- الإعلانات -

ایم کیو ایم کی حقیقت اور کڑوا سچ

 صحافت کی خارزار وادی میں25 سالہ دشت نوردی سے یہ سبق حاصل ہوا کہ ہمارا معاشرہ نہ تو سچ سنتا ہے اور نہ ہی سچ کو قبول کرتا ہے اور یہ کہ دنیا میں سب سے مشکل ترین کام سچ کا بولنا ہے ۔ ہمارا معاشرہ سچ کو جھوٹ کے خوشنما لبادوں میں لپیٹ کر سننے کا روادار ہے ۔ کھرا سچ اسے ہرگز قبول نہیں یہ الفاظ لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ الطاف حسین نے جب پاکستان مخالف نعرے لگانے شروع کیے تو اچانک ہماری حکومت کی مشینری حرکت میں آکر اس پر ہلہ بولتی ہے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے 8گھنٹے اپنے پاس رکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور برسوں سے اس کے رفیق کار رہنے والے یہ کہہ کر اپنے جان چھڑا گئے کہ ہمیں تو اس بات کا علم نہیں کہ الطاف بھارت کیلئے کام کرتا ہے اور ہم تو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی پیدائش ہی پاکستان مخالف نعرے پر ہوئی ۔ 1979ءمیں جب الطاف حسین نے جو اس وقت آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کرتا دھرتا تھے نے مزار قائد پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم نذر آتش کیا تو اس کو غدار ڈکلیئر کیوں نہیں کیا گیا محض ایک سال قید اور چند کوڑے اور پھر اس کے بعد کھلی چھٹی کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کی ساری پرورش اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے ہوئی محض اس لئے کہ سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا صفایا کیا جاسکے ایک امر نے اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے ملک دشمن افراد کے ٹولے کو قومی دھارے کی سیاست میں لے آیا۔ میں نے عرض کیا کہ سچ بولنا بہت مشکل ہے مگر کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان آرمی کے ایک باوردی میجر کلیم کو ایم کیو ایم کے غنڈے اغواءکرکے نائن زیرو پر لے گئے اور اس کے جسم میں جیتے جاگتے ہوئے ڈرلوں سے سوراخ کیے گئے اسے تڑپا تڑپا کر شہید کردیا گیا کیا یہ سچ نہیں کہ وہ پاکستان مخالف عناصر کے تعاقب میں ان غنڈوں کے ہتھے چڑھ گیا ، کیا یہ سچ نہیں کہ اس کے لہو کا قرض آج تک نہیں چکایا گیا۔ ایم کیو ایم نے کشمیر ایشوز پر ہمیشہ پاکستان کی مخالفت کی اور بھارت کی حمایت کی ، کیا یہ سچ نہیں کہ الطاف حسین نے بھارت کا دورہ کیا اور اس دورے کے دوران اسے جو مثالی پروٹوکول دیا گیا وہ ایک سربراہ مملکت کا تھا اور پھر وہاں پر اس نے جو پاکستان کیخلاف زبان استعمال کی اس پر اس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا؟۔ الطاف حسین جیتا جاگتا پاکستان دشمنی کا ایک ثبوت ہے مگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اس سچ سے آنکھیں چراتی چلی آئی ۔ بات کہنی ذرا مشکل ہے مگر سچ کو آنچ نہیں جب پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں سندھ کے وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے سر پرقرآن مجید رکھ کر ایم کیو ایم کے راز کھولے اور الطاف حسین کو بھارتی ایجنٹ کہا تو اس وقت کے صدر مملکت نہ صرف اس سے ناراض ہوگئے اسے پارٹی سے نکال دیا گیا اس کیخلاف مقدمات درج کرائے گئے اور آج اپنے آپ کو محب وطن کا دعویٰ کرنے والے فاروق بھائی صبح و شام اس کے خلاف بیان بازی کرتے رہے اور الطاف حسین کو محب وطن قرار دینے میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے ۔ ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ جب ایم کیو ایم کے ہی ایک منحرف مصطفی کمال نے پاک سرزمین پارٹی بنانے کا اعلان کیا تو ہمارے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلانیہ کہا کہ میں کسی کی پریس کانفرنس پر ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا اور اسے غدار قرار نہیں دے سکتا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ وزارت داخلہ کی الماریوں میں ان ملک دشمن عناصر کے خلاف واضح ثبوت موجود ہیں ؟۔ سابق وزیرداخلہ میجر جنرل نصیر اللہ خان بابر کے دور میں ایم کیو ایم کے خلاف کیے جانے والے آپریشن اور تمام ثبوت کیا آج سرکار کے پاس نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون؟۔ سوال صرف حب الوطنی کا ہے ، سوال صرف سچ کے بولنے کا ہے ، حکومت بھی سچ نہیں بول رہی اور ایم کیو ایم والے بھی سچ نہیں بول رہے صرف اپنی چمڑی کو ادھیڑے جانے کے خوف سے انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا مگر دل آج بھی ان کے غدار ،ملک دشمن الطاف کے ساتھ دھڑک رہے ہیں ۔ پاکستان کے 20کروڑ عوام نے فاروق ستار کی رینجر کے پاس آٹھ گھنٹے مہمان رہنے کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس کو غور سے دیکھا اس میں کہیں بھی الطاف حسین کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ لفظوں کا ہیر پھیر کیا گیا اور کہیں بھی پاکستان کے ساتھ ہمدردی ، وفاداری کا اظہار نہیں کیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ نائن زیرو الطاف حسین کی ملکیتی مکان ہے جسے وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر سربمہر کردیا گیا اب جب فاروق ستار کا الطاف حسین کے ساتھ رابطہ ہی نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بار بار اسے کھلوانے پر زوردے رہے ہیں؟۔ کیا ریاستی اداروں کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ فاروق ستار اس قوم کو بیوقوف بنا رہا ہے ۔ ایک واضح پالیسی اپنانی چاہیے کہ اگر یہ لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں تو ایک نئی سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرواکر میدان عمل میں اتریں اور اس ملک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کریں ۔ کتنے افسوس کی بات ہے جو ملک ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانیوں دے کر حاصل کیا تھا جس کے حصول کیلئے ہزاروں عصمتوں کو ہندو درندوں نے پامال کیا کوئی کتا اٹھ کہ اس کے خلاف بھونکنا شروع کردیتا ہے اور اس کیخلاف نعرے لگانا شروع کردیتا ہے محض اس لئے کہ کوئی ملک دشمن قوت اسے ہڈی ڈال دیتی ہے اور وہ حق ادا کرنے کیلئے پاک سرزمین کیخلاف بھونکنا شروع کردیتا ہے ۔ سیاسی عمل اور دہشت گردی دو الگ چیزیں ہیں میں ایم کیو ایم پر پابندی کے حق میں نہیں تاہم اسے اس مٹی کے ساتھ وفاداری کو ثابت کرنا ہوگا۔ لیکن اگر کسی بھی سیاسی جماعت کے اندر اس کی صفوں میں کوئی دہشت گرد وطن دشمن عناصر موجود ہیں تو اسے پھر ان سے نہ صرف لاتعلقی بلکہ اسے قانون کے حوالے کرنے میں مدد بھی فراہم کرنا ہوگی بصورت دیگر وہ بھی ملک دشمن تصور ہوگی اور آخر میں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پوری قوم بے حس ہوچکی ہے جب ایک لندن میں بیٹھا ہوا شخص اس دھرتی کے خلاف بکواس کررہا تھا تو اس وقت پوری قوم کو چاہیے تھا کہ سڑکوں پر قومی پرچم لے کر نکل آتی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے خیبر سے کراچی تک گونج اٹھتا اس وقت پوری دنیا کو یہ علم ہوجاتا کہ بقول شاعر
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی یہ پہچان پاکستا پاکستان
٭٭٭٭٭