- الإعلانات -

روس کی پیشکش اور نیا بجٹ

کل کی متحدہ اپوزیشن اور آج کی حکومت نے ایک معتدل بجٹ پیش کیا ہے اس میں گوادر کے لوگوں کو سولر اور پچھلی حکومت کے کٹے ،وچھے اور دوسرے اچھے پروگرام بھی جاری رکھیں ہیں بجٹ پر لکھنے سے پہلے اتنا بتا دوں کہ پاکستان میں خود ساختہ مہنگائی اور کرپشن کچی لسی کی طرح بڑھتی ہی جارہی ہے اس پر قابو پانے کے لیے کسی کے پاس کوئی نظریہ ہے اور نہ ہی سوچ سبھی لکیر کے فقیر بن کر ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانے یا مخالفین کو رگڑا لگانے میں مصروف ہیں پیٹرولیم مصنوعات پر ہونے والے حالیہ اضافے اور مستقبل قریب میں مزید اضافے نے غریب عوام کا جینا مشکل بنا دیا ہے ہم مہنگے داموں اشیا خرید کر سستی نہیں فروخت کرسکتے مگر ایسا تو کرسکتے ہیں کہ سستی اشیا خرید کر سستے داموں فروخت کردیں گذشتہ روز پاکستان میں روسی کونصل جنرل کا کہنا تھا کہ روس پاکستان سمیت دیگر ممالک کو سستے تیل کی فراہمی میں دلچسپی رکھتا ہے اور اب یہ موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہنگا تیل خریدتی ہے یا سستا رہی بات بجٹ کی تو اس میں مجموعی طور پر 440 ارب روپے کے نئے ٹیکسز عائد کئے گئے ہیں کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 34 ارب اور سیلز ٹیکس 90 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کی تجویز ہے 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی پیٹرول پر عائد کی گئی ہے بجٹ میں ایک لاکھ جس کی تنخواہ ہے اس کو ٹیکس چھوٹ ہوگی 6 سے 12 لاکھ تک انکم والوں پر 100 روپے کا ٹیکس جو رکھا گیا ہے وہ پروسیسنگ فیس ہے غیر ضروری ودہولڈنگ ٹیکسز کو ختم کیا گیاجبکہ آڈٹ چار سال میں ایک دفعہ ہوگا بہبود سرٹیفکیٹ پر ٹیکس کی شرح کو 10 فیصد سے کم کرکے 5فیصد کرنے کی تجویز ہے ایک پلاٹ پر ٹیکس چھوٹ دی جائے گی جبکہ غیر استعمال شدہ رہائشی، کمرشل، انڈسٹریل پلاٹ اور فارم ہاسز پر ٹیکس ہوگا کیپٹل گین ٹیکس کی مدت میں توسیع کی گئی ہے نان فائلر پر پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ٹیکس کو 2 فیصد سے پانچ فیصد کیا گیا ہے آئی ٹی کی برآمدات پر ٹیکس 1 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے عوام کو 85ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی تجویز ہے، کسٹمز کی مد 6 ارب، سیلز ٹیکس 30 ارب کا ریلیف دینے کی تجویز ہے جبکہ انکم ٹیکس کی مد میں 49 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی بھی تجویز ہے، مجموعی طور پر 85 ارب کے ریلیف سے ٹیکس اقدامات کا حجم 355 ارب تجویز کیا گیا ہے مقامی طور پر تیار ہونے والے سگریٹس پر ایف ای ڈی عائد کرنے کی تجویز ہے جس سے 10 ارب روپے کا سالانہ ریونیو حاصل ہوگااس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عوام کےلئے ایک اور اچھا کام بھی کیا ہے کہ میٹرو بس کو روات اور بارہ کہو تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں وفاقی حکومت نے بارہ کہو اور روات میٹرو بس منصوبے کیلئے رقم بھی مختص کردی روات فیض آباد میٹرو بس منصوبے کیلئے ایک ارب روپے جبکہ بارہ کہو فیض آباد میٹرو سروس پر 10 ارب روپے لاگت آئے گی وفاق کے بعد اب 13جون کو پنجاب کا بجٹ بھی پیش کیا جائیگا اور حکومت نے پنجاب اسمبلی کے جاری 40 ویں سیشن کو ہی بجٹ اجلاس میں تبدیل کر دیاہے جسکی گورنر پنجاب نے منظوری دیدی ہے پنجاب اسمبلی کا یہ بجٹ اجلاس پچھلے اجلاسوں کی نسبت کافی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے کیونکہ یہاں پر اپوزیشن کے اراکین موجود ہونگے جو حسب روایت وہی کرینگے جو پچھلے چار سالوں میں موجودہ حکومتی اراکین کرتے رہے ہیں اس اجلاس میں وہ زخمی اراکین بھی شامل ہونگے جو وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف کے الیکشن کے دوران زخمی ہوئے تھے اسکے برعکس قومی اسمبلی میںاتحادی حکومت کے پہلے بجٹ میں قومی اسمبلی کا ماحول روایت کے بر عکس پھیکا رہاماضی میں پیش ہونے والے بجٹ اجلاسوں کی روا یتی گہما گہمی جوش و خروش اور دلچسپی مفقود نظرآئی، حقیقی اپوزیشن نہ ہونے کے باعث کوئی شور شرابا اور ہنگامہ آرائی نہ ہوئی مہمانوں کی گیلریاں خالی رہیں جبکہ میڈیا گیلری میں بھی روایتی رونق نہ ہونے کے برابر تھی اپوزیشن لیڈر وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران ہی ایوان سے چلے گئے ہرسال بجٹ کے موقع پر لاہور،کراچی سمیت دیگر شہروں کے سینئر صحافی بجٹ کور کرنے کیلئے پارلیمانی گیلری میں رونق افروز ہوتے تھے جبکہ غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد میڈیا گیلری میں موجود ہوتی تھیں لیکن اس بار میڈیا گیلری میں کثیر نشستیں خالی تھیں،وزرائے اعلی ،گورنرز ،وزیراعظم آزاد کشمیر ،وزیر اعلی گلگت بلتستان کی بجٹ اجلاس میں عدم موجودگی بھی محسوس کی گئی،غیر ملکی سفرا ،مسلح افواج کی قیادت کیلئے مخصوص گیلری بھی بجٹ تقریر کے دوران خالی رہی ،اپوزیشن ارکان ایوان کی اصل رونق ہوتے ہیں گزشتہ 4 بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے بجٹ مخالف ہنگامہ آرائی ،نعرے بازی اور سپیکر ڈائس اور سابق وزیر خزانہ کی نشست کا گھیراﺅکرتے رہے تھے مگراس بار اپوزیشن نے ادب خاموشی اور سنجیدگی کیساتھ تقریر سنی پی ٹی آئی کے منحرف ارکان،جی ڈی اے کے غوث بخش مہر،فہمیدہ مرزا،سائرہ بانو اور جماعت اسلامی کے مولانا اکبر چترالی بھی خاموشی سے بجٹ تقریر سنتے رہے،جسکی وجہ سے وزیر خزانہ کو شور شرابے اور ہنگامہ آرائی سمیت کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑامگر پنجاب میں ایسا نہیں ہوگا وہاں ٹھنڈے ہاﺅس میں درجہ حرات کافی گرم ہو سکتا ہے ۔