- الإعلانات -

چپڑاسی کےلئے میٹرک مگر ایم این اے ایم پی اے کےلئے؟

اگر ہم دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی کا راز دیکھیں تو وہ دو عنا صر کی وجہ سے ہے ۔ ایک تعلیم اور دوسری لیڈر شپ یعنی قیادت ۔اگر ہم موجودہ دور میں جاپان، کو ریا ، امریکہ ، بر طانیہ ، چین اور دوسرے کئی ممالک کی کامیابیوں اور کامرانیوں کو دیکھیں تو انکی کامیابیوں اور کا مرانیوں کا راز تعلیم اور اچھی قیادت میں ہے۔ مثلاً آسٹریا میں شرح خواندگی 99 فی صد ہے ، جسکی وجہ سے وہاںپر فی کس آمدنی 40 ہزار ڈالر اور متوقع زندگی 82 سال ہے۔ اس طرح کینیڈا کی شرخ خواندگی 99 فی صد جبکہ اچھی تعلیم اور علم کی وجہ سے کینیڈا کی فی کس آمدنی41ہزار اور متوقع زندگی 83 سال ہے ۔فرانس کی شرح خواندگی 99 فی صد جبکہ فی کس آمدنی 36 ہزار ڈالرز اور متوقع زندگی 84 سال ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس وہ ممالک جہاں ہر شرح خواندگی اور تعلیم کم ہے وہاں پر فی کس آمدنی اور متوقع زندگی بُہت کم ہے۔ مثلاًچا ڈ کی خواندگی 35 فیصد ہے جسکی وجہ سے وہاں پر فی کس آمدنی 1500 ڈالر ہے ۔ اس طر ح ایتھو پیا کی شرح خواندگی 36فی صد،جسکے نتیجے میںوہاں پر فی کس آمدنی 800 ڈالر اور متوقع زندگی 50 سال ہے۔ ۔اگر ہم دنیا کی 10 بہترین جمہوری ممالک، جن میں نا روے، آئس لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، ڈنمارک ، کنیڈا، آئر لینڈ، سوئزر لینڈ ، فن لینڈ اور آسٹریلیا کا تجزیہ کریں۔ تو یہ ممالک تعلیم میں سب سے آگے ہیں ، جسکی وجہ سے وہ دنیا میں میں ہر میدان اقتصادیات ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور دوسرے میدانوں یعنی قائدانہ صلا حیتوں کی وجہ سے مدن دوگنی رات چگنی ترقی کر رہے ہیں ۔ بھوٹان اپنے وسائل کا 7.4 فیصد، مالدیپ اپنی قومی آمدنی کا 5.3 فیصد، بھارت 3.8 فیصد اور نیپال 3.7 فیصد جبکہ پاکستان اپنی قومی آمدنی کا صر2,7 فیصد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔پاکستان 188 ممالک کے 17 ویں ممالک میں سے ایک ہے ۔ ان میں بُہت سارے عوامل کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعور اور قیادت کی کمی بھی ہے۔اگر ہم قُرآن مجید اور فُر قان حمید پر نظر ڈالیں تو ان میں کئی آیات علم اور تعلیم سے متعلق ہیں۔ بلکہ اگر ہم قُر آن مجید فُر قان حمید کا مطالعہ کریں تو یہ کتاب بذات خود علم ، عقل ، فہم اور شعور کا سب سے بڑا سر چشمہ ، خزانہ اور منبع ہے۔علم نور ہے اور نو ر کے بغیر حق اور سچ میں فرق اور تمیز کرنا مشکل ہے۔ جہاں تک قیادت اور قائدانہ صلاحیتوں کا تعلق ہے تو یہ کسی ملک کی ترقی اورکامرانی میں آکسیجن کا کر دار ادا کر رہا ہے ۔ سید ابواعلی مو دودی صاحب اور دوسرے بڑے سکالروں کے مطابق ایک اچھے مسلمان لیڈر میں 12خصوصیات کا ہونا ضروری ہے۔ ان خصوصیات میں کسی لیڈرکا اسلامی عقائد کا ہونا، صا دق امین کی خصو صیت، علم اور دانائی، حو صلہ اور مصمم ارادہ، باہمی مشا ورت کا جذبہ ہونا، اتحاد اور اتفاق کا ہونا، اخلاقیات اور پر ہیز گاری ، دوسروں کو دلائل کے ذریعے قائل کرنا، انصاف عدل اور خدا ترسی،صبر بر داشت اور تحمل،ارادے کاپکا ہونا اور مذہب کے لئے کسی قسم کی قُر بانی سے دریغ نہ کرنا،زندگی بھر اسلامی قدروںکے لئے کو شاں ہونا، اللہ کا شکر بجالانااور اُنہی سے دعا مانگنا اور عصری علوم کا جاننا۔ اللہ تعا لیٰ سورة بقرہ میں ارشاد فرماتے ہیں جو لو گ ایمان لائے ہیں اُنکا دوست اللہ ہے۔ کوئی بھی لیڈر راسخ لعقیدہ ہونا چاہئے اور دنیاوی ، مذہبی اور عصری علوم کے بارے میں جانتا ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کوئی حا کم جو مسلمانوں کی حکومت کا کوئی منصب سنبھالے پھر اسکے ذمہ داریاں اداکرنے کےلئے جان نہ لڑائے اور خلوص کے ساتھ کام نہ کرے وہ مسلمانوں کے ساتھ جنت میں قطعاً داخل نہیں ہوگا۔سورة النساءمیں ارشاد ہے اللہ تعالی تم کو حکم دیتا ہے کہ امانتیںاہل امانت کے سپرد کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کروتو عدل کے ساتھ کرو۔نبی ﷺ نے حضرت ابوذرؓ ؓسے فر مایا اے ابو ذرؓ تم کمزور آدمی ہو اور حکومت کا منصب ایک امانت ہے۔ قیامت کے روز وہ رسوائی اور ندامت کا موجب ہوگا سوا اُسی شخص کے جو اسکے حق کا پورا پورا لحا ظ کرے اور جو ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے اسے ٹھیک ٹھیک ادا کرے ۔ حضرت ابو بکر ؓ فر ماتے ہیں جو شخص حکمران ہو اس کو سب سے زیادہ بھاری حساب دینا ہوگا اور وہ سب سے زیادہ سخت غذاب کے خطرے میں مبتلا ہوگا ۔ ایک حکمران کے ذمہ داری کے بارے میںحضرت عمر ؓ ارشاد فرماتے ہیں دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی اگر ضا ئع ہو جائے تو مُجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ مجھ سے باز پُرس کرے گا۔حضرت علی کرم اللہ وجہہُ کا ارشاد ہے مسلمانوں کے فرمان روا پر یہ فر ض ہے کہ وہ اللہ کے نازل کر دہ قانون کے مطابق فیصلے کرےںاور امانت ادا کرے پھر جب وہ اس طرح کام کر رہا ہو تو لوگوں پر یہ فرض ہے کہ اُسکی سُنیں اور مانیں اور جب ان کو پکارا جائے تو لبیک کہیں ۔ حضور ﷺ کا رشاد ہے بخدا ہم اپنی اس حکومت کا منصب کسی ایسے شخص کو نہیں دیتے جو انکا طالب ہو یا اسکا حریص ہو۔سورة الحج میں ارشاد ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکواة دیں گے اور نیکی کاحکم دیں گے اور بدی سے روکیں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر کسی ملک کی قائدانی صلاحیتیں اچھی ہو تو وہ ملک10 سال میں900 چند ترقی کرسکتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا فرمان ہے کہ 100 بھیڑ ہو اور اسکی امامت شیر کے پاس ہو تو سب یعنی بھیڑ بھی شیر کی طرح ہونگے اور اگر100 شیر ہوں اور اسکی امامت بھیڑ کے پا س ہو تو وہ سب شیر بھیڑ کی طرح ہونگے۔یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ وطن عزیز میں ایک نا ئب قاصد اور چپڑاسی کی تقرری کےلئے میٹرک تک تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب تجربہ ضروری شرط ہے مگر بد قسمتی سے قانون ساز اداروں یعنی صوبائی اور قومی اسمبلی اور بلدیاتی اُمید واروں کے لئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں ۔