- الإعلانات -

افغانستان….الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

اگرچہ افغان حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف الزام تراشی کوئی نئی بات نہیں لیکن جب کوئی آپ کےخلاف مسلسل ہرزہ سرائی میں منہ پھاڑ کر مصروف ہو تو یقینا اسے اس کی زبان میں جواب دینا ضروری ہوجاتا ہے۔پاکستان نے افغانستان کو ہمیشہ ایک اہم قریبی اور جیوا سٹریٹجک پاٹنر قراردیا اور سمجھا بھی لیکن بدقسمتی کہ جواب میں افغان حکمرانوں نے پاکستان مخالف ممالک سے مراسم بڑھا کر بلیک میلنگ کی پالیسی اپنائے رکھی۔اس سے بڑھ کر یہ کہ افغان حکمرانوں نے ملی غیرت کا جنازہ نکال کر ایک ایسے ملک سے اپنے دو طرفہ تعلقات بڑھا لیے جسکا نہ جغرافیہ اس سے میل کھاتا ہے، نہ مذہبی ثقافتی اور لسانی ہم آہنگی ہے۔افغان حکمران اپنی کم فہمی اور دور اندیشی کے فقدان کے باعث اس نکتے کی اہمیت سے نابلد ہیں کہ انکے تمام زمینی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں۔ان کی روز مرہ کی معیشت کا انحصار انہی راستوں پر ہے مگر ذاتی مالی مفادات کی خاطر ملک کو بھارتی مکارانہ اور چانکیانہ پالیسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔افغانستان کسی بھی ملک سے سفارتی تعلقات رکھنے میں آزاد ہے نہ کوئی ملک اسے اس معاملے میں ڈکٹیشن دے سکتا ہے نہ پابند کرسکتا ہے، چاہے وہ بھارت ہو ایران ہو امریکہ یا خطے کا کوئی اور ملک،لیکن اسے یہ حق بھی نہیں دیا جاسکتا کہ وہ کسی کی خوشنودی کےلئے پاکستان کے خلاف منہ پھاڑ کر جو جی میں آئے الزام لگاتا رہے۔یہ نہایت ہی افسوسناک رویہ ہے جوافغان حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنا رکھا ہے۔ افغان حکومت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہمیشہ نہ کبھی کوئی حد رہی ہے نہ کوئی سرپیر لیکن ان دنوںافغان میڈیا کے ذریعے تواتر کے ساتھ یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں بد امنی کو ہوا دینے کےلئے داعش کو مضبوط کررہا ہے۔غنی حکومت کی طرف سے اس پروپیگنڈے کا مقصد سنٹرل ایشیائی ممالک خصوصاً ایران روس اور تاجکستان وغیرہ کو یہ باور کرانا ہے کہ داعش اس خطے کا ابھرتا ہوا خطرہ ہے جسے پاکستان سے تقویت مل رہی ہے۔افغان میڈیا کے ذریعے مسلسل یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ داعش کے دہشت گرد پاکستان کی اورکزئی ایجنسی سے آکر افغانستان میں دہشت گردی کررہے ہیں۔اس الزام تراشی سے قبل اگر غنی حکومت اپنے گریبان میں جھانک لیتی تو اس کے ہوش ٹھکانے آجاتے۔یہ بات تو دنیا جانتی ہے کہ داعش نے اس خطے میں سب سے پہلے اگر کہیں سر اٹھایا تو وہ ملک افغانستان ہی ہے۔اسکے بانی عبدالروف خادم مرحوم اور عبدالرحیم مسلم دوست افغانی ہیں۔ رہ گئی بات ٹی ٹی پی کی تو اسکی پشت پناہی بھی افغانستان سے ہورہی ہے اور اس کے کئی ممبران داعش کو جوائن کرچکے ہیں اسی طرح اسلامک موومنٹ آف ازبکستان اور اسلامک اسٹیٹ آف خراسان جیسی تنظیمیں بھی داعش سے جڑ رہی ہیں علاوہ ازیں کئی دیگر سنٹرل ایشیائی ممالک کی تنظیمیں جو افغا نستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں یہ سب ایک دوسرے کی اتحادی ہیں ۔ آپریشن ضرب عضب کے بعد وہ دہشت گرد جو افغان بارڈر کے قریبی علاقوں میں چھپے ہوئے تھے بھاگ کر افغانستان چلے گئے کیونکہ وہاں ان کیلئے چھپنے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی بلکہ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہاں ان دہشت گردوں کو نہ صرف پناہ گاہیں ملیں بلکہ حکومت کی سرپرستی بھی انہیں حاصل رہی۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ انہیں وہاں باقاعدہ اجازت نامے حاصل تھے۔ داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے بعد یہ دہشت گرد تنظیمیں جب داعش کو جوائن کرنے لگیں تو افغان حکومت میں بیٹھی بھارت نواز لابی کوپریشانی ہونے لگی کہ اب وہ کس تنظیم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے گی۔افغان حکومت کی نا اہلی دیکھئے کہ مٹھی بھر دہشت گرد تنظیمیں اس کے قابو میں نہیں آتیں۔ اگر ضرب عضب کے وقت پاکستان کی تجاویز پر عمل کرلیا جاتا تو ایسے تمام عناصر سرحدی علاقوں میں کچل دئیے جاتے لیکن ان کے آقاو ¿ں نے انہیں ایسا نہ کرنے دیا۔اشرف غنی اپنے اقتدار کے دوام کیلئے امریکہ ، نیٹو اور بھارت کے شکرگزاررہتے ہیںمگر یہ ممالک اپنے مفادات کیلئے افغانستان کی سرزمین اور اس کی انتظامیہ کو استعمال کر رہے ہیں۔ افغانستان پاکستان ہی نہیںروس اور چین کے خلاف ان ممالک کا اڈا بن چکا ہے جبکہ افغان قیادت کو پڑوسی ممالک سے الجھائے رکھنا ان قوتوں کے مفاد میں ہے۔دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان افغان سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کا خواہشمندہے جس سے دہشت گردوں کی سرحد کے آر پار آمدورفت مسدود ہو سکے گی لیکن افغان حکومت اس کی مخالفت کرتی ہے۔یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ افغان حکومت کسی کے ایما اورسوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت دہشت گردی کے ہر واقعہ کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتی رہتی ہے۔دراصل افغان حکام اپنی ناکامی اور نااہلی تسلیم کرنے کی بجائے اپنی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔کیا یہ محض اتفاق ہے کہ امریکہ ، افغانستان اور بھارت پاکستان میں دہشت گرد گروپوں کی موجودگی کی دہائی دیتے ہیں لیکن کشمیر میں مظالم پر انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ضرب عضب کے نتیجے میں پاکستان کوجو کامیابیاں مل رہی ہیں تینوں ممالک کھلے دل سے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میںایک دوسرے پر شکوک وشبہات رکھنا اس دشمن کا فائدہ دے رہا جس کی نہ شکل واضح ہے اور نہ ہی اس کے کسی حتمی ٹھکانے کا علم ہے۔افغانستان سمجھ لے کہ اگر وہ واقعتا سرحد کے دونوں طرف امن چاہتا ہے توپھر پاکستان پر جھوٹے الزامات لگانے سے گریز کرنا ہوگا۔وہ کیونکر بھول جاتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان میں امن کے قیام کےلئے ہماری مسلح افواج کی قربانی کسی بھی دیگر ملک سے زیادہ ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل سے لے کر سپاہیوں تک قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاکستان نے ایسے اخلاص کا ثبوت دیا ہے جس کی دوسری نظیر ملنا ناممکن ہے۔یہی نہیں پاکستان اپنے افغان بھائیوں کےلئے برسوںسے قربانیاںدیتا چلاآرہا ہے۔ کیااشرف غنی آگاہ نہیں ہیں کہ اس وقت بھی لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان کے مختلف شہروں میں آزادانہ اس انداز میں قیام پذیر ہیں کہ اس سے عملاً عام پاکستانی مسائل سے دوچار ہے۔ کابل کو اگر پاکستان سے شکوے شکایات ہیں توکیا اسلام آباد کو شکایات نہیں ۔ ملا فضل اللہ کو کس نے پنا دے رکھی ہے،ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کون رہا ہے۔بارڈر منیجمنٹ سے فرار کس کی خوش نودی کے لئے ہے۔کیا طرفین کے سوالوں کا جواب میڈیا پروپیگنڈے سے مل سکتا ہے،نہیں،اس کاجواب مل بیٹھنے سے ملے گا۔
٭٭٭٭