- الإعلانات -

وزیراعظم کی زیرصدارت اہم قومی اجلاس

کافی عرصے بعدوزیراعظم نے قوم کوخوشخبری دیتے ہوئے مطلع کیاہے کہ ملک دیوالیہ پن سے بچ گیا ہے،یقینا یہ ایک خوش آئندخبر ہے مگریہ خبرمستقل نہیں کیونکہ ہرتین مہینے کے بعد آئی ایم ایف اورورلڈبینک سے لئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کرناپڑتی ہے۔ یہ وقتی علاج ہے کہ ہم دیوالیہ پن سے بچ گئے، ہمیں مستقل بنیادوں پراوردیرپامدت کی پالیسیاں اختیارکرناپڑیں گی تاکہ ملک زرمبادلہ کے ذخائرمیں کمزورنہ پڑ سکے۔گزشتہ روزوزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گیس بالکل سستی مل سکتی تھی جب اس کی قیمتیں زمین پر گر چکی تھی اور تین ڈالر فی یونٹ گیس کی قیمت تھی، تب پی ٹی آئی حکومت نے مجرمانہ غفلت کا مظاہر ہ کیا اور گیس نہیں خریدی، اگر لانگ ٹرم معاہدہ ہوتا تو پانچ ڈالر فی یونٹ گیس مل سکتی تھی لیکن پی ٹی آئی نے مجرمانہ غفلت کرکے ثابت کیا کہ اس کا پاکستانی عوام کے ساتھ کوئی سروکار نہیں،تباہ ہ شدہ نہیں بلکہ مکمل تباہی سے دوچار معیشت ہمیں سابق حکومت سے ملی، ہرطرف مشکلات تھیں، پچھلی حکومت نے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو برباد کردیا تھا بلکہ آئی ایم ایف سے جو معاہدے کیے انکی شرائط کو بھی نظر انداز کرکے پاکستان کو نقصان پہنچایا، آئی ایم ایف معاہدے کی اس قدر دھجیاں اڑائیں کہ یہ سوال پیدا ہوگیا کہ کیا پاکستان بحیثیت ریاست اپنے معاہدوں کی پاسداری نہیں کرسکتا۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے اس معاملے پر بھی بڑے پیمانے پر مجرمانہ غفلت کی شہبازشریف کاکہناتھا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کی پوزیشن سے نکل آیا ہے، چین نے دو اعشاریہ تین ارب ڈالر کے جو ڈپازٹ دیئے ہیں اس پر چین کے شکرگزار ہیں، کوئی ایسا موقع نہیں کہ ہم مشکل میں ہوں اور چین نے ہماری مدد نہ کی ہو، ہم مشکل چیلنجز سے گزر رہے ہیں، راتوں رات سب تو ٹھیک نہیں ہوگا لیکن ہم اپنی محنت میں کوئی کمی نہیں چھوڑ رہے، ہمارا تعلق عوام اور ملک کی مٹی سے ہے، اس کی بہتری کے لئے ہر قدم اٹھا رہے ہیں، مشکل حالات ملے لیکن اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے ہم مایوس نہیں، ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف دیں، پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دور میں ملکی معاملات پر جس قدر مجرمانہ غفلت کی اس کی تاریخ میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنا اولین ترجیح ہے،سابق دور میں تیل مافیا کی جیت تھی بلکہ عید تھی یہ تمام عوامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی معشت کو تباہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ نوازشریف دور کے بجلی کے جو منصوبے تھے انکو بھی مکمل نہیں کیا گیا بلکہ بند کر دیا گیا، پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ نواز شریف نے بجلی پیدا کرنے کےلئے سستی گیس کا 13 سینٹ فی یونٹ قطر کے ساتھ معاہدہ کیا، قطر ہمارا دوست ملک ہے، گزشتہ دور حکومت میں سپہ سالار قطر گئے اور پانچ سال کا گیس کا معاہدہ قطر کے ساتھ کیا جس سے پاکستان کی معیشت کچھ بہتر ہے۔نیزوزیراعظم شہباز شریف سے مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چودھری شجاعت سے ہونے والی یہ ملاقات ایک اہم کڑی ہے کیونکہ جب تک تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پرنہیں آئیں گی اس وقت تک قومی مسائل کوحل کرناکسی ایک سیاسی جماعت کے بس میں نہیں اس کے لئے ایک جامع اورواضح پالیسی اپناپڑے گی جس پر کم ازکم اگلے بیس سالوں تک عملدرآمد کیاجاناچاہیے تاکہ ملک کے معاشی ،دفاعی اورتوانائی کے مسائل کو باہم مل بیٹھ کرحل کیاجاسکے اور ان امورپرایک قومی پالیسی بھی تشکیل دیناپڑے گی جس پر عملدرآمدتمام سیاسی جماعتوں کے لئے لازم قراردیاجائے۔ملک میں توانائی کے بحران کو حل کرنے کے لئے بھی حکومت سرتوڑکوششیں کرنے میں مصروف ہے اوراس کی کوشش ہے کہ ملک سے لوڈشیڈنگ ،گیس کی کمی اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی لائی جائے جس کے لئے پالیسی سازادارے اور شخصیات سرجوڑ کربیٹھی ہوئی ہیں ۔امید ہے کہ یہ مسئلہ بھی جلدحل کرلیاجائے گا۔نیز گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ وزیراعظم نے بند پاور پلانٹس کی فوری بحالی کا حکم دیا اور لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔ شہباز شریف نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجوہات واضح طور پر بتائی جائیں گی۔ صوبوں کو پینے کے پانی اور زرعی سہولیات کی فراہمی سے متعلق معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور میں صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورت حال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم کو صوبہ پنجاب میں امن و امان کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی قسم کے دبا ﺅکو اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی انجام دہی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر ممکن یقینی بنائیں۔ پولیس کو جدید چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے خاطر خواہ فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہ ناقص کارکردگی اور سست روی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔امن وامان بھی ملک کاایک سنگین مسئلہ ہے آئے روزدن دیہاڑے ہونے والی ڈکیتیوں اوروارداتوں میں عوام لٹ رہے ہیں، ڈکیت اورلینڈمافیا کے گینگ دندناتے پھرتے ہیں جن میں مبینہ طورپرقانون نافذ کرنے والے اداروں کی کچھ کالی بھیڑیں بھی ملوث ہیںان کاخاتمہ کیاجانابھی ازحد ضروری ہے کیونکہ جب چوکیدارچورکی سرپرستی کرنے لگ جائے تو پھراس معاشرے کے امن کودنیا کی کوئی طاقت نہیں سدھارسکتی، غریب عوام بیچارے پہلے ہی مہنگائی ،بیروزگاری کے عذاب تلے پس رہے ہیں اوپر سے لاقانونیت انہیں کھائی جارہی ہے اس لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر بھی ایک جامع آپریشن کلین اپ کی ضروری ہے تاکہ ان کالی بھیڑوں کونکال کرعوام کوامن،سکون اورسکھ کاماحول میسرآسکے اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں ،سڑکوں پرلگے ناکے توجرائم کی سرکوبی کے لئے ہوتے ہیں مگر حقیقت یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ یہی لوگ عوام کو مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ کرکے انہیں لوٹنے میں مصروف نظرآتے ہیں، جب بات اس حد تک بڑھ جائے کہ عوام راہبر،محافظ اورراہزن میں فرق محسوس نہ کرسکے تو پھر کیا باقی بچتاہے ،اس لئے حکومت کو ان نکات پربھی ضرور سوچناہوگا کیونکہ معاشرے کے امن کے لئے ایساکیاجاناازحدضروری ہے۔
بلوچستان میں ٹریفک کاالمناک حادثہ
عیدسے پہلے مسافروں کے رش اورسواریوں کی تعداد میں اضافے کے باعث ٹریفک حادثات کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ،پاکستان دنیاکاواحد ملک ہے جہاں سڑکوں پر روانگی اور آمدکاکوئی مخصوص ٹائم مقرر نہیں کیاجاتا دنیاکے جتنے بھی بڑے ممالک ہیں ان میں شہر سے نکلنے والے ٹول پلازو ں پر باقاعدہ گزرنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے سفر کے دورانیے کی ایک چٹ جاری کی جاتی ہے جو منزل مقصود پرپہنچ کرچیک کی جاتی ہے اگر کوئی گاڑی وقت کے مقررہ سے پہلے داخل ہوناچاہے تو اسے جرمانہ کیاجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں ٹریفک حادثات کی شرح بہت کم دیکھنے میں آئی ہے جبکہ اپنے وطن عزیز میں ایسا کوئی قانون مروج نہیں ۔چندماہ قبل اسلام آباد لاہورموٹروے پراس قانون کانفاذ کیاگیاتھا جسے ٹرانسپورٹ مافیا نے پولیس سے ملکرناکام بنادیا۔ گزشتہ روزبلوچستان اور خیبر پشتونخوا کے سرحدی علاقے میں مسافر کوچ گہری کھائی میں گرنے سے 19افراد جاں بحق جبکہ درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتالوں پہنچادیا گیا جہاں نعشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاءکے حوالے کردیا گیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر شیرانی مہتاب شاہ کے مطابق حادثہ اتوار کی علی الصبح شیرانی سے متصل خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی حدود میں مغل کوٹ دانا سر کے مقام پر پیش آیاجو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع یہ پہاڑی علاقہ دشوار گزار ہے جہاں بارش کے بعد سڑک پر پھسلن ہو رہی تھی۔ اسی پھسلن اور تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور سے بس بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ کئی سو فٹ گہری کھائی میں گرنے اور بھاری پتھروں سے ٹکرانے کے باعث بس تباہ ہو گئی ۔اگر یہ قانون مروج ہوتا اورٹریفک پولیس کے ریڈیو کی جانب سے مسلسل رہنمائی کاسلسلہ ہوتاتو شاید یہ حادثہ نہ ہوتا اور اس میں اتنی قیمتیں جانیں ضائع نہ ہوتیں۔اس جانب توجہ کی ضرورت ہے۔