- الإعلانات -

وزیراعلیٰ پنجاب اوربزرگ پنشنرز۔۔۔!

زےست قدرت کا انمول اور خوب صورت تحفہ ہے۔زندگی میں وقت اور ماحول سے نشیب وفراز اور اتار چڑھاو آتا ہے۔حضرت انسان کےلئے زندگی میں دو ادوار کھٹن ہوتے ہیں ۔(الف ) زندگی کے ابتدائی ایام ، (ب) زیست کے آخری ایام ۔ان دونوں میں انسان کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔زندگی کے ابتدائی ایام میں والدین سہارا دیتے ہیں جبکہ آخری ایام میں صرف خوش نصیب اولاد مدد کرتی ہیں۔ بڑھاپے میں انسان بہت مشکل میں ہوتا ہے ۔ عصر حاضر میں بہت زیادہ مہنگائی میں اضافہ ہوچکا ہے ،اس مہنگائی سے پنشنرز بھی متاثر ہیں اور وہ اس مہنگائی سے سخت پرےشان و نالاں ہیں۔شہباز شریف نے وزیراعظم منتخب ہوتے ہی وفاقی پنشنرز کی پنشن میں دس فی صد اضافہ کیا جبکہ صوبہ پنجاب کے پنشنرز بھی وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے توقع کررہے تھے کہ وہ بھی اپنے محترم والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جیسے وزیراعلیٰ منتخب ہونگے تو صوبہ پنجاب کے بزرگ پنشنرز کی پنشن میں اضافہ کریں گے اور بزرگوں سے دعائیں لیں گے لیکن ان کو ہمت نہیںہوئی ۔ بزرگ پنشنرز کاخیال تھا کہ یہ بجٹ میں ساری کمی پوری کریں گے اور پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کریں گے لیکن صرف پانچ فی صد اضافہ کرکے سب کو حےران و پریشان کردیا حالانکہ پی ٹی آئی حکومت نے صوبہ خیبر پختوانخواہ میں پندرہ فی صد اضافہ کیا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے بزرگوں کی بہت توقعات تھیں لیکن اب تک وہ ناکام ہیں۔ بزرگ پنشنرز نے وزیرعلیٰ پنجاب سے پنشن میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے اور اس ہوش ربا مہنگائی میں پنشن میں اضافہ ناگزیز ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے پنشنرز کا مطالبہ من وعن پیش خدمت ہے۔” ہم بزرگ پنشنرز کس کو اپنی درد بھری فریاد سنائیں، اب تو ہم روٹی، کپڑے اور ادویات سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور ِ حکومت میں ہی حاضر سروس ملازمین نے دو مرتبہ احتجاج کرکے یکم مارچ 2021ءسے 25فی صد ڈسپرائٹی الاﺅنس ،پھر بجٹ میں10 فی صد اضافہ ، یکم مارچ 2022 ء سے پھر15فی صد تنخواہوں میں اضافہ حاصل کیا جبکہ پنشنرز کو بجٹ2021-22 میںصرف10فی صد پنشن میں اضافہ دیا گیا۔ اب بجٹ2022-23 میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے پنشن میں پندرہ فی صد جبکہ صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن اوراتحادی حکومت کے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے محض پانچ فی صد پنشن میں اضافہ کرکے سب کو حیرت میں مبتلا کیا۔کیا صوبہ پنجاب کے بزرگ پنشنرز اس ملک کے شہری نہیں ؟ کیا بزرگ پنشنرز نے اپنی زندگی اور جوانی کا قیمتی حصہ ملک کی خدمات میں صرف نہیں کیا ؟اب جب ان میں دم خم نہیں رہا ، گھروں میں بیٹیاں رخصت کی امید لگائے بیٹھی ہیں، بچوں کی تعلیم آخری مراحل اور مہنگے ترین حصے میں ہے، بال بچوں کی روزی روٹی کی کوئی ذرائع آمدن نہیں ہے اور ادویات ان کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ ایسے وقت میں صرف پنشنرز کو ہی پنشن میں اضافہ سے محروم رکھنا یا بہت قلیل اضافہ کرنا،کیا زندہ درگور کے مترادف نہیں ؟ بزرگ پنشنرز تو ویسے بھی چلتی پھرتی لاشیں ہیں، جن کا پنشن کے علاوہ کوئی ذریع آمدن نہیں ہے ۔ کیا ہم بیٹیوں کو زندہ دفن کردیں؟ کیا ہم بیٹے اور بیٹیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے روک د یں؟اگر کسی کا بیٹا جوان ہے بھی اسے نوکری نہیں ملتی تو ہم کیا کریں؟کیا ہم اجتماعی خودکشی کےلئے وزیراعلیٰ پنجاب سیکرٹریٹ لاہور آجائیں ؟ہم بزرگ پنشنرز حاضر سروس ملازمین کی طرح نہ احتجاج کرسکتے ہیں اور نہ ڈنڈے کھاسکتے ہیں۔اب اس عمر میں تو صرف کفن پہن کر وزیراعلیٰ پنجاب سیکرٹریٹ لاہورآکر اجتماعی خودکشی کرسکتے ہیں یا آپ سے اللہ اور رسولﷺ کا واسطہ دے کر فریاد کرسکتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں بزرگ پنشنرز کے ساتھ یہ ظلم ، زیادتی اور ناانصافی کیوں؟ آپ سے اللہ اور رسول ﷺ کا واسطہ دیکر اپیل ہے کہ ہماری پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ممکن نہیں تو صوبہ پنجاب بھر کے پنشنرز کی پنشن میں کم ازکم 50 فی صد اضافہ کرکے بزرگ پنشنرز کی دعائیں لیں۔ورنہ بزرگ پنشنرز بچوں کی شادیاں نہ کرسکنے ، روزی روٹی نہ ملنے اور ادویات خرید نہ سکنے کی وجہ سے مرجائیں گے اور بر وز محشر میں جواب دہ پنجاب حکومت اور آپ ہونگے۔یہ بزرگ پنشنرز اب آپ کے رحم وکرم پر ہیں۔ان کی حالت ناگفتہ پر رحم کھائیں ۔داد رسی کی اپیل ہے ، یہی وقت ان بزرگ پنشنرز کی دعائیں لینے کا ۔”
وزیراعلیٰ پنجاب وقارئین کرام!ےقینا بزرگ شہریوں کی زندگی کا یہ حصہ کرب اور مشکلات کا ہوتا ہے۔اس مشکل وقت میں بزرگ پنشنرز کا ساتھ دینا چاہیے۔بلاشبہ پی ٹی آئی دور حکومت میں مہنگائی میں اضافہ ہو اتھا لیکن مسلم لیگ ن اور اتحادی دورحکومت میںمہنگائی میں بےحد اضافہ ہوچکا ہے اور یہ مہنگائی ناقابل برداشت ہے۔ جب اس مہنگائی سے سب پریشان ہیں تو بزرگ پنشنرز کی حالات کیا ہوگی؟یہ کیفیت صرف اور صرف بزرگ پنشنرز ہی جانتے ہیں۔
"محبت کو سمجھنا ہے تو ناصح خود محبت کر
کنارے سے کبھی اندازہ طوفان نہیں ہوتا۔”
ان بزرگ شہریوں نے زندگی کے اہم حصے میں ملک وملت کی خدمت کی ہے اور اب ان کو سہارے کی ضرورت ہے ۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان بزرگ پنشنرز کی داد رسی کریں اور ان کی مدد کریں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز صاحب! صوبے بھر کے بزرگ پنشنرز کی پنشن میں کم ازکم 100اضافہ کریں تاکہ ان کی زیست کا آخری حصہ سکون سے بسر ہواور آپ ان کی ڈھیروں دعائیں سمیٹ لیں۔