- الإعلانات -

اپنے اپنے طوطے ہیں

قسمت کافال نکالنے والے کے پاس ایک طوطا ہوتا ہے ۔ وہ فٹ پاتھ پر بیٹھا قسمت کے مارے غریب لوگوں کو فال نکال کر آنے والے دنوں کاحال بتاتا ہے۔ ویسے جن لفانوں میں قسمت کاحال لکھا ہوتا ہے وہ خو ش قسمتی سے سب کا سب اچھا ہی ہوتا ہے۔ ایسا ہی الیکشن کے وقت سیاسی پارٹیوں کے منشور میں غربت ، مہنگائی اوربے روزگاری کے مارے عوام کے لیے سب اچھا ہی لکھا ہوتا ہے۔ وہ بھی الیکشن کے دوران عوام سے کہتے ہیں کہ عوام ہمیں الیکشن جتوائیاں ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے۔ مگر تیس(30) برس سے باریاں بانٹ کر حکومتیں کرنے والوں اور چار سال حکومت کرنے والے نے نہ مہنگائی ختم کی نہ آسمان سے ستارے توڑ لائے اور نہ ہی بانی پاکستان قائد اعظمؒ کے وژن کے مطابق ملک میں اسلامی نظام حکومت قائم کیا۔قسمت کا حال طوطے کے ذریعے بتانے والے اپنا حال چائے کتنا ہی خراب ہو کہ ہوفٹ پاتھ پربیٹھا جھوٹ موٹ کاکاروبار کر رہا ہوتاہے۔ سیاست دان بھی جب سیاست میں پہلے پہل آتے ہیں۔ تو ان کا حال بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئی سینما کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت کر رہا ہوتا ۔کسی کا لوہے کاروبار ہوتا ہے۔وہ ہتھوڑے مار مار گرم لوہے کو موڑنے کا کام کر رہا ہوتا ہے۔ اب وہ اربوں کے اثاثے رکھتے ہیں۔ ان سیاست دانوں نے سیاست کو عبات کی بجائے کاروبار بنا دیا ہے۔ کروڑ لگاﺅ اقتدار میں آکر کرپشن کر کے اربوں کماﺅ۔جب اقتدار تمھارے پاس آئے تو کرپشن کرو اورپھر کرپشن کا ریکارڈ بھی غائب کر دو۔جیسے ایک سیاسی پارٹی کے صدر اور اب شریک چیئرمین کے مقدمے میںنیب کا سربرایہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ اربوں کی کرپشن کیس کی فوٹو اسٹیٹ پر کاروائی نہیںکر سکتے ۔لہٰذا کیس داخل دفتر کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں نیب کے سربراہ نے نیب کے چوکیدار کو دس ہزار روپے انعام دیا ہے۔ اس نے شریف خاندان کے کرپشن کے کیس کا ریکارڈ، جس پر انہیں عدالت نے سزائیاں سنائیں ، نیب کے ایک بندے کو چوری کرتے ہوئے پکڑا۔ سیاسی پارٹیوں کے طوتے کرپشن پر تو بات نہیں کرتے۔ بلکہ اپنے اپنے چوروں کی حمایت میںگھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں۔ اے کا ش! کہ ان کو سب چووں کوچور کہنے کی بھی صلاحیت ہو۔ آج کل یہی حال جیو اور اے آ روائی ٹی وی اسٹیشن کے طوتوں کا ہے۔ ایک نون لیگ کے حال احوال بتاتا ہے تو دوسرا تحریک انصاف کا۔ کوئی بھی پاکستان کی اساس کی بات نہیں کرتا۔ پاکستان، بانی ِپاکستان نے کلمہ” لا الہ الا اللہ “ کے نام سے حاصل کیا تھا۔ قائد اعظم ؒ نے کہا تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظامِ حکومت رائج کریں گے۔ کیاہی اچھا ہوتا کہ مملکت کا چھوتھا ستون صحافت، چاہے وہ پرنٹ میڈیا ہو چاہے الیکٹرونگ میڈیا ہو، غیر جانب داری سے سیاسی پارٹیوں کے حال احوال بتاتے۔ عوام کی تربیت کرتے۔ سیاسی پارٹیوںکی اچھایاں اور برائیاں سے عوام کو آگاہ کرتے۔ عوام کو برائیوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے پر اُکساتے۔اچھائیوں کو مان کر آیندہ آنے والے الیکشن میں عوام اور مملکت کے حق اچھا کام کرنے والے کو دوبارہ منتخب کرکے ایوان زیرین( پارلیمنٹ ) میںبھیجتے ۔ برائیاں کرنے والی سیاسی پارٹیوں کر رَد کرتے ۔ ان کو موقعہ دیتے کہ وہ اپنی کوتائیوں کو درست کر کے دوبارہ عوام میں آئیں۔یہ ہی طریقہ جدید مغربی جمہوریت میں رائج ہے۔ اگرکسی حکومتی عہدے دار پر کوئی کرپشن کا الزام لگاتا ہے تو عہدے سے استعفیٰ دے دیتا ہے۔ شفاف تحقیق ہوتی ہے اور پانی کا پانی اور دودھ کا دودھ ہو جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں جب نئی حکومت آئی، اس پر نیب میں مقدمے ہیں ۔ایک وزیر اعظم بن جاتا ہے اور ایک وزیر اعلیٰ۔ اقتدار میں آنے کے بعد کرپشن پکڑنے والے کو اتنا دباﺅ ڈالا جاتا ہے کہ اس ایک کا ہارٹ اٹیک ہو جاتا ہے۔ دوسرا ہسپتال میں داخل ہو جاتا ہے۔ کرپشن پکڑنے والے کو ٹراسفر کر دیا جاتا ہے۔کرپشن پکڑے والے ادارے کے سربراہ کو کہا جاتا ہے کہ کرپشن کے مقدمے کی پیروی سے انکار کردو۔ای سی ایل سے تمام مجرموں کے نام نکال دیے جاتے ہیں۔ بلکہ قانون ہی بدل دیا جاتا۔اب سپریم کورٹ نے ترامیم پر اعتراض ختم کرنے کےلئے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کو بھی خارج کر دیا۔اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ نے آڈر پاس کیاکہ تا حکم ثانی کوئی بھی کرپشن کا کیس واپس نہیں ہوگا ۔ کسی کو بھی عہدے سے ہٹایا نہیں جا سکے گا۔ہم ایک نجی ٹی وی کا پرگرام دیکھ رہے تھے۔ ایک اینکر پرسن واقعی طوتے کی طرح جانے والے سابق وزیر اعظم کے خلاف چارج شیٹ پیش کر رہے تھے۔ دوسرے اینکر نے اس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح منٹوں میں ایک طویل چارج شیٹ ان صاحب نے پیش کی ہے ۔ میں تو شاہد ایک گھنٹے میں بھی نہ پیش کر سکوں ۔ بہرحال سب نے اپنی بساط کے مطابق تنقید کی ۔ دوسری طرف اے آر وائی ٹی وی کے اینکر پرسن بھی اپنے پسندیدہ وزیر اعظم کے قصیدے اور مخالف کے خلاف طویل چارج شیٹ پیش کرتے رہے ہیں۔ جانے والا وزیر اعظم جو واقعی ایک منتشر ذہن لگتا ہے، صبح کچھ اور شام کو کچھ بیان داغ دیتا ہے۔ اس کے بیانات کےخلاف کہا جارہا ہے کہ وہ ہیٹ سپیچ کر رہے ہیں۔ ان کیخلاف مقدے قائم ہونے چاہئیں ہیں۔ عجیب اتفاق ہے ۔ ایک گروہ کے خلاف کرپشن کے مقدمے ہیں۔ ان کو ملک کی عدالتوں سے سزائیں بھی سنائی گئی ہیں ۔ دوسرے کیخلاف کرپشن نہ ملی تو ہیٹ سپیچ کے خلاف مقدمے کی بات ہو رہی ہے۔ جن کے خلاف عدالتوں نے کرپشن کے فیصلے دیے ہیں اب وہ اقتدار میں آ گئے ہیں۔ ضرورت اس عمر کی ہے کہ وہ شفاف طریقے سے اپنے مقدموں کی پیروی کریں۔ عدالتیں کو دودھ کادودھ اور پانی کا پانی کرنے دیں۔ دوسری طرف اقتدار جانے کے غم میں عمران خان ملک کے سیکورٹی ادروں کو بار بار نیوٹرل ہونے پر گرفت کر رہے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اس طرح وہ نواز شریف کی طرح غلطی کررہے ہیں۔ نون لیگ کی لیڈر شپ نے بھی کرپشن میں عدالتوں سے سزائیں پانے کے بعد عدالتوں اور سیکورٹی اداروں پر ناجائز تنقید کی تھی، ذرائع نے ان کو بھارت اور دشمنوں کے ایجنڈے کو تقویت پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ اب وہ ہی ذرائع عمران خان پر عدالت اور سیکورٹی اداروں پر الزام لگانے پر گرفت کر رہے ہیںکہ وہ بھی دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ نہ نواز شریف نے اچھا کیا اور نہ ہی عمران خان اچھا کر رہے ہیں۔ اس جرم میں دونوں برابر ہیں۔ دوسری ملک میں مہنگاہی نے ڈھیرے ڈال رکھے ہیں۔ شہباز شریف حکومت عوام دشمنی پر اتری آئی۔ پٹرول30 روپے مہنگا ، ڈیزل 30 روپے مہنگا کر دیااور بجلی 8 روپے بڑھانے کی منظوری دے دی۔ اب پٹرول کی نئی قیمت209.86 روپے، ڈیزل 204.15 روپے، لائٹ ڈیزل178.03 روپے، اور مٹی کا تیل 181.94 روپے فی لیٹر ہو گیا۔شوکت ترین کہتے ہیں حکومت پٹرول پر 30 روپے اور ڈیزل پر 80 روپے منافع کما رہی ہے۔مفتاح اسماعیل کہتے ہیں۔ اب بھی پٹرول پر 8 روپے اور ڈیزل پر 23روپے نقصان برداشت کر رہے ہیں۔مفتاع اسماعیل کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ باتیں ماننی پڑھیںگی۔ اے کاش ! سیاستدان اپنے ملک کی مایا فوج اور عوام کے آخری سہارے عدلیہ پر تنقید کے بجائے ان کے فیصلوں کو ماننے کی عادت ڈالیں۔ ایک دوسرے کو نیجا دکھانے کی بجائے مل جل کر غربت اور مہنگائی کے مارے عوام کو کچھ ریلیف دینے پر اتفاق کریں۔ آئی ایم ایف کی چنگل سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے۔ وہ تو سود خور ادارہ ہے ۔اسے پاکستان کے عوام کی دھکوں سے کوئی غرض نہیں۔وہ اپنے قسطیں وصول کرنے کے حکومت کو ٹیکس لگانے اور پٹرول، ڈیزل ، مٹی کے تیل کی قیمتیں بڑھانے کا حکم دیتی ہے۔ آئی ایم ایف کبھی بھی مقتدر لوگوں کی مراعات میں کمی کی بات نہیں کرتا۔آج ہی جماعت اسلامی کے سنیٹر مشتاق احمد نے سینیٹ میں مطالبہ کیا کہ جرنیل،ججز اور افسران پر سرکاری گاڑی کے استعمال پر پابندی لگائی جائے۔ کوئی بھی پٹرول کا ستعمال نہ کرے ۔ بقول حکومت زہر کھانے کےلئے پیسا نہیں تو ذاتی تشہیر پر کروڑوں روپے کیوں خرچ ہو رہے ہیں۔ طوتے اپنے اپنے سیاستدانوں کی تعریف اور مخالف پر جائز تنقید تو کریں،مگر پاکستان کی اساس اور اسلامی نظام حکومت قائم نہ کرنے پر گرفت بھی کریں ۔ چور چاہے کوئی بھی اس پر بھی گرفت کریں۔