- الإعلانات -

دہشتگردی کی نئی قسم

uzairahmedkhanابھی اٹک اورجہلم میں ہی ڈینگی سپرے کے ذریعے طالبات کو موت کے منہ کے نزدیک پہنچایا جارہا تھا کہ خدا خدا کرکے وزیراعلیٰ پنجاب نے ایکشن لیا ۔ان ایکشن ہونے کے بعد اب مزید ڈینگی سپرے روک دیا گیا ہے ۔جب منظوری ہوگی پھر مزید سپرے کیا جائیگا ۔ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے صوبہ سندھ نے سوچا کہ ہم کیوں پیچھے رہ جائیں وہاں پر کراچی کے ڈاکٹروں نے اپنے مطالبات کی وجہ سے ہڑتال کردی ۔مطالبات ان کے شاید مریضوں کی زندگیوں سے بھی اعلیٰ اورارفع تھے ۔سڑک کے کنارے بیٹھے نعرے لگاتے رہے ”ساڈا حق ایتھے رکھ “مریض وہاں تڑپ تڑپ کر جان دیتے رہے ۔مگر ان مسیحاﺅں کو ذرا سا بھی رحم نہ آیا ۔کیونکہ ان کے مطالبات پورے نہیں ہورہے تھے ۔پیسے تو شاید انہیں آج نہیں کل مل جاتے ۔مہینے کے بعد مل جاتے ،مگر جو قیمتی زندگیاں چلی گئیں۔کسی کا سہاگ اجڑ گیا ،کوئی بچے یتیم ہوگئے ،کسی ماں کی کوک ویران ہوگئی ،کسی بہن کا بھائی بچھڑ گیا ،کسی بچے کے سر کاسایہ اٹھ گیا ،یہ تو کبھی نہیں واپس آسکتے چاہے دنیا بھر کی دولت کے ڈھیر لگا دئیے جائیں ۔مطالبات مانگنے والوں کو فالتو سہولیات بھی دیدی جائیں مگر ان اموات کا کون ذمہ دار ہوگا۔راقم نے گذشتہ روز ہی اس بات کی جانب نشاندہی کی تھی کہ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے یہاں پرتعلیم اورصحت کی سہولیات کاانتہائی فقدان ہے ۔اب ہسپتال کے انچارج نے رینجرز کو خط لکھ دیا کہ وہ ہڑتال ختم کرائیں ۔رینجرز کیا کیا کریں گے ۔خدارا اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کر دیکھیں کہ اپنی غلطیاں کون کون سی ہیں ۔کیا ہڑتال اتنی ہی لازمی تھی اس کابھی تو کوئی طریقہ کار ہوسکتا تھا کہ کم از کم ایمرجنسی میں مریضوں کو دیکھنے کا سلسلہ بحال رہتا ۔یہ ظلم تو شاید تاریخی ظلم ہے ،شہر قائد میں شرپسند اوردہشتگردوں کیخلاف آپریشن کی وجہ سے امن وامان قائم ہوا،ٹارگٹ کلنگ میں کمی واقع ہوئی ،روشنیاں دوبارہ بحال ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن اب یہ ایک نئی ڈاکٹرز گردی شروع ہوگئی ہے ۔نو افراد کالقمہ اجل بن جانا کوئی معمولی بات نہیں ۔حکومت سندھ کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے فوری ایکشن لیتے ہوئے ہسپتال سے ڈیوٹی روسٹر منگوائے اورجو جو بھی اس وقت ڈیوٹی پر تھے لیکن ہڑتال کرکے چلے گئے ان کیخلاف انتہائی تادیبی کارروائی کرنی چاہیے ۔تاکہ آئندہ آنے والے دنوں میں اس قسم کی کوئی جسارت نہ کرسکے ۔ہمارے ملک میں تو عوام بے چاری پیدا ہی مرنے کیلئے ہوئی ہے ۔نہ اس کو حقوق ملتے ہیں نہ روٹی نہ کپڑا نہ مکان۔قربانی کی جب بھی بات ہوتی ہے تو سب سے پہلے عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے ۔سائیں کی سندھ میں حکومت ہے ان کے وفاق سے تو بے تحاشا شکوے ہیں ۔کہتے ہیں کہ آپریشن کی ٹیم کا کپتان میں ضرور ہوںمگر مجھ سے کوئی پوچھا گچھا جاتا نہیں ۔سندھ کے معاملات میں وفاق مداخلت کررہا ہے سائیں سے پوچھا کہ جب ایسے حالات تو وفاق مداخلت نہیں کرے گا تو کیا کرے گا ۔صرف کپتان ہونا ہی کافی نہیں اس کےلئے جاگتے رہنا اورباہوش وحواس قائم رہنا بھی بے حد ضروری ہے ۔پہلے تھر میں اتنے لوگ پیاس اورافلاس سے مر گئے ۔سائیں چمچماتی گاڑیوں میں گئے تو حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے حقداروں کوغالباً ہزار روپے کے قریب مدد کرآئے تھے ۔یہ بھی بڑی مدد تھی مگر شاید اس علاقے کے لوگوں نے کبھی ہزار کا نوٹ بھی دیکھا نہیں ہوگا پھر اگر وہ اسے خرچ نہ کرتے بلکہ جس کو دیا تھا وہ اس کو گھر میں فریم کرکے لگوا لیتا تو یہ بھی ایک تاریخی اقدام ہوتا ۔اب تو سائیں کو ہوش میں آجانا چاہیے ۔سندھ حکومت کے حوالے سے جتنے مسائل اس وقت وفاق کو درپیش ہیں کسی بھی صوبے سے اتنے مسائل درپیش نہیں ۔دہشتگردی وہاں ہورہی ہے ،ٹارگٹ کلنگ وہاں ہورہی ہے ،چائنا کٹنگ وہاں ہورہی ہے ،فائرنگ وہاں ہورہی ہے ،آتشزدگی کے اچانک واقعات وہاں رونما ہورہے ہیں ،کریکر دھماکے وہاں ہورہے ہیں،فائرنگ وہاں ہورہی ہے ،زندگی وہاں پر ارزاں ہے ،انسانی خون وہاں پر بے مول ہے ،موت کا وہاں پر راج ہے ،غریب اپنی زندگی کی بھیک مانگتا پھر رہا ہے ،ان تمام چیزوں کا کون ذمہ دار ہے یہ تو وزیراعظم نوازشریف کو اور آرمی چیف کو دعا دینا چاہیے کہ وہاں پر رینجرز نے شرپسند عناصر کیخلاف جو آپریشن شروع کررکھا ہے اس کی وجہ سے بہت حد تک اب عوام سکھ کا سانس لینے کے قابل ہوچکی ہے ۔اگر یہ معاملات سائیں کے ہاتھ میں رہتے تو شاید وہاں پر اوپر بیان کی گئی جو بھی خوبیاں ہیں ان میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہوتا ۔مسئلہ دراصل یہ ہے کہ اب حکومت یہ فیصلہ کرچکی ہے کہ وہ دہشتگردعناصر،کرپٹ عناصر ،چائنا کٹنگ عناصر ،بھتہ خور عناصر ،قبضہ گروپ عناصر ،ٹارگٹ کلر عناصر کے اصل ماسٹر مائنڈ تک پہنچیں گے اور یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب سہولت کاروں پر ہاتھ رکھا جائیگا لہذا وفاق کو چاہیے کہ وہ جناح ہسپتا ل میں ہڑتال ہونے کی وجہ سے جو بھی اموات ہوئی ہیں ان کے پیچھے جو بھی عناصر کارفرما تھے انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے بھی کردار ادا کرے ۔