدایت کی کہ پی کے ایل آئی کے مالی معاملات کو مستحکم کرنے کے لئے اچھی شہرت کے حامل مالی مشاورتی ادارے کی خدمات حاصل کی جائیں۔مریضوں کے سکریننگ سینٹرز کو پورے پنجاب میں فعال کیا جائے تاکہ عوام کو طبی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر چیئرمین پی کے ایل آئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مصر کی طرح پاکستان بھی جلد ہیپاٹایٹس سی جیسی مہلک بیماریوں سے نجات حاصل کر لے گا۔بدقسمتی سے تحریک انصاف کی حکومت محض زبانی بلند و بانگ دعوے تو کرتی رہی مگر عملی طور پر وہ اس کا کوئی حل نہ نکال سکی جس کے باعث امراض گردہ کے مریض کسمپرسی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے ، عوام کو صحت ، علاج معالجہ کی سہولیات مفت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوا کرتا ہے، اس لئے وزیر اعظم پاکستان کا یہ اقدام خوش آئند ہے ، سیاستدان آپس میں سیاسی لڑائیاں لڑتے رہیں مگر عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کا فرض بنتا ہے ، وزیر اعظم پاکستان نے ملک میں پھیلی بے چینی کا ذمہ دار عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیںاور اپنی بے سروپا باتوں سے معاشرے میں زہر گھول رہے ہیں ، نوجوان نسل کو گالم ، گلوچ پر لگاکر انہوں نے ایک پوری نسل تباہ کردی ہے ، سیاست شائستگی ، تہذیب اور روایات کا نام ہے مگر بدقسمتی سے تحریک انصاف کے قائدین ان تمام اصولوں سے بے پرواہ نظر آتے ہیں اور ہر طرف اپنی من مانی کرتے نظر آتے ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ اپنی مخالف جماعتوں کے قائدین اور ان کے فیملیز کے حوالے سے بولتے ہوئے احتیاط کا مظاہرہ کرے تاکہ ان کے مخالفین لاجواب ہوجائے اور یہ مخالفت ایشوز کی بنیاد کی جائے ، اب ایک ایسے عالم میں جبکہ نئی حکومت کو بنے ڈیڑھ ماہ ہوئے ہیں عمران خان نے عوا م کو اپنی گزشتہ چار سال کی کارکردگی بتانے کے بجائے ایک نئے دھرنے کا اعلان کردیا ہے ، حالانکہ اس سے قبل جب وہ خود حکومت میں تھے انہیں دھرنوں کی مخالفت کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دھرنے ملکی معیشت کو تباہ کرتے ہیں ، چنانچہ آج وہ اپنے انہیں الفاظ کی لاج رکھتے ہوئے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں۔
عمران خان کا دھرنے کا اعلان، قوم کو کیا فائدہ پہنچے گا
بالاخر عمران خان نے اپنے دھرنے فیز ٹو کی حتمی تاریخ کا اعلان کردیا ہے ، ان کے پہلے دھرنے میں ایک مستحکم حکومت اور مستحکم معیشت کو تقریباً تباہی کے دھانے تک پہنچادیا تھا ، اب چار سال حکومت میں رہنے کے بعد وہ ایک بار پھر کنٹینر پر پہنچ چکے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت نئے انتخابات کا اعلان کرے ، اس وقت ملک دیوالیہ پن کے قریب ہے ، معیشت آخری سانس لے رہی ہے ، ان حالات میں دھرنے کا اعلان کوئی دانش مندانہ فیصلہ نہیں بلکہ یہ ملکی معیشت کی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے مترادف ہوگا، عمران خان کے اقتدار سے اتر نے کے بعد چلائی جانے والی مہم سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ محض ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کے خواہش مند ہے خواہ اس کیلئے ملک کو کوئی بھی قیمت ادا کرنے پڑے ، اس بات کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ، ان کی تبدیلی ایک آئینی طریقہ کار کے مطابق عمل میں لائی گئی تو انہیں چاہیے تھا کہ وہ اس فیصلے کو کھلے دل سے قبول کرتے اور حزب اختلاف میں بیٹھ کر اپنی ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے مگر انہوں نے اس کے برعکس اقدام اٹھاتے ہوئے ملکی اداروں ، فوج ، عدلیہ ، الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر جانبداری برتنے کے الزامات عائد کئے ، عساکیر پاکستان کی ممتاز شخصیات پر میر جعفر اور میر صادق کے الزامات عائد کئے ، تحریک انصاف نے اگر گزشتہ چار سالوں میں کوئی قابل ذکر کارنامے کئے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے جلسوں میں ان کا تذکرہ کرے اور عوام کو بتائے کہ ہم نے یہ کام کئے ہیں اس لئے ہمارادوبارہ اقتدار میں آنا اس لئے ضروری ہے مگر عمران خان کبھی نیا پاکستان، کبھی آزاد پاکستان ، کبھی ہم غلام نہیں کے صرف نعرے بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں ، اس خراب ترین معیشت میں اگر وہ دوبارہ برسر اقتدار آ بھی جاتے تو ملک کا کیا فائدہ ہوگا۔