- الإعلانات -

اے پی این ایس میٹنگ ، مریم اورنگزیب کی سر حاصل گفتگو

اے پی این ایس کے اجلاس میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی گفتگو انتہائی پروفیشنل رہی ، اگراس کو سراہا نہ جائے تو یہ غلط بات ہو گی ، اے پی این ایس کے صدر سرمد علی نے پروفیشنل انداز میں مریم اورنگزیب کو پرنٹ میڈیا کے مسائل سے آگاہ کیا ، سینئر صحافی اور اے پی این ایس کے نائب صدر جمیل اطہر بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ اس دشت صحافت میں انہوں نے کئی دہائیاں گزار دیں اور متعدد وزرائے اطلاعات و نشریات کے اجلاسوں میں شریک رہے ، ان سے گفتگو ہوئی لیکن جس طرح آج مریم اورنگزیب نے صحافت اور خصوصی طو رپر پرنٹ میڈیا کے درپیش مسائل کو اجاگر کیا وہ یقینی طور پر قابل تحسین ہے ، اس وقت پرنٹ میڈیا کو جو مسائل درپیش ہیں مریم اورنگزیب نے نہ صرف ان پر سیر حاصل گفتگو کی بلکہ ان مسائل کو حل کرنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا، خصوصی طور پر اشتہارات اور ان کی ادائیگیوں کامعاملہ زیربحث آیا، غرض کہ ہر پہلو کا بغور جائزہ لیا گیا ، مریم اورنگزیب نے یہ یقین دہانی کرائی کہ نہ صرف وہ مسائل کو حل کریں گی بلکہ صحافیوں کی وکیل کی حیثیت سے وزیر اعظم کے سامنے پیش ہونگی اور تمام مسائل ان کے سامنے رکھے جائیں گے، امید واثق ہے کہ جن مسائل پر گفتگو ہوئی ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پرحل کیا جائے گا، جہاں تک اشتہارات، ان کی ادائیگیوں اور اشتہارات کی تعداد کا مسئلہ ہے تو اس حوالے سے وزیر اعظم ہی فیصلہ کریں گے ، آپ لوگ خاطر جمع رکھیں ، ہم صحافت کی اقدارکے علم بردار لوگ ہیں، مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ صحافت جمہوری ریاست کا اہم ترین ستون ہے اور پھر پرنٹ میڈیاکی تو میں ویسے ہی دلدادہ ہوں کیونکہ یہاںپر جو تحریر ہے وہ اس وقت کی ایک دستاویز یعنی کہ تاریخ رقم کر رہی ہے، جو رہتی دنیا تک قائم و دائم رہتی ہے ، اس کے مختلف مواقعوں پر حوالہ جات دیئے جاتے ہیں، اس موقع پر میں نے کہا کہ اپنے اخبارات میں میری بہت ساری خبروں اور آرٹیکلز پر سپریم کورٹ نے از خود نوٹسز لئے ، اس بات کی سپریم کورٹ کی آرکائیو اور پی ایل ڈی گواہ ہیں کہ میری خبروں کے حوالے سے جو فیصلے آئے وہ آج قانون کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، وزیر اطلاعات سے ہماری یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط رہی اور پرنٹ میڈیا کے حوالے سے تمام پہلوں کا احاطہ کیا گیا، میں یہاں ایک بات واضح کر تا چلوں کہ پی آئی او کے آفس میں آجکل 18گھنٹے کام ہو رہا ہے ، اے پی این ایس کے 18سے 20ممبران جو اس میٹنگ میں شریک تھے ، جن میں مختلف اخبارات اور میڈیا ہاﺅسز کے مالکان شامل تھے انہوں نے سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد، پی آئی او مبشر حسن اور ڈائریکٹر میڈیا صالح محمدکی کارکردگی کو سراہا، چونکہ پرنٹ میڈیا کی اہمیت کو کسی صورت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، مریم اورنگزیب بھی اس رموز سے بخوبی واقف ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا ایک تاریخ رقم کر رہا ہوتا ہے ، میں یہاں اگر جمیل اطہر کی بات کو دوبارہ دہراﺅں تو کوئی مذائقہ نہیں کہ مریم اورنگزیب کے ساتھ ہونے والی یہ میٹنگ اپنی ہی نوعیت کی ایک مثال تھی، چونکہ میری بھی حکمرانوں کے ایوانوں میں وزیر اعظم ، صدر مملکت ، بیورو کریسی ، وزراءاور مختلف اہمیت کی حامل شخصیات سے ملاقات رہتی ہے اور میں اے پی این ایس کا تقریباً بائیس سال سے مسلسل ایگزیکٹیوباڈی کا ممبر چلا آرہا ہوں،میں بھی جمیل اطہر کی رائے سے اختلاف نہیں کروں گا کہ مریم اورنگزیب سے ہونے والی ملاقات اپنی مثال آپ تھی، جس طرح انہوں نے پرنٹ میڈیا سے اپنے والہانہ لگاﺅ کا اظہار کیا یہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ صحافیوں اور پرنٹ میڈیا کو درپیش مسائل کو انتہائی زیرک انداز سے جانتی ہیں ان کو حل کرنے کیلئے بھی انتہائی پرعزم ہیں، اس ملاقات کے بعد یہ نتیجہ بھی اخذ کرنے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ مریم اورنگزیب کی جانب سے ہمیں بہت زیادہ امید وابستہ ہے کہ جلد از جلد وہ مسائل جن کا انہوں نے ذکر کیا ترجیحی بنیادوں پر انہیں حل کریں گی ا ور اسی وجہ سے آج وزیر اطلاعات نے اے پی این ایس میں شامل ارکان کے نہ صرف دل جیت لئے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ نہ صرف اے پی این ایس اور صحافیوں کا حصہ ہیں بلکہ اے پی این ایس اور صحافی بھی ان کا حصہ ہیں۔