- الإعلانات -

خالصتان کے قیام کےلئے اٹلی میں ریفرنڈم

دنیا بھر میں پھیلے 3کروڑ سکھ آج بھی بھارت سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنا دینے کے حق میں سیاسی مہم کافی پرانی ہے اور اس تحریک سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر یہ مہم چلاتے ہیں۔حال ہی میں اٹلی کے دارلحکومت روم میں ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جہاں مختلف شہروں میں تقریباً 2 لاکھ سکھ مقیم ہیں۔خالصتان تحریک کی حامی ایک معروف تنظیم ‘سکھ فار جسٹس‘ (ایس ایف جے) بھی ہے۔ اس تنظیم کے ایک رہنما گرپتونت سنگھ پنّو آج کل خالصتان کے حق میں مہم کے روح رواں ہیں اور وہی ریفرنڈم کے حوالے سے مہم بھی چلا رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر رکھا ہے۔گزشتہ برس اکتوبر میں اسی تنظیم نے ایک آن لائن ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا، جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جانا تھا کہ آیا پنجاب میں سکھوں کی الگ اور خود مختار ریاست قائم کی جانا چاہیے۔’سکھ فار جسٹس‘ نامی تنظیم نے 18 برس سے زائد عمر کے تمام سکھ شہریوں سے اس ریفرنڈم میں رائے دہی کی اپیل کی تھی۔ بھارت میں سکھوں کے خلاف منظم طریقے سے امتیازی سلوک کے نتیجے میں تحریک نے زور پکڑا اور یہ حقیقت ہے کہ اب سکھ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ علیحدہ وطن خالصتان حاصل نہیں کر لیتے۔ بھارت کے خلاف سکھوں کی جدوجہد دراصل ہندوتوا کی بالادستی کے خلاف جنگ ہے۔ سکھ بہادر لوگ ہیں اور وہ مودی کے غاصبانہ تسلط کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت کی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ سخت پریشان ہے کیونکہ خالصتان کے تصور کیلئے دنیا بھر کے سکھوں میں گہری دلچسپی پیدا ہورہی ہے۔ علیحدہ سکھ ریاست کا مطالبہ برطانوی سلطنت کے زوال کے بعد شروع ہو ا اور خالصتان کے نام پر علیحدہ وطن کا قیام ہر سکھ کا خواب ہے۔ امریکہ میں قائم ایک تنظیم ”سکھز فار جسٹس “ نے بھارت کا نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں نہ صرف پنجاب بلکہ ہریانہ اور ہماچل پردیش کو خالصتان کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ سکھ فارجسٹس“کے زیراہتمام دنیا بھرمیں مقیم سکھ ” خالصتان “کے قیام کیلئے ریفرنڈم کا انعقاد کر کے خالصتان کے حق میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔18 سال سے زائد عمر کے افراد جن کا تعلق بھارتی پنجاب سے ہو وہ اپنی شناخت دکھا کر ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ ووٹ ڈالنے سے پہلے تین جگہوں پر شناخت اور عمر کے حوالے سے تصدیق کے بعد ووٹر ووٹ ڈالتے ہیں۔ ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کا مطالبہ ہے کہ بھارت خالصتان کو آزاد کرے اور اقوام عالم بھارت میں سکھوں پر ہونیوالے مظالم کا نوٹس لے۔ ریفرنڈم ایک آئینی اور قانونی راستہ ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے۔ بھارت پنجاب پر اپناجبری قبضہ ختم کرے تاکہ خالصتان کاقیام عمل میں لایا جا سکے۔ سوئٹزر لینڈ سمیت سات یورپی ممالک میں خالصتان کے حوالے سے ریفرنڈم کی ووٹنگ ہو چکی ہے۔یفرنڈم کی نگرانی بین الاقوامی غیر جانبدار ادارے کر رہے ہیں ۔ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والے سکھ حضرات کا کہنا تھا کہ ہندوستان سے آزادی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے ۔ انہیں اپنا گھر خالصتان چاہیے۔ بھارتی دباﺅکے باوجود یورپین حکومت نے سکھوں کو خالصتان کیلئے ریفرنڈم کی اجازت دی۔ سکھوں کے بین الاقوامی ریفرنڈم کی کامیابی سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ بھارت کی تقسیم کا وقت آگیا ہے۔ بھارتی پروپیگنڈے کے باوجود برطانیہ اور جنیوا میں سکھوں کی بڑی تعدادنے ریفرنڈم کے ابتدائی مرحلوں میں حصہ لیا۔ ریفرنڈم کے نتائج اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کوبھی پیش کئے جائیں گے تاکہ بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن کیلئے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔خالصتان کیلئے ہونیوالے ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کو رکوانے کیلئے ہر ممکن سفارتی کوششیں کی لیکن برطانوی حکومت نے سکھوں کو ریفرنڈم کے انعقاد سے نہیں روکا۔ بیرون ملک مقیم سکھ برادری کے عزم اور خالصتان ریفرنڈم میں ان کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار بھارت اپنے علیحدہ وطن کیلئے سکھوں کی مقامی تحریک کو بدنام کرنے کیلئے جعلی فلیگ آپریشنز کا سہارا لینے کی کوشش کر رہا ہے۔بھارتی سیاسی قیادت جعلی فلیگ آپریشنزکے ذریعے بیرون ملک سکھ فار جسٹس اور خالصتان کی حامی دیگر تنظیموں کے خلاف مقدمات کے اندراج کی کوشش کر رہی ہے۔مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے لدھیانہ دھماکے میں سکھ فار جسٹس کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ جسوندر سنگھ ملتانی نے جن پر دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے، بھارتی حکومت کے دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کی لڑائی ہتھیاروں سے نہیں قلم کے ذریعے ہے۔ آپریشن بلیو سٹار کے نام سے بھارتی فوج کے ہاتھوں سکھوں کے قتل عام کو 36 برس بیت گئے لیکن سکھ قوم کے دل پر لگا زخم آج تک مندمل نہیں ہوسکا۔ 1984 میں جون کے پہلے ہفتے میں بھارتی فوج نے امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر دھاوا بولا۔ 8 دن تک جاری رہنے والے اس قتل عام میں سینکڑوں سکھوں کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا جس گردوارے میں سکھ عقائد کے مطابق ننگے سر جانا بھی پاپ (گناہ) ہے وہاں قاتل بھارتی فوجیوں نے جوتوں سمیت گھس کر سکھ عبادتگاہ میں خون کی ندیاں بہا دیں۔ بھارتی فوج نے گرورام داس لنگر کی عمارت پر حملہ کیا۔اگلے دن ہندوستانی فوج کی سات ڈویژن نے امرتسر پہنچ کر شہر کے داخلی اورخارجی راستوں کو بند کیا، پانی، بجلی اور میڈیا کو بھی مکمل بند کردیا گیا۔چار جون کو ہرمندر صاحب کی عمارت پر گولہ باری شروع ہوئی، پانج جون کو بھارتی فوج گولڈن ٹیمپل کی عمارت میں داخل ہوئی اور وہاں موجود سکھوں کا بلا تفریق قتل عام کیا۔ چھ جون کو ٹینکوں کی مدد سے اکال تخت کو مسمار کیا گیا اور اس طرح 7 جون 1984 کو بھارتی فوج نے ہرمندر صاحب کی عمارت پر قبضہ جما لیا۔آپریشن بلیو سٹار کے رد عمل میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو انہی کے سکھ سیکیورٹی گارڈ نے قتل کیا تو پورے بھارت میں سکھ مخالف فسادات پھوٹ پڑے اور لگ بھگ 17 ہزار سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔