- الإعلانات -

وزیراعظم کاقوم سے حوصلہ افزااورباوقارخطاب

وزیراعظم پاکستا ن نے اقتدار سنبھالنے کے بعدپہلی بار قوم سے خطاب میں غریب عوام کے لئے اربوں روپے کی سبسڈی دینے کااعلان کیاہے یہ یقینا ایک حوصلہ افزا اعلان ہے کیونکہ اس سے معاشرے کے غریب ترین طبقات کو اپنے قدم جمانے کاموقع ملے گا کیونکہ موجودہ دورمیں جس قدرمہنگائی کاجن سراٹھائے کھڑاہے ان حالات میں یہ غریب کے لئے جیناتقریباً دوبھرہوچکاہے۔ وزیراعظم پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات پرغریب طبقات کے لئے دوہزار روپے سبسڈی دینے کااعلان کیاہے جو خوش آئندہے مگر ہونایہ چاہیے تھاکہ موٹرسائیکل ،رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں کے لئے پٹرول کی شرح قیمت میں رعایت دی جاتی تاکہ ان تک اس سبسڈی کے اثرات براہ راست پہنچتے مگر پھربھی ہم سمجھتے ہیں کہ حکومتی اقدامات غریب عوام کی تسلی اورتشفی کے لئے بہترین ہے چونکہ سابقہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول نہ کئے جانے کے باعث حالات اس نوبت تک آپہنچے کہ ڈالر دوسوروپے کو کراس کرگیا اورپٹرولیم مصنوعات بھی اس قیمت پرآپہنچی ان حالات میں وزیراعظم کاگزشتہ روز کاخطاب حوصلہ افزاہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بوجھ سے بچانے کیلئے 28 ارب روپے کے فنڈ سے پیکج کا آغاز کر رہے ہیں۔ غریب گھرانوں کو 2 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ قوم نے جس ذمہ داری کے لیے مجھے منتخب کیا وہ میرے لیے اعزاز ہے، وزیراعظم کا منصب سنبھالنا کسی کڑے امتحان سے کم نہیں، اپنے قائد نوازشریف اور اتحادی جماعتوں کا شکرگزار ہوں، پاکستان کے عوام نے مطالبہ کیا کہ اس نااہل اور کرپٹ حکومت سے ان کی فوری جان چھڑائی جائے۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے عوام کی آواز پر لبیک کہا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سنبھالی تو ہر شعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا، ایسی تباہی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی جو چار سال میں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا،ملک کو بہتری کے راستے پر گامزن کرنے کیلئے انتھک محنت درکار ہوگی، ہماری سیاست کے ریشوں میں نفرت کا زہر بھر دیا گیا۔ ایک شخص نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے سازش کی کہانی گڑھی، امریکا میں ہمارے سفیر نے بھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کردیا، قومی سلامتی کمیٹی نے بھی دو مرتبہ سازش کی کہانی کو مسترد کیا، ایک شخص قومی تعلقات اور سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا رہا ہے، پاکستان آئین کے مطابق چلے گا کسی ایک کی ضد سے نہیں۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں پاکستان نمایاں ترقی کررہا تھا، اس شخص کی ہٹ دھرمی اور دھرنے سے چین سے معاہدہ تاخیر کا شکار ہوا۔چینی صدراس وقت تاریخی معاہدہ کرنے پاکستان آرہے تھے، اس شخص کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے چینی صدرکا دورہ تاخیرکا شکارہوگیا تھا، عوام کے جان ومال کوتحفظ بنانا اولین ترجیح ہے۔تحریک عدم اعتماد سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئینی طریقے سے حکومت بدلی گئی اور دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں۔شہباز شریف نے عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا ہم نے نہیں، عوام کو مہنگائی کی چکی میں آپ نے پیسا ہم نے نہیں، ملک کو تاریخ کے بدترین قرض کے نیچے دفن کردیا،سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دور میں ہوئی۔ ملک میں لوڈ شیڈنگ کے اندھیرے آپ کے دور میں ہوئے، میری خدمات عوام کے سامنے ہیں، ہمارے سامنے صرف اور صرف ایک مقصد ہے، ہم مشکل فیصلہ کرنے کو تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی سانسیں بند ہوئے تو ذمہ دارآپ ہیں، ماضی میں بھی ہم نے مشکل حالات کا کامیابی سے سامنا کیا تھا، ہمارا ایک ہی مقصد وطن عزیز کو خوشحال اور قائد کا پاکستان بنانا ہے، انہیں یاد دلانا چاہتا ہوں آئی ایم ایف سے معاہدہ آپ نے کیا، آئی ایم ایف کی سخت شرائط آپ نے مانی ہم نے نہیں، ملک کومعاشی دلدل میں آپ نے دھنسایا ہم نے نہیں۔ ہم نے حکومت نے سنبھالی تو مہنگائی عروج پر تھی، ڈالر 2018 میں 115 پر چھوڑ کرکے گئے تھے، سابق حکومت کے پونے چارسال میں ڈالر189 تک پہنچ گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز دل پر پتھر رکھ کر پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا لیکن یہ فیصلہ کیوں کیا یہ آپ کے سامنے لانا ضروری ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانے کیلئے ناگزیر تھا، اس نہج پر پاکستان کو گزشتہ حکومت نے پہنچایا۔ قوم کو پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بوجھ سے بچانے کیلئے 28 ارب روپے کے فنڈ سے پیکیج کا آغاز کر رہے ہیں۔ غریب گھرانوں کو 2 ہزار روپے دیے جائیں گے۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ان تمام فیصلوں کے ثمرات اوران کی وجوہات کے حوالے سے عوام کو اعتماد میںلیا۔وزیراعظم کاخطاب اس لحاظ سے بھی لائق تعریف تھا کہ اس میں انہوں نے کسی حزب اختلاف کے قائد کوحرف تنقیدنہیں بنایا اورنہ ہی ان کے نام بگاڑے۔ یقینا ایک قومی رہنما کو اسی تدبر اورتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے قوم کو اعتمادمیں لیناچاہیے۔
اوآئی سی کایاسین ملک کی رہائی کامطالبہ
بھارت کی جانب سے عظیم حریت پسندرہنمااورتحریک آزادی کے سرخیل رہنمایاسین ملک کو ایک جھوٹے اوربے بنیادمقدمے میں پچیس سال کی سزاسنائے جانے کے خلاف دنیابھرمیں مذمت کئے جانے کاسلسلہ جاری ہے ۔اس حوالے سے پاکستان کے سابق صدرآصف علی زرداری نے اپنے ذاتی خرچ پران کامقدمہ دنیا کے ہرفورم پرلڑنے کااعلان کیاہے مگر اس کے ساتھ ساتھ سب سے حوصلہ افزابات یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی بین الاقوامی سطح پر نمائندہ تنظیم اوآئی سی نے بھی اس کی کھل کرمذمت کی ہے اوراس حوالے سے بھارت سے مطالبہ کیاہے کہ وہ اس عظیم رہنماکی سزاختم کرے۔اسلامی تعاون تنظیم نے معروف کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کو بھارتی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا سنائے جانے پر شدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ حق خودارادیت کی جدوجہد میں یکجہتی کا اعادہ کیا اورجنرل سیکرٹریٹ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیریوں کی ان کے حقوق کے حصول کےلئے جائز جدوجہد کودہشت گردی کے ساتھ نہ جوڑاجائے، بھارتی حکومت غیر منصفانہ طور پر قید تمام کشمیری رہنماﺅں کو رہا کرے ، غیر قانونی طور پرزیرقبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے بہیمانہ اور منظم ظلم و ستم کو فوری طور پر روکے اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج حق کا احترام کیاجائے کہ وہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں ۔ عالمی برادری اس بات کو یقینی بنائے کہ کشمیریوں کی ان کے حقوق کے حصول کے لیے جائز جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ مساوی نہ کیا جائے۔ بھارتی حکومت غیر منصفانہ طور پر قید تمام کشمیری رہنماﺅں کو رہا کرے، بھارت کے غیر قانونی طور پرزیرقبضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں پر ہونے والے بہیمانہ اور منظم ظلم و ستم کو فوری طور پر روکے اور مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق کا احترام کر ے کہ وہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کریں جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ہے۔ادھرپاکستان نے بھارت سے کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں بھارت کی جانب سے حریت رہنما یاسین ملک کو جعلی اور مشکوک کیس میں سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کی۔ اس معاملے پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا جبکہ وزیر خارجہ نے یاسین ملک کی جلد اور فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ہندوستانی عدالتوں نے اس سے قبل بھی کئی ایک ایسے فیصلے سنائے ہیں جو نہایت مضحکہ خیز ہیں۔ ان عدالتوں کے پڑھے لکھے جج اور چیف جسٹس ہیں جو ان داستانوں کی بنیاد پر فیصلے سنا دیتے ہیں جس سے ان کی خوب جگ ہنسائی بھی ہوتی ہے۔ اگر دنیا کے کسی ملک میںہم مذہبوں کے زبان دعوو¿ں پر فیصلے سنائے جاتے ہیں تو وہ دنیا کا واحد ملک بھارت ہے ۔ کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا گیا کہ ہندوستانی عدالت نے انہیں بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے دہشتگرد قرار دے کر عمر قید کی سزا سنا دی۔ یاسین ملک کا صرف اتنا ہی قصور ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں اور بھارت کے تسلط سے کشمیر کو نکالنا چاہتے ہیں ۔ ہندوستانی عدالتیں تعصب کی تمام تر حدیں عبور کر چکی ہیں ۔