- الإعلانات -

غفلت کے اندھیروں میں ڈوبے

افسوس کہ آج ایک بھی سچا، کھرا انسان بننے کی طرف کوشاں نہیں۔اکثرلوگ کاروباری مصروفیت اور غفلت کے اندھیروں میں مقصود زندگی کو ہی بھول گئے ہیںاور حصول زر کو مقصود زندگی بنا لیا ہے ۔وہ اس کے علاوہ کچھ اور سوچ بھی نہیںسکتے۔ دن رات اسی کےلئے ہی ڈور دھوپ کرتے ہیںاورخودکو کھوبیٹھتے ہیں ۔اسی طرح مصروفیت بڑھتی ہے اورتفکرات بھی بڑھتے ہیں۔ناجائزدولت والوں کویہ خدشہ بھی دامن گیر ہوتاہے کہ کہیں یہ ضائع نہ ہوجائیں۔جاہ کی بلندی کے ساتھ تنزل کا خدشہ بھی انہیں پریشان رکھتا ہے ۔ حرام رزق اور بے جامصروفیت کے باعث اکثر احباب ہائی بلڈ پریشر ، ذیابیطس ، بواسیر، اعصاب شکنی،دل کے امراض اور بے خوابی جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان کی خانگی زندگی کو پرسکون بنانے کی بجائے تلخیوںاور دکھوں سے بھر دیتے ہیں۔وائے افسوس ایسے لوگوں نے حکومت ،زراعت ،تجارت اور ملازمت کو اپنا رازق ٹھہرالیا ہے ۔ اکثر لوگ حصول زر کے لئے شارٹ کٹ راستہ اختیار کرتے ہیں۔کبھی وہ سیاست کو اس کا ذریعہ بناتے ہیںاور کبھی رشوت ، سود ، بدعنوانیاں ،ذخیرہ اندوزی ،ملاوٹ،ٹیکس چوری کو اپنی فلاح وبہبود کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔یہ طریقے بظاہر تو منزل تک پہنچنے کےلئے شارٹ کٹ ہیں مگر یہ خطرات سے بھرپور ہیں ۔ ناجائز راستے اختیار کرنے والے کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی مری سے اسلام آباد بذریعہ سڑک پر جانے کی بجائے راول ڈیم اور اسلام آباد کی جگمگاتی روشنیوں کو دور سے للچاتی نظروں سے دیکھ کر پہاڑوں کے اوپر سے ناک کی سیدھ چل پڑے۔ظاہر ہے اس سفر میں خونخوار جانوروں کے حملے ،پہاڑوں پر چڑھنے اور پھسلنے کے خطرات ،وادیوں اور نالوں کو عبور کرنے میں شدید مشکلات پیش آئیں گی جو ہلاکت کا باعث ہوسکتے ہیں اور خیریت سے پہنچنا نہ ہی آسان ہے اور نہ ہی یقینی ،سڑک کا صحیح راستہ اگرچہ طویل معلوم ہوتا ہے مگر یقینی اور آسان ہے۔اسی طرح حرام رزق کے شارٹ کٹ طریقوں سے کامیابی ممکن نہیں۔قرآنی اصول واضح ہے کہ ارشاد رب العزت ہے کہ ”حرام اور حلال رزق برابر نہیں ہے ،اگرچہ حرام کی کثرت تم کو پرکشش معلوم ہو،پس اللہ سے ڈرواور حرام سے پرہیز کرو،اے عقلمند لوگوتاکہ تم کامیاب ہو جاو¾“ المائدہ(100 )۔یہ زریں اصول مسلمہ ہے کہ حصول رزق کےلئے اور ہر دینی ودنیاوی کام کےلئے تدبیر ،منصوبہ اور اپنی استعداد کے مطابق کوشش کرنا ضروری ہے ۔جس طرح اولاد کی پرورش اور حقوق العباد کی ادائیگی کےلئے کوشاں رہنا باعث ثواب ہے۔ اسی طرح ملک کی مادی اور روحانی ترقی کے لئے بھی کوشاں رہنا عین دینداری ہے مگر اکثر لوگوں کی دیوانہ وار مصروفیت کی وجہ کسب دنیا نہیں بلکہ حب دنیا اور حرص زروجاہ ہے جس کو مقصد بنا کر لوگوں نے اللہ اور روز آخرت کو بھلا دیا ہے۔اس کے حصول کےلئے حلال اور حرام کی تفریق سے غافل اور بے پرواہ ہو جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ دنیا کی کثرت کا حریص اور دیوانہ قبر میں پہنچ جاتا ہے۔ارشاد رب العزت ہے کہ ”دنیا کی کثرت کی حرص نے تمہیں غافل کر رکھا ہے یہاں تک کہ تم قبروں میں پہنچ گئے“۔اللہ نے رزق کی تقسیم کے متعلق زریں اصولوں کو واضح لفظوں میں بیان کردیا ہے کہ رزق کون دیتا ہے اور کہاں سے ملتا ہے ۔آج کل یہی بڑا مسئلہ ہے۔اکثر حریص لوگ حلا ل کے ساتھ حرام ذرائع کو اس لیے اختیار کرتے ہیںتاکہ دولت میں اضافہ ہوجائے حالانکہ رزق تو مقرر ہے ۔ہر حالت میں رزق اتنا ہی رہتا ہے جتنا مقرر ہے۔حرام ذرائع سے آدمی کا رزق بڑھ نہیں سکتا۔یہ مشاہدہ تو عام ہے کہ اکثر حرام ذرائع اور مواقع عارضی ہوتے ہیںدیرپا نہیں ہوتے اور یہ ذرائع اور مواقع جلد منقطع ہوجاتے ہیںمگر ان کی پریشانیاں باقی رہتی ہیں ۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ آج تخت ہے اور کل تختہ ،آج وزارت کی کرسی ہے اور کل جیل کی کال کوٹھری،بندے کو اعمال کی سزا اس دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی،افسوس ہے کہ ہمیں اللہ پر اتنا بھروسہ بھی نہیںہے،جتنا ایک بچے کو اپنے والدین پر ، اسے یہ گمان کبھی بھی نہیں ہوتا کہ والدین اسے بھوکا اور بے سروسامان رکھیں گے،ہمارا اللہ پر توکل تو جانور جیسا بھی نہیں ،جس کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہیں،وہ اپنا رزق سٹور بھی نہیں کرتا ۔ ارشاد رب العزت ہے کہ ”اور بہت سے جانور ایسے ہیں ،جو اپنے رزق کو اٹھائے نہیں پھرتے (یعنی سٹور نہیں کرتے) اللہ ہی ان جانوروں کو رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی“ (60عنکبوت) ۔ اکثر حصول رزق میں تاخیر ہمیں پریشان کرتی ہے اور اس تاخیر کی وجہ سے ہم حرام ذرائع اختیار کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں حالانکہ اللہ کی ہر بات میں حکمت ومصلحت ہے اور ہم یہ نہیں سمجھتے کہ کچھ دیر سے ملنے والا رزق پہلے سے بدرجہا بہتر ہوگا۔اللہ ہر ایک کی ضروریات زندگی کو بروقت پورا کرتے ہیں ۔ اس لیے ہمیں نہ تو بیتاب ہونا چاہئیے ،نہ ہی ناجائز ذرائع اختیار کرنے چاہیئے اور نہ ہی جلد بازی کرنی چاہیئے جو رزق اللہ کے پاس ہے وہ اللہ سے مل کر ہی رہے گا اور یہی بہترین بات ہے۔دولت کی کثرت کےلئے بے صبری اور جلدبازی پریشانی کا باعث بھی ہوسکتی ہے ۔ اس کی مثال سالانہ بجٹ کی طرح ہے اگر کوئی محکمہ اپنا بجٹ ایک سال میں خرچ کرنے کی بجائے چند ماہ میں ختم کرلے گاتو باقی مہینوں میں پریشان اور بدحال ہوگا اور اس کے پاس خرچ کرنے کےلئے کچھ نہ ہوگا۔ حرام اور حلال میں اتنا فرق ہے جتنا کافر اور مسلمان میں ، اندھے اور آنکھوں والے میں،مردہ اور زندہ میںفرق ہے۔حرام ایک زہر ہے جس کا اثر باطنی اندھا پن ،بہرہ پن اورروحانی ہلاکت ہے ۔ایسے مردہ ضمیر لوگ ملک وقوم کےلئے خطرہ ہیںکیونکہ یہ اندھے ،بہرے اور مردہ لوگ نصیحت سے بدلتے ہی نہیں ہیں۔