- الإعلانات -

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

پی ڈی ایم حکومت جب اقتدار میں نہیں تھی تو ان کے لیڈران ہمیشہ پیٹرول مہنگائی بم کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ پٹرول بم رات کے اندھیرے میں گراتے ہیں ۔ایسا کرتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی لیکن آج جب یہ خود اقتدار میں ہیں تو پٹرول کے ان سے کئی گناہ بھاری بم رات کی تاریکی میں گرا رہے ہیں۔ کیا یہ آئی ایم ایف کے معائدے میں پہلےوالے لکھ کر دے چکے ہیں کہ رات کو ہی مہنگائی کے بم گرائے گے ۔کیا غریب کے ساتھ اتنا بھی ہمدردی نہیں رہی کہ شام کو انہیں بتا دیتے کہ رات بارہ کے بعد ہم پٹرول کا بھاری بم گرائیں گے ۔اپنا بندوبست کر لو۔ جب تک آئی ایم ایف سے قرض لیتے رہیں گے کوئی بھی مائی کا لال اس مہنگائی کو کم نہیں کر سکے گا ۔مہنگائی کے بم روک نہیں سکے گا۔ اس وقت دنیا ساری میں پٹرول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں ۔مہنگائی کا طوفان ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ پٹرول کی قیمتوں سے دوسرے مملک کے لوگ بھی پریشان ہیں۔ امریکہ برطانیہ کے عوام میں اور ہماری عوام میں فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کا متبادل نہیں جبکہ امریکہ برطانیہ کے شہریوں کے پاس اس کا متبادل ہے وہ گھر سے آفس کا سفر اپنی کار کے بجائے ٹرین ، بس یا ٹیکسی سے سفر کر سکتے ہیں ۔ اسلام آباد میں تو رکشہ سواری بھیمنع ہے ۔دوسری طرف سیاست دان مہنگائی کا نعرہ لگاتے ہیں جلوس نکالتے ہیں ۔جیسے ان کے پاس مہنگائی کو کم کرنے کا فارمولا ہاتھ آگیاہو مگر اپنے سفر کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال یہ یوں کرتے ہیں جیسے پٹرول سے نہیں پانی سے یہ چلتا ہو ۔کوئی بزنس نہیں کرتے مگر اپنے اثاثوں میں ان کا اس سال بھی حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ ملک میں سوائے کے پی کے میںگدھوں کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔جبکہ وہاں کوئی فارمنگ بھی نہیں ہے ۔ پٹرول مہنگا ہے پٹرول پمپ کے ناپ تول ہی ٹھیک کر دیتے ۔ شور کرتے ہیں کہ ملک میں الیکشن کرائیں جائیں جب کہ خود سلیکشن سے آئیں ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں شروع دن سے کبھی بھی الیکشن نہیں ہوئے ہمیشہ سلیکشن سے ہی اقتدار میں یہ آتے رہے ہیں۔ ۔ الیکشن ہوتے تو بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح الیکشن نہ ہارتی ۔ یہاں کبھی جمہوریت کبھی آمریت کبھی صدارتی نظام آتا ہے ۔ ہر تین چار سال کے بعد الیکشن کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے ۔غریب عوام کے اربوں لگائے جاتے ہیں ۔پھر اسمبلی میں بیٹھنے والے ہی اسمبلی کو نہیںمانتے ۔ آئین اور قانون کی پروہ نہیں کرتے ۔ایسے میں اربوں روپے لگا کر الیکشن کا ڈرامہ کرنا ہمیں کیا یہ زیب دیتا ہے ۔ مستقبل قریب میں ہمیں آئی ایم ایف سے ، الیکشن اور احتساب جیسے اداروں سے نجات حاصل کرنا ہو گی ۔ ملک کے اندر ہی ایک ایسا ادارہ بنا لیا جائے جو سلیکشن سے حکومت بنا لیا کرے ۔ ایسا کرنے سے الیکشن کے نام پر ملکی خزانے پر بوجھ تو نہیں پڑے گا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ دشمن کی محنت اور بڑوں کے تعاون سے ہماری ملکی معاشی حالت خراب ہو چکی ہے ۔ دشمن ہمارا ملک کی انڈسٹری کو آگ لگا کر جلا کربند کرانے میں کامیاب ہو چکا ہے ۔ایسا ہی حال ہماری زراعت اورباغات کا ہے۔ ہم نے سوسائٹیاں بنانے کےلئے باغ اجاڑ دئے ہیں ۔ پرندوں جانوروں کو بے گھر کرنا شروع کر رکھا ہے ۔ہم تو و ہ ملک ہے جس کے جرموں کی ایف آئی آر آسمانوں پر لکھی جاتی ہے ۔ بقول چیف جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم کے عدلیہ اپنے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق نہیں نوکری بچانے کے مطابق کرتی ہے ۔ آئی ایم آف کیا ہے ۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر سید کلیم احمد خورشید ایک دلچسپ شخصیت کے مالک ہیں ۔آپ نے آئی ایم ایف کو اس انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ۔ سوچا آپ بھی سمجھ لیں۔ کہا پاکستان بننے کے بعد ہمارے بہت سے اداروں کے افسر گورے ہوا کرتے تھے ۔ ایسے میں ایک گورے افسر کے گھر کے باہر ایک فقیر نے کھانا کھلانے کی سدا لگائی ۔ گورے کو اس کے مانگنے کا انداز ا چھا لگا اور اس نے بلا کر اچھا کھانا کھا نے کو دیا ۔ جسے اس فقیر نے خوشی خوشی کھایا پھر جاتے ہوئے گورے کا شکریہ ادا کیا کہا مجھے خوشی ہو گی اگر آپ میری غریبوں کی بستی میں کھانا کھانے تشریف لائیں گے۔ گورے نے اس کی یہ دعوت قبول کر لی اور اس سے ایڈرس لیا ۔یہ ایڈرس شہر سے باہر ایک ویرانے کا تھا ۔وپاں پہنچ کر سوچا یہاں مجھے نہیں آنا چائیے تھا ۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ وہی فقیر اسی لباس میں اس کے سامنے اچانک نمودار ہوا ۔ گورے کا شکریہ ادا کیا ۔ پوچھا آپ کھانے میں کیا پسند کریں گے ۔ اس نے بیف سٹیک فش بر گر چپس کولڈ ڈرنگ کی خواہش کا اظہار کیا ۔اس فقیر نے تالی بجائی ۔ اس کے سامنے جنگل سے چار عدد ویٹرز کے روپ میں کھانے کی ٹرے لئے نمودار ہوئے ۔ گورے نے سیر ہو کر لنچ کیا ۔ جب گورا جانے لگا تو اس نے کہا سر یہ چار عدد ویٹرز آپ اپنے ساتھ لے جائیں ۔ یہ آپ کے حکم پر کام کیا کریں گے ۔جب تک آپ نہیں چاہیں گے یہ دوسروں کو دکھائی بھی نہیں دیں گے۔وہ اس پر انہیں ساتھ لے گیا کچھ دنوں بعد یہ فقیر اس گورے کے پاس حاضر ہو ا کہا سر مجھے کسی انسان کا خون پینا ہے اگر نہ پی سکا تو میں مر جاﺅں گا ۔ساتھ ہی مشورہ دیا کہ آپ اپنے کسی دوست کو ویرانے میں بلا لیں میں تیزچھری سے حملہ کر کے اس کا خون پی جاﺅں گا ۔ یوں اس گورے نے ایک دوست کی قربانی دی۔ پھر روز یہ گورے کے کسی دوست کا خون پینے آ جاتا ۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک دن اس کو اپنی بیگم اور بیٹے کی قربانی بھی دے دی ۔ دوسرے ہی روزپھر گورے کے پاس حاضر ہوا ۔مجھے ہر حالت میں آج بھی خون پینا ہے ۔اس نے کہا اب تو میرا کوئی جاننے والا نہیں بچا ۔ کہا تم خود بھی تو خون رکھتے ہو ۔گورے نے پوچھا تم یہ تو بتاﺅ تم آخر ہو کون ۔کہا میں جن ہوں ۔ یہ ویٹرز میرے لئے آپ کے پاس کام کر رہے تھے ۔ یہ کہہ کر اس نے چھری کے وار سے اس گورے کا بھی خون پی لیا ۔ساتھیوں آئی ایم ایف بھی ایک جن کا نام ہے ۔ ہمارے حکمران اپنے اقتدار کوبچانے کےلئے اس کا حکم مانتے رہتے ہیں ۔ان کی مرضی سے اپنی عوام پر مہنگائی کے بم برساتے رہتے ہیں ۔جب اقتدار سے فارغ کرنا ہو تو اپنے ساتھیوں سمیت ضیا صاحب کی طرح ہوا میں تحلیل کر دیتے ہیں ۔عدلیہ کو استعمال کر کے پھانسی پر لٹکا دیتے ہیں ۔کچھ کولیاقت باغ میں گولیاں کا نشانہ بنا دیتے ہیں ۔اپنوں کے ہاتھوں غداری کا مقدمہ بنا کر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ایسا جن ہی تو کر سکتا ہے لہذا یہ آئی ایم ایف اور اسکے مالک ایک ایسا ہی جن ہے جو ملک کے حکمران اپنی مرضی کے لاتا ہے لے جاتا ہے جس سے اب چھٹکارا پانا مشکل نہیں نا ممکن بھی ہے ۔جو حکمران زندہ ہیں اقتدار میں نہیں ہیں یہ سب یہ تو کہتے ہیں مجھے انہوں نے سازش سے اتارہ ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ہم انہی کی وجہ سے اقتدار میں آئے تھے ۔ جھوٹے ہیں جھوٹ بولتے ہیں ۔ ان کے کہنے پر حالات نہیں بدلے گیں اقتدار بدلے گا ۔ اب یہاں وہی شخص زندہ اور خوشحال رہے گا جو بجٹ ، آئی ایم ایف اور سیاسی لیڈران کی باتوں کو نہیں مانے گا دھیان نہیں دے گا بلکہ اس پر عمل کرے گا ۔ اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے ۔