- الإعلانات -

دفاع وطن کے تقاضے!

شہادت ہے مطلوب مقصود مومن
(نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی….(اقبال
 اللہ تعاظم و تعالیٰ کے فضل و کرم سے 6ستمبر کو پاکستانی قوم ہر سال ”یوم دفاع“ منا کر ، وطن کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے تمام شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے ۔ اس بابرکت دن کے موقع پر ہماری مسلح افواج اور پاکستان کا ہر فرد یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے وطن کی سلامتی اور حفاظت کےلئے اپنی ہر چیزبلکہ جان تک کی بازی لگا دینے کےلئے ہر لمحہ تیارو مستعد ہے ۔ اہل وطن اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہیںکہ قیام پاکستان کے 18سال بعد ،ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے ”آپریشن جبرالٹر“اور مقبوضہ ریاست جموں وکشمیرکے عوام کی ”تحریک آزادی کشمیر “ کی کامیاب سرگرمیوں کے نتیجہ میں درست سمت بڑھ کر مسئلہ کشمیر کو زمینی حقائق اور اقوام متحدہ کی پاس قرار دادوں کے مطابق "Right of Self determination”کی روشنی میں حل کرنے کی بجائے ، مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑکر 6ستمبر 1965ءکو ملکوں کی سلامتی اور خود مختاری کے بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی دھجیاں اڑاتے ہوئے، پاکستان کی سرحد پر اپنی لاکھوں افواج جھونک کر ”دو قومی نظریہ“ کے مطابق وجود میں آنے والی مملکت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کےلئے، سیالکوٹ اور لاہور کی پاکستانی سرحد پر بہت بڑا حملہ کیا۔بھارت جس طرح رقبہ ، آبادی اور وسائل کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ملک ہے اس طرح افواج کی تعداد اور اسلحہ کے لحاظ سے پاکستان پر سبقت رکھتا ہے ۔ پاکستان پر حملہ آور ہوتے وقت بھارتی حکمرانوں ، عوام اور اس کی مسلح افواج کے ذہنوں پر ایک ہی بھوت سوار تھا کہ وہ پاکستان کو اپنی طاقت اور اسلحہ کے زور پر مسل کر رکھ دیں گے اور اس طرح اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کریں گے لیکن اہل بھارت کو یہ شعور نہیں تھا کہ اہل پاکستان اور خصوصاً اس کی بہادر افواج کا ہر سپاہی ”دفاع وطن “کی خاطر اپنی قیمتی جان کی بازی لگا دینے کی سچی تڑپ اور شوق شہادت سے سرشار ہے ۔چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ میرے وطن کے ہر ہر سپاہی نے” خیبر شکن ؓ “کے سچے پیروکار کی حیثیت سے دنیا کے سامنے ،گولہ بارود کی بارش کرتے اورپاکستان کی سمت بڑھتے ہوئے ٹینکوں کے نیچے کو د کر ٹنوں کے حساب سے وزنی ٹینکوں کو ہوامیں یوں اچھالا جیسے بچے کھلونوں کو ہوا میں اچھالتے ہیں۔اس موقع پر پوری پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کی پشت پر کھڑی تھی بلکہ پاکستان کا بچہ بچہ دفاع وطن کےلئے آپس میں نہ صرف متحدہو چکا تھا بلکہ اپنی مسلح افواج کے شیر دل جوانوں کے ساتھ شانہ بشانہ لڑنے اور کٹ مرنے کےلئے تیار تھا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے اپنی بندہ پروری سے ”میرے فوجی جواں جراتوں کے نشان“کے مصداق جذبہ حب الوطنی ، شوق شہادت ، پیشہ وارانہ اورسپاہیانہ جوہر کے جس طرح 1965ءمیں حامل تھے آج بھی اپنے کمانڈر انچیف جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ”دفاع وطن “کےلئے سینہ تانے کھڑے ہیں۔ 1965ءکی جنگ میں ہماری مسلح افواج نے روایتی ہتھیاروں کے ساتھ اپنے سے دس گنابڑی مسلح افواج کا منہ پھیر کر رکھ دیا تھااور دنیا کے سامنے اپنی جرات و شجاعت اور عزم و ہمت کی ایک نئی تاریخ رقم کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج ”پاکستان“ ایٹمی اور میزائل سازی کی صلاحیت کی حامل ریاست ہے ۔ آج ہماری افواج جذبہ ایمانی اور جان نثاری کے ساتھ ساتھ جدید ترین اسلحہ سے بھی لیس ہےں۔ اگرچہ آج ہمارے دشمن ہماری بیرونی سرحدوں کومیلی آنکھ سے دیکھنے کی جسارت نہیں کر سکتا باایں ہمہ دشمن ہماری دفاعی صلاحیت کو نقصان پہنچانے کےلئے ہماری قوم کے اندر انتشار اور افتراق کے بیج بونے کےلئے اپنے تمام تر مکروہ عزائم بروئے کار لا رہے ہیں۔ آج ہماری مسلح افواج کو جہاں جنرل راحیل شریف جیسے محب وطن، جرات مند اور با صلاحیت رہنما کی سربراہی میسر ہے ۔
وہاںنواز شریف وزیراعظم پاکستان جیسے محب وطن ، مخلص ، اعتدال پسند ،دیدہ ور اور سچے خیر خواہ کی قیادت بھی حاصل ہے، جنہوںنے امریکی صدر بل کلنٹن کے اربوں ڈالر کی پیش کش اور ہرطرح کے دباﺅ کو خاطر میں نہ لاکر ، اپنی حکومت کی پرواہ کیے بغیر،پوری قوم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے 28اور 29مئی 1998میں بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں، چھ ایٹمی دھماکے کر کے نہ صرف شہید ذوالفقار علی بھٹو کی ایٹمی صلاحیت کی بنیاد رکھنے ، جنرل ضیاءالحق کی ایٹمی سفر کو جاری رکھنے اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی برسوں کی تعمیر کردہ عالی شان عمارت کو ناصرف دشمنوں کی سازشوں سے بچا کر اسے دنیا کے سامنے سرخرو اور سربلندکیابلکہ پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کا اعزازدلانے میںبھی کامیاب ہوئے۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے میاں محمد نوازشریف کوپاکستان کے دفاع کو یہ استحکام بخشنے کی سعادت عطا کی ۔ 6ستمبر 1965کی طرح دفاع وطن کےلئے آپس میں متحد و منظم ہو کر نا صرف اپنے دشمنوں کی چالیں ناکام بنا کر پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ بلکہ وطن عزیز سے غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری ، لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل سے نجات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ ملی اتحادکی دولت سے سرشار ہو کر ہی ہم پاکستان کو ”فلاحی اسلامی ریاست“بنا سکتے ہیں۔”وفا ع وطن کے تقاضوں “کے تحت جہاں ملک کی بیرونی سرحدوں کا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہونا ضروری ہے وہاں ملک کے اندر امن وسلامتی اور بھائی چارے کی فضا کو فروغ دینا بھی حکومت اور تمام شہریوں کا فرض ہے ۔انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ 17جون 2014ءکو ماڈل ٹاﺅن میں پولیس کی وردی میں ملبوس کارندوں نے نہتے شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر جہاں قیمتی جانوں کا ضیاع کر کے ان کے عزیز و اقارب کو شدید صدمہ اور نقصان پہنچایا وہاں ایک برس کے بعد ہی حکومت کے خلاف لوگوں کو کھڑا کر دیا اور حکومت کی ساکھ اور ملک کی اندرونی سلامتی کو زبردست نقصان سے دوچارکیا۔ سانحہ ماڈل ٹاو ¿ن میں قتل و غارت گری کے ضمن میں علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ کوئی کامیاب حکومت اپنے پُر امن شہریوں کی جان و مال سے اس طرح کھیل کر خواہ مخواہ اپنے خلاف لوگوں سڑکوں پر لانے اور حکومت گرانے کے اسباب مہیا نہیں کرتی۔خصوصاً پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شبہاز شریف جیسے قوم کے ہمدرد ، اعتدال پسند اور دانشمند سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی مرکز میں براجمان پُر امن لوگوں پر پولیس کے ذریعے گولیاں چلوا کر اپنے ہی خلاف لوگوں کو کھڑا کرتے۔علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ خدشہ خارج از امکان نہیں کرنا چاہیے کہ میاں محمد نواز شریف کی حکومت ایک سال بعد ہی گرانے کے لئے حکومت کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی احتجاجی تحریک کو حکومت کے خلاف سخت غم و غصہ اور انتقام میں بدلنے کے لئے ،لاشیں گرانے کا انسانیت کُش ڈرامہ رچایا۔ پاکستان کی 70سالہ تاریخ گواہ ہے کہ حکومتیں گرانے کے لئے سازشی عناصرسب سے پہلے لاشیں گرا کر حکومت مخالف تحریکوں کو ایندھن مہیا کرتے رہے۔ ان تمام پہلوو ¿ں کو نظر انداز کر کے ایک کی رٹ لگانا کیا قرینِ انصاف درست ہے؟ کیا رب تعالیٰ مہربان نے کسی فرد کو یہ ڈگری عطا کر رکھی کہ وہ کسی بھی کلمہ گو سچے مسلمان کو اپنے تئیں یزید، نمروداور فرعون سے تشبیہ دے؟ باایں ہمہ حکومت کا فرض ہے کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں پر گولیاں برسانے اور صحافیوں پر تشدد کرنے والی پولیس کی کالی بھیڑوںاوراس سانحہ کے اصل ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر، ان واقعات کے پس منظر میں اصل سازش کو، اہل وطن کے سامنے بے نقاب کرئے تاکہ آئندہ پولیس کا کوئی کارندہ کسی خفیہ سازش کا دُم چھلا بن کر، شہریوں کوتشدد کا نشانہ بنا کر ملک کی اندرونی امن و سلامتی کی فضا کو داغ دار کرنے کی جسارت نہ کر سکے ۔ ملک کے اندر شہریوں کے جان و مال عزت و آبرو اور ان کے حقوق کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور نبی کریم کے اس فرمان ”کل مسلم اخواة “(ترجمہ) تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کہ مصداق آپس میں متحدہونے کی توفیق عطا فرمائے اور میاں محمد نواز شریف وزیراعظم اور حکام پاکستان کواہل پاکستان کے مسائل حل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔ پاکستان زندہ باد ۔۔۔افواج پاکستان پائندہ باد۔
٭٭٭٭