- الإعلانات -

پنجاب حکومت کے قابل قدر اقدامات

پنجاب حکومت عوامی فلاح و بہبود کے انقلابی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ شفافیت ، اعلی معیار اور تیزرفتاری سے منصوبوں کی تکمیل پنجاب حکومت کا طرہ امتیاز ہے۔ وزیراعلیٰ پنجا ب صوبہ بھر میں عوامی فلاح کے منصوبوں کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور اس ضمن میں تمام متعلقہ ادار وں سے رابطے میں ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح طورپر کہا کہ جمہوریت پسند سیاسی کارکن ہوں ۔ 27 سال جدوجہد کی ۔ کابینہ کے بغیر عوام کے لئے آٹا پر 200 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ یہ بات واقعی قابل ستائش ہے کہ میاں حمزہ شہباز عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر میدان سیاست میں اترے ہیں۔ بقول ان کے وہ شروع دن سے عوام کی خدمت کر رہے تھے، کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالی کی توفیق سے سب کچھ ہو رہا ہے۔ انہوں نے برسر اقتدار آتے ہی مخلوق خدا کی خدمت کا کام شروع کر دیا۔ یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ انہوںنے کبھی بھی عوام سے وقت نہیں مانگا کہ 6 ماہ دے دو پھر رزلٹ دوں گا۔یہ بھی نہیں کہا کہ 3 ماہ دے دو، دودھ کی نہریں بہا دوں گا۔ حتیٰ کہ کابینہ کے بغیر 200 ارب روپے کی سبسڈی دینے پر روکا گیا مگر انہیں عوام کا احساس تھا۔ 10 کلو آٹا تھیلا 160 روپے سستا کیا اور آج پنجاب بھر میں آٹا تھیلا 490 روپے کا مل رہا ہے۔ ہر تحصیل و ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں مفت ادویات ملنا شروع ہو رہی ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ بجلی کے اندھیرے تھے، مسلم لیگ ن 12 ہزار میگا واٹ سسٹم میں لائی، 2018ء میں حکومت چھوڑی تو زیرو لوڈشیڈنگ تھی۔موجودہ حکومت نے دل پر پتھر رکھ کر پٹرول کے نرخ بڑھائے کیونکہ موجودہ حکمران حکومت نہیں ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔ ملک کو بچانے کے لئے آئے اور معیشت کی بہتری کے لئے سیاسی بوجھ اٹھایا۔ اسی طرح پنجاب کی سطح پر بھی بعض بڑے فیصلے کرنے پڑے ۔
عوامی فلاح و بہبود کے حکومتی اقدامات قابل ستائش ہیں۔ آٹے اور چینی کی مہنگائی کے اس دور میں کچھ ذخیرہ اندوزوں نے اشیائے صرف ذخیرہ کر لی ہیں۔ دکانوں پر آٹا، گھی اور چینی کی قلت نظر آرہی ہے۔ اس کے تدارک کےلئے پنجاب حکومت کو چاہیے کہ ذخیرہ اندوزوں پر کڑی نظر رکھے۔بہر حال مہنگائی کی جو بھی وجہ ہو، حکومت کو پریشان عوام کو ریلیف دینا ہے۔ غیر معمولی حالات میں فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ عام آدمی کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کےلئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔بجٹ میں بھی محروم معیشت طبقے کی فلاح پر فوکس اور پنجاب کے 12 کروڑ عوام کیلئے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبے کے عوام کیلئے آسانیاں پیدا کی ہیں، متوازن، ٹیکس فری اورترقیاتی بجٹ سے صوبے میں ترقی اورخوشحالی کے نئے دور کا آغا ز ہوگا۔امید ہے کہ عام آدمی کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔
پنجاب حکومت کا سب سے بڑا چیلنج معاشی و اقتصادی بحران سے نمٹنا ہے ۔میاں حمزہ شہباز نے ایسے وقت میںاقتدار سنبھالا جب پنجاب کی عوام کو روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بیروزگاری ،امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت دیگر سنگین نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے ملکی و قومی ترقی اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھائے بھی جارہے ہیں جن میں وزیراعظم کا اعلان کردہ ارب ہا روپے کا ریلیف پیکیج اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کے آٹے‘ گھی کے نرخوں میں کمی اور ذخیرہ اندوزی و گراں فروشی کے سدباب کیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات بھی شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے مزدوروں کو ریلیف دینے کیلئے احسن اقدام کیا گیا ہے۔اس مہنگائی کے دور میں پنجاب حکومت نے بھی مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت 25 ہزار روپے مقرر کر دی۔پنجاب حکومت نے مختصر عرصے میں کم وسائل رکھنے والے طبقات کو ریلیف دینے پر فوکس کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ ہرممکن کوشش کر رہے ہیں کہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ہو۔ مزدور کو روزانہ کی بنیاد پر 961 روپے اجرت دی جائے گی۔نوٹیفکیشن کے مطابق مزدور کی ماہانہ کم از کم اجرت میں اضافے کا اطلاق رواں سال یکم جولائی سے ہو گیا ہے۔زراعت، صنعت، کارخانوں اور ہر شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں کے بدولت ہی ملک ترقی کرتا ہے، لحاظہ مزدوروں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے اجرتوں میں اضافہ قابل قدر عمل ہے۔