- الإعلانات -

جرمنی میں علامہ اقبالؒ پر خصوصی تقریب

عظیم مفکر اور شاعرعلامہ محمد اقبالؒ 1907 پی ایچ ڈی مقالہ تحریر کرنے کے لیے جرمن زبان سیکھنے کے لیے جرمنی گئے۔جرمن شہر ہائیڈل برگ میں جس مکان میں قیام پذیر تھے، وہ دریائے نیکر کے کنارے سڑک کی دوسری طرف واقع ہے ۔ اقبالؒ اسی گھر سے نکل کر سڑک کی دوسری طرف دریائے نیکر کے کنارے بیٹھا کرتے تھے۔ ان کی اس رہائش گاہ کو شہر کی پارلیمنٹ 1969 میں ایک یادگار ورثہ قرار دے چکی ہے ۔ شاعرمشرق علّامہ اقبالؒ کے حوالے سے دنیا بھر میں تقریبات ہوتی رہتی ہیں مگرجرمنی میں مقیم معروف شاعر،ادیب اور صحافی سیّد اقبالؒ حیدر نے حکیم امت کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلئے ایک تقریب کا انعقاد دریائے نیکر کے کنارے خوبصورت پارک کے اسی گوشے میں کیا جہاں علامہ اقبالؒ کا قیام تھا۔علامہ ؒ کے چاہنے والے ہر سال ہونے والی اس تقریب کا انتظارشدت سے کرتے ہیں۔ اس مرتبہ دریائے نیکر کے کنارے 37درجہ حرارت کی گرمی بھی پروگرام کی خوبصورتی و حسن کو کم نہ کرسکی ۔تقریب میں”علامہ اقبالؒ اورگوئٹے“ کے موضوع پر مقالے پڑھے گئے ۔ ہمارے بہت پیارے دوست، دانشور، شاعر، مصنف سید حسنین بخاری صاحب نے بطور خاص پاکستان سے اس تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے علامہ اقبالؒ کی نسبت سے تقریب کے انعقاد کو لائق تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہائیڈل برگ میں شاعرِ مشرق نے اپنے قیام کو زندگی کے خوبصورت لمحات سے تعبیر کیا ۔ تقریب میں ہونے والے مشاعرے میں انہوں نے اپنا کلام بھی سنایا۔بزم اقبال کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے راقم الحروف کو بہت مسرت ہوئی کہ جرمنی میں علامہ اقبال کے اعزاز میں ایسی شاندار تقاریب کا انعقاد ممکن ہے۔ بخاری صاحب نے فکر اقبال کے فروغ میں بزم اقبال کے شاندار کردار کی بہت تعریف کی۔ راقم الحروف نے اقبال بارے ایک کتاب بھی دی جو انہوں نے جرمنی میں ایک ادارے کو عطیہ کر دی۔ اقبالؒ کا انتخاب ہائیڈل برگ، جرمنی کا علم و عرفان کا وہ شہر ہے جہاں جرمنی کی سب سے پہلی اور قدیم یونیورسٹی موجود ہے، جو 1386 میں قائم ہوئی تھی۔ اس شہر کا ایک اور عالمی اعزاز یہ ہے کہ اس کے 8 باشندوں کو امن کا عالمی نوبل پرائز بھی مل چکا ہے۔ اقبالؒ نے وہاں قیام کے دوران فلسفہ اور اپنی فکر و سوچ کے علاوہ شاعری سے جرمن قوم کو بہت متاثر کیا تھا۔ مفکر پاکستان نے اردو ادب کو ”جاوید نامہ “اسی دریا ئے نیکر کے کنارے بیٹھ کر دیا۔ انہی رومان پرور کناروں پر بیٹھ کر اک نظم ”ایک شام“ (دریائے نیکر، ہائیڈل برگ کے کنارے) لکھی تھی، جس کا جرمن زبان میں ترجمہ کرکے اس کو یادگاری کتبے پر لکھ کر وہیں نصب کیا گیا ہے۔اس دریا کی قریبی سڑک کو اقبالؒ کے نام سے منسوب کرکے اقبالؒ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ یہ اقبالؒ اوفر کے نام سے مشہور ہے۔ اسی طرح حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک سڑک کو ” خیابان, انا میری شمل“ کا نام دے کر جرمنی اور جرمنوں سے اپنے دل و روح کے گہرے روابط کا ثبوت دیا ہے ۔ جناب سید حسنین بخاری اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ ہمیں گوئٹے کے دیس جرمنی، اقبالؒ کی دھرتی اور ان کے فرزندوں کے درمیان مشترک فکری, تہذیبی و ثقافتی اقدار کو قائم رکھنے اور بڑھانے کی ضرورت ہے۔ میری معلومات کے مطابق ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں اقبالؒ چیئر ہوتی تھی جہاں کوئی نہ کوئی ماہر, اقبالیات مستقل تعینات ہوتا ہے لیکن ایک عرصے سے یہ خالی ہے ۔ اسی طر ح پاکستان کے تہذیبی وثقافتی شہر لاہور میں گوئٹے انسٹیٹیوٹ ہوتا تھا جو دوممالک کے درمیان ایک پل کا کام دیتا تھا۔ مجھے بھی اس کے علمی و ادبی ماحول سے مستفیض ہونے کا موقع ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی دور میں، میں نے تین نظمیں مندرجہ ذیل عنوانات سے لکھیں۔ اے جرمنی کی مٹی، اقبالؒ اور گوئٹے کے درمیان مکالمہ ، گوئٹے انسٹیٹیوٹ لاہوربند ہونے پر اقبالؒ کا جرمن قوم سے خطاب۔ گوئٹے انسٹیٹیوٹ لاہور کچھ عارضی وجوہات کی بنا پر بند کردیا گیا تھا جس کو از سر, نو کھولنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے جرمن مہمان, خصوصی محترمہ کلوڈیا کرامت شیک صاحبہ انچارج کلچرل ڈیپارٹمنٹ ہائیڈل برگ, برلن میں تعینات پاکستانی سفیر اور فرینکفرٹ میں تعینات پاکستانی کونسل جنرل سے درخواست کی کہ وہ ہائیڈل برگ میں اقبالؒ چیئر کے احیا یا اقبالؒ گوئٹے فورم ہایڈل برگ کے قیام اور گوئٹے انسٹیٹیوٹ لاہور کے از سر, نو قیام و اجرا کامعاملہ اپنی اپنی حکومتوں سے حل کروائیں کیونکہ یہ دونوں ممالک کے تہذیبی و ثقافتی تعلقات کے اِستحکام کےلئے نہایت اہم اور ناگزیر ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جرمنی سے علامہ اقبالؒ کے لگاﺅ اور محبت کی اصل وجہ، جرمن افکار، شاعری اور سب سے زیادہ گوئٹے کی وجہ سے گہری عقیدت تھی۔ علامہ اقبالؒ کا کہنا تھا کہ گوئٹے صاحب کتاب تھے اور یہ کتاب ان کی تخلیق ”فاوسٹ“ ہے۔ علامہ اقبالؒ گوئٹے کا موازنہ غالب سے کرتے تھے اور اقبالؒ کی مشہور فارسی نظم ”پیام مشرق“ کا محرک یا جواب کہہ لیں، گوئٹے کا دیوان غربی و شرقی ہے، جو اقبالؒ کی نظر میں مشرق کے نام گوئٹے کا گلدستہ عقیدت ہے اور یوں گوئٹے نے جرمن ادبیات میں عجمی روح پیدا کرنے کی کوشش کی۔ علامہ اقبالؒ نے مغرب کے بہت سے فلسفیانہ خیالات کو درخور اعتنا سمجھا اور اور ان کو دقت نظر سے دیکھا اور ایک مضبوط و مستحکم فکری و نظری معیار سے انھیں پرکھ کر ردو قبول کا رویہ اپنایا۔ ہیگل کا تصورِ انسان، مارکس کا عینی اور مادی جدلیاتی ارتقا، نیٹشے کی لبرل بورڑوا سوسائٹی اور اس کی قدروں کی تحقیر، مافوق البشر کا پیغام، برگساں کا تصورِ زماں اور اثباتِ وجدان، کانٹ کی انسانی عقل کی تنقید اور تجدید؛ غرض ان سب کا اقبالؒ نے گہرا مطالعہ کیا اور علم و حکمت کے مغربی سرچشموں تک بلا واسطہ رسائی حاصل کرنے کی سعی بلیغ کی۔ اقبالؒ مغربی ادب کو کافی حد تک درخور اعتنا سمجھتے تھے اور ان کے مطالعے کی دعوت دینا اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر دیتا ہے۔