- الإعلانات -

مہنگائی کم کرنے کےلئے پنجاب حکومت کے اقدامات

مہنگائی کے باعث عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ پنجاب حکومت کو اس کا ادراک ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں حمزہ شہباز کی اولین ترجیح ہے کہ عوام پر معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔اس کےلئے حکومت نے متعدد اقدامات کئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے ڈپٹی کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کو ہدایت کی ہے کہ اشیائے ضروریہ کی مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ عوام کو سہولیات پہنچانے کےلئے ہر ممکن تگ و دو کر رہے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ عوام سے مہنگائی کے اثرات کم سے کم کیے جائیں۔ اسی لئے انہوں نے سستے آٹے کے بعد عوام کو سستے داموں اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے پروگرام کے حوالے سے ہدایت کی ہے کہ 3 روز کے اندر اس کی منصوبہ بندی کر کے عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنرز منڈیوں میں نیلامی کے عمل کی خود دیکھ بھال کریں۔ سبزیوں کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام کیلئے ہر ضلع میں باقاعدگی سے دورے کئے جائیں۔ہر دورے کا مستند ڈیٹا ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ ہونا چاہئے۔اس ضمن میں حکومت پنجاب کا اپنے اہلکاروں و افسران پر نظر رکھنے اور انہیں ہر وقت چیک کرنے کا عمل بھی انتہائی خوش آئند ہے۔ حکومتی ہدایت پر عمل درآمد نہ کرنےوالے افسران سے پوچھ گچھ اور جوابدہی سے جہاں عوام کا بھلا ہوگا وہاں کام چور اور سست افراد کی سرکوبی میں بھی مدد ملے گی۔ اس طرح حکومتی اقدامات کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچ پائے گا۔ جس طرح حکومت نے سستے آٹے کی فراہمی پر 200 ارب روپے کی سبسڈی دی ہے، اس کی ایک ایک پائی عام آدمی تک پہنچنی چاہیئے۔دوسری بات یہ کہ سستے آٹے کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ لیکن ساتھ ساتھ آٹے اور گندم کی سمگلنگ روکنے کیلئے پنجاب کے خارجی راستوں کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔ صوبے میں مہنگائی کے پس پردہ کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ایک طرف قیمتیں کم کرنے کےلئے پرائس کنٹرول کمیٹی کا عمل دخل ضروری ہے تو دوسری طرف عوام کو ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ پنجاب حکومت کے نئے پرائس کنٹرول میکانزم کی خاص بات یہ ہے کہ ماضی کی روایات کے برعکس اشیائے خوردنی کی مقررہ نرخوں پر فراہمی یقینی بنانے کےلئے چھابڑی فروشوں کو تنگ کرنے کی بجائے بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جا رہا ہے۔ معاشرے میں خرابی کے اصل ذمہ داروں کو قانون کی گرفت میںلانے سے غریب چھابڑی فروش خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے۔ اشیائے صرف کی قیمتوں کی موثر مانیٹرنگ کےلئے جو جامع نظام وضع کیا گیا ہے اس کے مثبت نتائج اسی وقت حاصل ہوںگے جب اس پر پوری طرح عملدرآمد کیا جائےگا۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ اشیائے ضرورےہ کی طلب اور رسد کے حوالے سے بھی جامع پلان بنایا جائے اور اس مقصد کے لئے متعلقہ محکموں کو متحرک کیا جائے۔مہنگائی کا توڑ کرنے کےلئے وزیر اعلیٰ نے پنجاب میں تمام وزرا کےلئے سرکاری پیٹرول پر پابندی لگا دی ہے۔ تمام وزرا ذاتی خرچ سے پیٹرول ڈلوائیں گے۔ یہ انتہائی مستحسن عمل ہے ۔اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ ہاو¿س میں شاہانہ اخراجات پر فوری پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے پنجاب کے بارڈرز پر کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سستا آٹا اسمگل نہ ہو اور پنجاب سے باہر بھیجی جانے والی اشیا کو بھی روکا جائے تاکہ یہاں کسی قسم کی قلت نہ پیدا ہو، پنجاب حکومت گندم کی قلت کا شکار صوبوں کی مدد کرے گی۔ بہرحال وزیر اعلیٰ پنجاب کے عوامی ریلیف ویژن کے تحت مہنگائی کے خاتمہ اور عوام کو سستے داموں اشیاءخوردونوش کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھر پور اقدامات کیے جارہے ہیں ۔ ۔ حکومت پنجاب کے ان اقدامات کی بدولت آنےوالے دنوں میں ہنگامی اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں واضح کمی آئیگی۔وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے امریکی قونصل جنرل ولیم کے میکانیول سے ملاقات میں زراعت، ماحولیات، واٹر شارٹیج اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر بات کی۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کثیر الجہت نوعیت ہیں۔ بلاشبہ اس وقت معاشی اوردیگرچیلنجز درپیش ہیں لیکن ہمارا عزم ان چیلنجز سے بلند ہے۔ آج کل بارشوں کا موسم شروع ہو چکا ہے۔ بالاپنجاب خاص طورپر اسلام آباد، لاہور اور دیگر بڑے شہر شدید بارشوں اور آندھیوں کی زد میں ہیں۔ لہٰذا وزیرا علیٰ نے لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں واسا، ریسکیو 1122 ، پی ڈی ایم اے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ ان کی ہدایت کے مطابق شہروں کے نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کے منصوبے بروقت پورے کئے جا رہے ہیں۔ متعلقہ افسران خود شہروں میںنکاسی آب کے کام کی نگرانی کررہے ہیں۔ بارش کے دوران یہ بھی ضروری ہے کہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کےلئے موثر ٹریفک مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے۔