- الإعلانات -

ووٹ کو عزت دو: الیکشن کی ڈیٹ دو

مکافات عمل دکھیں کہ جب نواز شریف اقتدار سے علیحدہ ہوئے تھے تو شہروں شہر جلوسوں اور ریلیوں میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے مقتدر حلقوں کو کہہ رہے تھے کہ” ووٹ کو عزت دو“ میری منتخب حکومت کو ختم کر کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا گیا ہے۔ یہ بھی کہا تھا کہ جمہوریت کو لپیٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا گیا۔پریشانی میں غدارِ وطن شیخ مجیب الرحمان کا حوالہ بھی دیا کہ ووٹ کو عزت نہیں دی گئی تو ملک دو ٹکڑے ہوگیا۔حالاں کہ وہ تو روسی،امریکی، بھارتی سازش اورسارے سیاست دانوں کی غلطیوں کی وجہ تھی۔پریشانی میں پاکستان کے ایک غدار الطاف حسین سے لندن میں ملاقات بھی کی تھی۔اس دوران پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے سیکورٹی کے ایڈوائزر اجیل دوت نے نواز شریف کے حق میں بیان بھی دیا تھا کہ بھارت نواز شریف کو اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔بھارت نے نواز شریف پر انوسٹ منٹ کی ہوئی ہے۔ اب جب عمران خان اقتدار سے الگ کر دیے گئے تو وہ شہروں شہر جلسے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” الیکشن کی ڈیٹ دو“ میرے حکومت کو امریکا نے میری پارٹی کے منحرف میر جعفروں سے مل کر ختم کر دیا۔شہروں شہر جلسے کرکے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں الیکشن کرائے جائیں۔اپنے مطالبے پر کل 25 مئی کو اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاجی پرگروام کا اعلان کر رکھا ہے۔ نواز شریف کو ملک کے آئین کے مطابق 62۔63 پر پورا نہ اترنے پر سیاست سے نا اہل کیا گیا۔ لندن ایون فیلڈ آپارٹمنٹ کی ملکیت کی منی ٹرائیل نہ دینے پر قانون کے مطابق کرپشن پر جیل کی سزا ہوئی۔عمران خان کو آئینی طریقے سے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا۔نواز شریف نے فوج اور عدلیہ کے خلاف محاذ کھولا اور عمران خان نے بھی فوج اور عدلیہ پر وار کیے۔ دونوں نے ملک کی سالمیت کا احترام نہیں کیا۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ دونوں آئین کا احترام کرتے فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے اور ملک میں افتر تفری نہ پھیلاتے ۔دونوں کو صرف اقتدار چھن جانے کا افسوس ہے۔ ملک کی سا لمیت کی فکر نہیں۔ اربوں روپے خرچ کر کے شہروں شہر محاذ آرائی اور آپس میں جنگ کی کیفیت پیدا کر دی گئی ہے۔ اقتدار کی لالچ میں اپنے اپنے لاکھوں کڑروں ووٹروں کو فوج اور عدلیہ کا مخالف بنا دیا۔ ملک کی حفاظت کرنے والے آخری دو اداروں، فوج اور عدلیہ کو نقصان پہنچایا۔پاکستان کے باقی ادارے تو سیاست دانوں نے پہلے ہی تباہ کر دیے ہیں۔ ملک میں مہنگاہی، بے روزگاری سے لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف والے اپنے جلسوں میں عوام پریشانیوں کی بات نہیں کر رہے۔ تھر میںقحط سالی سے انسان اور جانور مر رہے ہیں۔ ان کی طرف کسی کاخیال نہیںکیا۔ واحد ایک جماعت اسلامی ہے کہ وہ تھر میں انسانوں اور جانوروں کے لیے پانی اور صحت کا انتظام کر رہی ہے۔ اس وقت چولستان میں بھی خشک سالی سے انسان پانی کی بوند کو ترس رہے ہیں ۔ مویشی پیاسے مر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے حالات جاننے کے لیے چولستان کا دورا کیا ۔کہا کہ منتخب جاگیرداروں اور وڈیروں کو کوئی پروا نہیں۔ حکمران اپنے جانوروں کو ووٹروں اور سپورٹروں پر ترجیح دیتے ہیں۔ کہا کہ ایوانوں میں بے حس لوگ بیٹھے ہیں۔جنہوں نے ملکی وسائل کو بھی نچوڑا اور عوام کا خون بھی چوسا۔چولستان کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔سراج الحق نے واٹر پلانٹ کا افتتاع کیا اور موبائل ہیلتھ یونٹ کا دورا کیا۔ الخدمت اس علاقہ میںسو( 100) جگہوں پر زیر زمین میٹھا پانی تلاش کر کے سولر فلٹریشن پلانت نصب کرے گی ۔ علاقے میں اسکول،دستکاری سینٹر ، مسجد اور ڈسپنسریز بھی تعمیر کی جائیں گی۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں۔ صرف حکمران نا اہل ہیں۔پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی وہی پالیسیاں جاری ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس دوحہ جانے اور سودی قرضے لینے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔عوام جان لیں کہ بار بار، باریاں بدل کے اقتدار میں آنے والے ان کے حالت نہیں بدلیں گے۔ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تو حالات درست ہو جائیں گے۔ ہم اس موقع پر کشمیر کے رہاشی مشہور صحافی اور سید علی گیلانی کے ایک رشتہ دار افتخار گیلانی، جو بھارت کی تہار جیل کی یاترا بھی کر چکے ہیں، کے ایک مضمون کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ مضمون ”پاکستان کی نئی حکومت، کشمیر اور نئی رپورٹ“ کے عنوان سے پندرہ روزہ معارف فیچر کراچی کے شمارے16 اپریل2022ءمیں شائع ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ مودی نے اپنا خط بنام شہاز شریف وزیر اعظم پاکستان کو لکھا اور کہا کہ امید ہے کہ پاکستان کے نئے حکمران بھارت کے کو رایشو یعنی دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑنے میں مدد کریںگے ۔(بھارت نے ”کشمیر کور اشیو “کے بجائے اس میں جاری آزادی کی تحریک آزادی دہشت گردی قرارر دے کر” کور اشیو“ بنا دیا)لکھتے ہیں کہ چندر شیکھر، اندر کمار گجروال اور اٹل بہاری واچپائی سمیت بھارت کے ورزائے اعظموں کے دلوں میں میاں نواز شریف کے لیے ہمیشہ ایک سافٹ کارنر رہا ہے۔ لکھتے ہیں کہ اس کا میں نے خود مشاہدہ کیا ہے۔صدر پرویز مشرف کے دور میں ایک پاکستانی وفد مشاہد حسین کی قیادت میں وزیر اعظم گجرال سے ملا، توگجرال نے اس کو وزیر اعظم نواز شریف کو برطرف اور قید کرنے پر ان کو خوب سنائی اور ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ واچپائی نے بھی ایک بار بتایا کہ 1988ءمیں وزیر اعظم کا عہدہ سنھبالنے سے قبل سبکدوش وزیر اعظم گجرال نے ان کو بتایا تھا کہ پاکستان میں شریف حکومت کے ساتھ معاملات طے ہوسکتے ہیں۔ جوہری دھماکوں کے بعد گجرال کی اس یقین دہانی نے لاہور بس سفر کرنے کی ترغیب دی۔ لکھتے ہیں”سنڈے آبزرور“ کے چیف ایڈیٹر محمد سعید ملک گجرال اور نواز شریف کی نیویارک میں 1996ءمیں ہوئی۔ ایک ملاقات کے وقت بھارتی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ وہ اس احوال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ” اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد واپسی پر جہاز میں گجرال سے ملاقات کے بارے پو چھا گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ ایک مطالبہ جو ان پاکستانی ہم منصب(نواز شریف) نے نہایت ہی زور و شور سے رکھا، وہ یہ تھا کہ بھارتی حکومت دبئی کے راستے ان کی شوگر مل کے لیے رعایتی نرخوں مشینری فراہم کروائے اور ان مشینوں پر میڈ ان انڈیا کا لیبل نہ لگا ہو۔اس کے بعد کسی نے بھی بھارتی وزیر اعظم سے کشمیر یا دیگر امور پر سوال پوچھنے کی زحمت نہیں کی۔جبکہ اس سے قبل کئی صحافی اس امور سے متعلق سوالات پوچھنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ خود مودی نے بھی نواز شریف کی تعریفیں کیں۔صاحبو!اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ نواز شریف کو بھارت سے دوستی کرنے کی غرض اپنے شوگر مل کے لیے بھارتی مشینری ہی چاہےے ۔ اس لیے کشمیر کو ایک طرف رکھ کر تجارت کی باتیں کی جاتی رہیں۔شاید اسی لیے مودی اور اس کے ساتھیوں لاہور جاتی امرا ،اپنے گھر بغیر وزیزوں کے لیے بلایا گیاتھا۔ بھارتی اسٹیل ٹائیکون سے مری میں بغیر وزیے کے ملاقات کی۔ بھارتی جاسوس گلبھوشن کی گرفتاری پر منہ بند رکھا۔بقول عمران خان، لندن میں بیٹھ کر بھارتی خفیہ والوں سے ملاقاتیں کیں۔ عوام کب ایسے سیاست دانوں سے جان چھڑا کر کرپشن فری جماعت اسلامی کو اقتدار میں لائیںگے ۔پاکستان میں اسلامی نظام حکومت قائم کرنے والی جماعت اسلامی کے آنے سے عوام کے مسائل حل ہو جائیں۔پھر ذاتی مفاد اور اقتدار کی ہوس والے” ووٹ کو عزت دو“ اور” الیکشن کی ڈیٹ دو“کے نعروے لگانے والے سے عوام کی جان چھوٹے گی۔