- الإعلانات -

ہندوستانی عزائم اور پاکستان

بھارت سرکاری طور پرجہاں شان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخیوں کی مزموم کوششوں کا مرتکب ہو رہا ہے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے جزبات واحساسات کو ٹیسٹ کررہا ہے وہاں اسلام کی بنیاد پر قائم ہونے والے اپنے پڑوسی ملک پاکستان اور اہل پاکستان کی بے بسی کا بھی فائدہ اٹھا رہا ہے دوسری جانب بھارتی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے مسلمانوں کو مذہب تبدیل کرنے اور جسمانی تشدد سمیت انکے گھر مسمار کررہا ہے جس کا ایک پورا تاریخی پس منظر ہے لیکن اس کی تفصیلات میں جانے سے پہلے میں ابتدا میں پورے وثوق سے میں پاکستان کے ارباب اختیار اور قوم کو خبردار کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار, سیاسی, معاشی, فکری اور نظریاتی اختلافات جس قدر موجودہ حالات اندرون اور بیرون ملک دیکھے جا رہے ہیں اس کی نظیر پاکستان کی تاریخ میں پہلے نہیں ملتی اس کی وجوہات میں ایک جانب عاقبت نا اندیش سیاست دان ہیں تو دوسری طرف ہمارے وہ حکمران ہیں جو نہ جمہوریت کو مضبوط ہونے دیتے ہیں اور ان کی ملک سے وفاداری ہے نہ ہی دولت لوٹ لوٹ کر انکے پیٹ بھرتے ہیں جس سے ملک کی بنیادیں کمزور ہیں معیشت کا جنازہ نکلتا جارہا ہے ہماری اسٹبلشمنٹ اور سول حکومت کے درمیان اعتماد کا ہمیشہ فقدان رہتا ہے اور ہر دو چار سال بعد ایک تناﺅ کچھاو اور باہم شوڈاون شروع ہوجاتا ہے اور ہم پھر وہیں واپس آکر رک جاتے ہیں جہاں سے چلے تھے اب مسئلہ یہ بھی ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میڈیا اور سوشل میڈیا کے موجودہ دورمیں کوئی چیز ریاست کے کنٹرول میں نہیں رہی ہے اب میڈیا پر ایسی درگرٹ بنتی ہے کہ کوئی مقدس گائے نظر نہیں آتی گزشتہ چند ماہ سے عوامی جزبات اور احساسات اس قدر بڑھکے ہوئے ہیں کہ کبھی عوامی جزبات ہم نے اپنے اداروں کے خلاف پہلے نہیں دیکھے یہ قابلِ افسوس اور تشویشناک امر ہے ہمیں ایک بات سمجھنے اور سمجھانے کی اشد ضرورت ہے کہ کسی بھی ملک کا چیف آف آرمی سٹاف اس ملک کی افواج کا صرف ایک چہرہ ہوتا ہے جو ایک انسان ہے کسی ایک شخص کے اچھے یا برے عمل کی وجہ سے پورے ادارے یا افواج کی توہین و تذلیل نہیں ہونی چاہیئے سیاسی انتشارات اور دفاعی اداروں کا مراحل بلند رکھنا انکی حوصلہ افزائی اور انہیں اعتماد دینا قوم کی اپنی ضرورت ہوتی ہے چونکہ اس کا تعلق ملک کے دفاع سے ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ جو ہمارے ملک کے اس وقت معاشی حالات ہیں اور جس طرح کی ہم میں تقسیم پائی جاتی ہے اس سے بھارت ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ہمیں براہ راست نقصان پہنچانے کی جرات کرسکتا ہے ہم نے دیکھا کہ ہماری مغربی سرحدوں پر دہشتگردی کے حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ملک میں بھارت کی پراگیسی وار ہر دور میں جاری رہتی ہے جس سے ہمیں مالی اور جانی نقصان ہوتا رہتا ہے پھر لائن آف کنٹرول پر بظاہر تو 2023تک سیز فائر بندی معاہدہ ہے لیکن پھر بھی گاہے بگاہے وہاں بلااشتعال گولہ باری ہوتی رہتی ہے اور بھارت ہمیں اشتعال دلاتا رہتا ہے اس موقع پر پاکستان کے فیصلہ ساز اور پالیسی ساز اور مقتدر حلقوں کو یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بھارت نے روس سے اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالرز کا تیل پٹرول خرید کر ذخیرہ کرلیا ہے تاکہ مستقبل قریب میں پاکستان پر حملے کی صورت میں ہماری مشرقی سرحد کو نشانہ بنایا جاسکے پاکستان چونکہ شدید پیٹرولیم کے بحران سے اس وقت دوچار ہے ہماری کمزوری سے بھارت فائدہ آٹھا سکتا ہے۔ہماری مسلح افواج چاق وچوبند ہیں بہادر ہیں لیکن جنگوں کی اپنی معاشی قیمت ہوتی ہے ہمارے ساتھ کون ہے جب ادھار مانگ کر کھائیں گئے قرضوں کے بوجھ تلے دبتے رہیں گے سود ادا کرتے رہیں گے تو دشمن لازمی طور پر تر نوالہ سمجھے گا۔بھارت میں جس طرح اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہورہی ہے اس کا ایک پورا پس منظر ہے وہ یوں کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر تقریبا آٹھ سو سال حکومت کی ہے ہندو بنیا بالخصوص برہمنوں کی شروع سے کوشش رہی ہے کہ وہ ہندوستان میں ایک کٹر ہندو مہاسبھائی ہندوتوا حکومت قائم کریں تحریک پاکستان کے وقت جہاں ایک طرف مسلمانوں کا دو قومی نظریہ کارفرما تھا وہاں برہمنوں نے اندر خانہ مسلم لیگ اور قائداعظم کی حمایت شروع کردی تھی تاکہ شمال مغرب کی طرف جہاں پہلے سے مسلمان اکثریت میں تھے ایک سرحدی ملک قائم کرکے ہندوستان کے مسلمانوں کو اس جانب دھکیل دیا جائے جس کے دو فائدے حاصل کرنا مقصد تھا اول یہ کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالنے کا موقع ملے گا دوم یہ کہ ہندوستان پر درہ خیبر اور درہ بولان سے حملہ آوروں کو روکا جاسکے گا اس بنا پر کانگریس نے ہندوستان کو وقت سے پہلے تقسیم کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو جلد از جلد تقسیم کرنے پر آمادہ کیا تقسیم کے بعد دوسرا مسئلہ یہ رہا تھا کہ جو مسلمان ہندوستان میں رہ جائیں گے ان سے جلد یا بدیر جان چھڑائی جائے اس مقصد کے لئے انتہا پسند ہندووں نے انتہا پسند تنظیمیں شیوسینا, جن سنگ مہاسبھا قائم کی اور انتہا پسند سنگ ٹن کی تحریک شروع کی تاکہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مذہب تبدیل کرنے اور ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا جائے کانگریس کے نام نہاد سیکولرازم کے پردے میں اس پالیسی کو کانگریس نے جاری رکھا لیکن بی جے پی کی حکومت کے بعد مسلمان دشمن پالیسیوں کو تیز تر کردیا گیا اور دھرم پری ورتن کے فلسفے کے تحت عملی طور پر مسجدوں ,درگاہوں اور عبادت گاہوں پر حملے شروع کردیئے گئے جس کا سب سے بڑا مظاہرہ بابری مسجد کی شہادت کی صورت میں سامنے آیا اس کے علاوہ متھرا کی گیان واپی مسجد تاج محل اور قطب مینار کو ہندو مقامات قرار دے کر گرانے کی مکمل منصوبہ بندی کی جاچکی ہے اور ” گھر واپسی ” کے نام پر مسلمانوں کو سمجھایا جارہا ہے کہ وہ واپس ہندو دھرم میں داخل ہوجائیں۔اس کے بعد سے بھارت کی تمام ریاستوں کے اندر گا رکشہ گائے بچاﺅ کے نام پر گلی کوچوں شہر شہر محلے محلے میں مسلمانوں پر حملے کئے جانے لگے تاکہ یا تو مسلمان ہندوستان چھوڑیں یا پھر ہندو بن جائیں ریاست جموں و کشمیر میں بھی 5 اگست 2019کو جو ریاست کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی واردات کی گئی وہ اسی مسلم دشمنی کی ایک سازش ہے مجموعی طور پر ہندوستان کے اندر اس وقت مسلمانوں کو بھارتی شہری تصور نہیں کیا جاتا اور نئے شہریت بل نے تو بھارت کے عزائم کو بے نقاب کردیا حالانکہ سچ یہ ہے کہ ہندوستان کو ایک متحدہ سلطنت بنانے کا سہرا مسلمانوں کے سر جاتا ہے جن کی وفاداری بھارت کے ساتھ رہی ہے لیکن برہمن انتہا پسند شیوسینا اور اسلام دشمن جوکہ نہ صرف ہندوستان سے مسلمانوں کو ختم کرنے کے پے درپے ہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی سازشوں میں مصروف ہے اور سوتے جاگتے اکھنڈ بھارت بنانے کے خواب دیکھتے ہیں اس لئے دنیا بھر کے مسلمانوں اور جو بالخصوص او آئی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کے خلاف زبانی کلامی نہیں بلکہ عملی طور پر اقدامات کرکے ہندوستان کے خلاف مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرے اور عالمی برادری کو بھی انسانی بنیادی حقوق کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور کیا جائے۔میری خبر یہ ہے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور عملاً ہم کچھ پیش بندی نہیں کررہے ہیں۔بقول شاعر
شوقِ گمراہی کو ہی ہم نے سفر جانا ہے
آج تک یہ بھی نہ سوچا کہ کدھر جانا ہے