- الإعلانات -

حکومت عوام پر مہنگائی کا بم مارنے سے گریز کریں

مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آئی ہوئی عوام کا خیال تھا کہ عمران خان کی حکومت نہ تجربہ کاری کی وجہ سے قیمتوں کو کنٹرول نہیں کر پارہی اور پی ڈی ایم کی حکومت آتے ہی نہ صرف ان قیمتوں کو کنٹرول کرے گی بلکہ بیرونی ممالک سے اپنے سابقہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ملکی معیشت کی بہتری کیلئے کوئی بنیادی اقدامات کرے گی مگر اب تو یہ عالم ہوگیاہے کہ نہ جائے رفتن ،نہ پائیں ماندن، حکومت نے ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ کردیا ہے کہ ان کا جینا دوبھر ہوگیا ہے اور وہ اس مہنگائی پر بلبلا اٹھے ہیں ، عجب تحفہ تماشا ہے کہ مہنگائی کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا گیا ہے جبکہ حکومت یہ کہہ کر اپنی جان چھڑارہی ہے کہ یہ سابقہ حکومت کا کیا دھرا ہے مگر عوام اس سے ہرگز تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور وہ اسے اپنے پاکستان پاکستان میں پیدا ہونے کی سزا تصور کررہے ہیں ، وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے فی لٹر قیمت میں مزید 30 روپے اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ۔ حکومت کی جانب سے ایک ہفتے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ کیا گیا۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت 209 روپے 86 پیسے ہوگی، ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے ہوگی، لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے 31 پیسے فی لٹر، مٹی کا تیل 181روپے 94پیسے کردی گئی، آج بھی ہم ڈیزل پر 54روپے سبسڈی دے رہے ہیں، 31مئی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت مزید بڑھ گئی، شوکت ترین اور عمران خان نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا ہے اس پر چلنا پڑے گا، آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مزید بڑھائے جائیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھانا ناگزیر ہے۔37روپے پٹرول اور 54 روپے ڈیزل فی لٹر پر نقصان ہو رہا ہے، چین نے 2.3 ارب ڈالر کا قرضہ 25 مارچ کو واپس لینے کا کہا تھا، چین پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر دے گا، چین نے اس قرض کو زرمبادلہ کے ذخائر میں رکھنے کے لیے کڑی شرائط لگائیں، وزیر خارجہ بلاول بھٹو اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اس میں اپنا کردار ادا کیا، چین نے اب یہ قرضہ 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد کردیا ہے، آج ہمیں لیٹر مل گیا کہ چین ہمیں پیسے دے دے گا، چین سے پیسے ہمیں چند دن میں ملیں گے، یہ پیسے آنے سے روپے کی قدر میں استحکام آئے گا۔ عمران خان نے 60 لاکھ لوگوں کو بیروزگار کیا، سابق وزیراعظم نے تاریخ میں دوسری دفعہ منفی گروتھ دی، اگر قیمتیں نہ بڑھاتے تو حکومت کو 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا، ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں، ایسا نہ کریں تو کیا ملک کو دیوالیہ کر دیں؟، حکومت پاکستان میں نقصان میں ڈیزل اور پٹرول نہیں بیچ سکتی۔ یوٹیلٹی سٹورز پر چینی 70، آٹا 40 روپے کلو میں ملے گا، چاول، گھی اور چینی پر سبسڈی دی جائے گی، ہمیں کچھ وقت دیجئے اگلے سال جب الیکشن ہوگا ہم جیتیں گے اور چیزیں بہتر ہونگی، جب خان صاحب روس سے واپس آئے تو کہیں پٹرول کی خریداری کا ذکر نہیں تھا، جب عمران خان جا رہے تھے دو دن پہلے خط لکھا، اس خط کا ابھی تک روس نے جواب نہیں دیا، ہمیں کوئی سستا تیل دے تو ہم کیوں نہ لیں، ہمیں گندم روس دے، یوکرین جو سستا دے گا ہم لیں گے، کوئی بھی ڈسکانٹ دے ہم لینے کو تیار ہیں۔اس سے قبل وفاقی حکومت نے 26 مئی کو ملکی تاریخ میں پہلی بار پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر کا بڑا اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔وفاقی حکومت کی طرف سے چند روز قبل آئی ایم ایف کی طرف سے دبا کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے جانے کے بعد بجلی کی قیمتوں میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ کا بڑا اضافہ کردیا گیا ۔نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا)نے مہنگائی کے مارے عوام کو بجلی کا زور دار جھٹکا دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 2022-23کے لئے نیشنل اوسط ٹیرف 24 روپے 82 پیسے مقرر کیا گیا ہے، اس سے پہلے نیپرا کا تعین کردہ ٹیرف 16 روپے 91 پیسے تھا جو کہ اب بڑھ کر 24 روپے 82 پیسے ہو گیا۔نیپرا نے ٹیرف وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے جس کے بعد وفاقی حکومت اوسط اضافے پر نوٹیفکیشن جاری کرے گی، ٹیرف کا اطلاق وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے بعد ہوگا۔نیشنل الیکٹرک اینڈ پاور ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق ٹیرف بڑھانے کی وجہ کیپسٹی لاگت، عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہے، روپے کی قدر میں کمی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاقی حکومت اپنے اخراجات میں کمی لاتی اور بااثر طبقات پر اس کا بوجھ ڈالتی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وزراءاپنے خرچے کم نہیں کرتے ، تمام اعلیٰ افسران بھاری گاڑیاں رکھے ہوئے ہیں ، ان کا بجلی ، گیس اور پیٹرولیم کے ساتھ کوئی عملی تعلق نہیں ہے کیونکہ انہیں یہ سب چیزیں مفت فراہم کی جاتی ہے ، حکومت کو چاہیے کہ وہ مراعات یافتہ طبقات کی مراعات کو کم کرکے عوام پر پڑھنے والے بوجھ کو کم از کم حد تک لاتی تو اسے موجودہ حکومت کا اخلاص سمجھا جاتا ، دوسری جانب اسمبلیوں سے استعفے دینے والے ممبران اسمبلی برابر اپنی مراعات سرکاری خزانے سے وصول کررہے ہیں ، سابقہ وزراءابھی تک سرکاری گاڑیاں اور سرکاری مراعات استعمال کررہے ہیں اور ان دونوں کا بوجھ ایک عام آدمی کو برداشت کرنا پڑرہا ہے ، کئی ایسا نہ ہو کہ غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کے ہاتھوں ستائے عوام اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آجائے اور انقلاب برپا نہ کردے کیونکہ انقلاب ہمیشہ احساس محرومی اور غربت میں پروان چڑھا کرتے ہیں ، اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ مراعات یافتہ طبقات کی مراعات یکسر ختم کریں اور غریب عوام پر پڑھنے والے بوجھ کو کم کریں ورنہ حالات حکومت کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اور پھر کوئی طاقت اسے کنٹرول نہ کر پائے گی۔
عمران خان ملک دشمنی سے گریز کریں
سابقہ وزیر اعظم عمران خان نے حکومت سے علیحدگی کے بعد ایسے بیانات دینے کا سلسلہ جاری کیا ہوا ہے جو نہ صرف ان کی مایوسی کو ظاہرکررہا ہے بلکہ اب وہ آئین سے باہر نکلتے دکھائی دے رہے ہیں ، گزشتہ روز انہوں نے ملک کے تین ٹکڑے اور فوج کے کئی ٹکڑے کرنے کا جو بیان دیا ہے اسے حکومتی حلقوں نے بھی نہایت سنجیدگی سے لیا ہے اور اب وہ ان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے پر غور کررہے ہیں ، اسی حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان ملک کے خلاف کھلی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اگرکسی کو ثبوت کی ضرورت تھی کہ عمران حکومتی عہدے کے لئے نااہل ہیں تو ان کا تازہ انٹرویو کافی ہے۔ سیاست کریں لیکن اس میں حد پارکرتے ہوئے پاکستان کو تقسیم کرنے کی بات کرنے کی جرات نہ کریں۔ میں ترکی میں ہوں اورپاکستان اورترکی کے درمیان مختلف معاہدوں پردستخط کررہا ہوں۔ عمران خان عوامی عہدے کے لیے نااہل ہیں ،ان کا حالیہ انٹرویو ہی بڑاثبوت ہے۔ عمران اپنی سیاست کریں لیکن حد سے تجاوز نہ کریں۔پاکستان کی تقسیم کی بات کرنے کی ہمت نہ کریں،عمران خا ن کوچاہیے کہ ملک میں سنجیدہ سیاست کو فروغ دیں اور انتہا پسندی کی راہ پر نہ چلے کیونکہ اس سے ملک کو نقصان پہنچے نہ پہنچے ان کی اپنی سیاست کا بیڑا غرق ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان کی سب سے بڑی محافظ افواج پاکستان ہے جو اپنی جان پر کھیل کر اس کے ایک ایک چپے کی حفاظت کرنا بخوبی جانتی ہیں ۔