- الإعلانات -

بنیادی اشیائے ضروریہ پر ریلیف کا فیصلہ

اڑھائی ماہ کے عرصہ اقتدار میں حکومت نے عوام سے دو وقت کی باعزت روٹی چھین لینے کے بعد اسے خیال آیا ہے کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو کم کیا جائے اور بھی یوٹیلیٹی سٹورز پر جہاں ایسے اشیا سبسڈی کے بعد ہمیشہ نایاب ہو جاتی ہیں۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کیلئے یوٹیلٹی اسٹورز پر پانچ بنیادی غذائی اشیا کو کم قیمتوں میں فراہم کرنے کی ہدایت دے دی ہے دیکھیں اس کا عام آدمی کو کہاں تک فائدہ ہوتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ جب تک عام مارکیٹ میں یہ اشیا کم نرخوں پر دستیا ب نہیں ہوتیں باقی سب پیکج لولی پاپ ثابت ہوتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اجلاس کو یوٹیلٹی اسٹورز پر دی جانے والی سبسڈی، پسماندہ طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی، یوٹیلٹی اسٹورز کی ملک بھر میں تعداد میں توسیع اور خیبر پختونخوا میں وزیرِ اعظم کے وژن کے تحت سستے آٹے کی فراہمی کے پروگرام پر پیش رفت سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا،اجلاس میں بتایا گیا کہ یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن ملک میں اس وقت 3822 اسٹورز کو براہ راست اور 1380 فرینچائز چلا رہا ہے جبکہ تیس جولائی تک بلوچستان، سندھ، کشمیر، گلگت بلتستان اور پنجاب میں 300سے زیادہ نئے اسٹورز بنائے جائیں گے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ریلیف پیکج کے تحت اب تک 11 کروڑ 30 لاکھ مستحق افراد مستفید ہو چکے ہیں جن کو فی کلو آٹے پر 60 روپے، چینی پر 21روپے، گھی پر 250روپے جبکہ دالوں اور چاول پر 15-20روپے ٹارگٹڈ سبسڈی دی گئی ہے۔کاغذوں پر تو یہ سب کچھ خوش کن ہے لیکن زمینی حقائق برعکس ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 942یوٹیلٹی اسٹورز پر سستے آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر 1000نئے سیل پوائنٹس اور 200موبائل اسٹورز کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔یہ خوش کن خبر دی گئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے غریب اور پسماندہ طبقے کیلئے بڑا ریلیف پلان تیار کیا ہے جس کے تحت 5 بنیادی اشیا ضروریہ کو اگلے مالی سال کیلئے کم نرخوں پر فراہم کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ سبسڈی یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے پورے ملک میں غریب اور پسماندہ طبقے کو فراہم کی جائے گی، سستی فراہم کی جانے والی اشیا میں آٹے، چینی، گھی/خوردنی تیل، دالیں، اور چاول شامل ہیں جنہیں بازار سے سستے داموں عوام کو فراہم کیا جائے گا۔شہباز شریف نے یوٹیلٹی اسٹورز کے نیٹ ورک میں توسیع کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں یوٹیلٹی اسٹور کی کم تعداد کسی قدر منظور نہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد میں اضافے کا جامع منصوبہ دو ہفتے میں پیش کیا جائے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پسماندہ طبقے کو اس وقت ریلیف کی سب سے ذیادہ ضرورت ہے اور پسماندہ طبقے کے ریلیف کیلئے حکومت ہر قیمت خرچ کرنے کو تیار ہے کیوں کہ پسماندہ طبقے کو اشیاِ ضروریہ پر ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے۔شہباز شریف نے ہدایت کی کہ سبسڈی کا نظام شفاف اور ڈیجیٹل بنایا جائے، مختلف قسم کی سبسڈیاں اکٹھی کرکے ایک جامع نظام بنایا جائے اور نظام کے تحت خصوصی طور پر پسماندہ طبقے کے ریلیف کو ترجیح دی جائے ۔ انہوں نے سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کیلئے وزیرِ خزانہ، وزیرِ صنعت و پیداوار اور وزیرِ تخفیفِ غربت کو باہمی تعاون سے حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔یہ بات حقیقت ہے کہ جب تک حکومت تیل اور بجلی کی قیمتوں کو لگام نہیں ڈالتی ایسے پیکجز کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔روز گار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں جبکہ تیل سے وابستہ تمام کاروبار آہستہ آہستہ ٹھپ ہو رہے ہیں۔کسان جس کا تمام تر انحصار ڈیزل پر ہے اس کا بھرکس نکل گیا ہے۔ترقیاتی کاموں پر خود حکومت کا بجٹ تلپٹ ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے حکومت آئی ایم ایف کی چنگل سے نکلے ، آخر کب تک عمران خان کی آڑ میں اپنی نااہلی کی پردہ پوشی کی جائے گی۔ہر معاملے پر سیاست اور پوائنٹ سکورنگ خود فریبی ہے،عوام میں جس طرح کا لاوا پک چکا ہے یاتو حکومت اس کا اندازہ نہیں یا پھر اس نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لی ہیں۔
بازاروں کی جلد بندش، بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ
حکومت کی طرف سے مارکیٹوں اور بازاروں کو جبری اورجلدی بند کروانے کی وجہ سے تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس حکومتی اقدام سے ملک میں بے روزگاری انتہا کو پہنچ جائے گی۔حکومت نے مارکیٹوں اور بازاروں کو رات نو بجے پولیس کے زور پربند کروانا شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ دو صوبوں اور مرکز میں رات نو بجے سے پہلے پولیس گشت کرنا شروع کردیتی ہے اور جو بازار نو بجے کے بعد بھی کھلے رہتے ہیں، انہیں بند کرواتی ہے۔اس وقت شہری علاقوں میں 8 سے 10 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12 سے 18 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اس طویل لوڈشیڈنگ منفی اثرات الگ سے قوم اٹھا رہی ہے۔ لوڈشیڈنگ کے علاوہ بہت سارے علاقوں میں ٹیکنیکل خرابیوں کے نام پر بھی عوام کو بجلی سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اس بحران کی ذمہ داری ن لیگ پر عائد ہوتی ہے، جس نے ماضی میں دھڑا دھڑ درآمد شدہ تیل اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانے لگائے۔ اب اس درآمد پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ ملک بجلی کی پیداواری صلاحیت رکھنے کے باوجود تیل اور کوئلے کی قیمتوں کی وجہ سے بجلی پیدا نہیں کر سکتا۔ ملک کی تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انفارمل سیکٹر میں لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کام کرتے ہیں اور اگر حکومت ایسا کرتی ہے، تو پھر بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوں گے، جس سے ملک میں نہ صرف جرائم میں اضافہ ہوگا بلکہ امن وامان کا مسئلہ بھی کھڑا ہوگا۔ ملک میں پہلے ہی بیروزگاروں کا ایک جم غفیر ہے اور اگر حکومت نے اس طرح بازار جلدی بند کرنا شروع کر دیے، تو بے روزگاروں کی فوج میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو گا۔ حکومت اس وقت نو بجے مارکیٹ اور کاروباری مراکز کو بند کرا رہی ہے لیکن اس سے بجلی کی فراہمی میں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ہاں پولیس کی ضرور چاندی ہوجائے گی ۔
جان بچانے والی ادویات کی نایابی
مہنگائی کی ماری عوام پر ادویات بم گرایا جانے والا ہے۔ اس وقت حکومت اور پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان معاملات طے نہ ہونے کی بنا پر جان بچانے والی10 ادویات نایاب ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کا علاج معالجہ متاثر ہو رہا ہے، فارما انڈسٹری نے 17 فیصد سیلز ٹیکس کے باعث خام مال کی درآمد بند کر دی ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 17فیصد سیلز ٹیکس کاخا تمہ نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں 50فیصد سے زائد ادویات مارکیٹ سے غائب ہو جائیں گی۔علاج معالجہ جو پہلے ہی عوام کی پہنچ سے باہر جا چکا ہے اگر یہی عالم رہا تو پھر عوام کا اللہ ہی حافظ ہے۔