- الإعلانات -

صدر اور وزیراعظم کے یوم دفاع پرخصوصی پیغامات

6 ستمبر یوم دفاع پاکستان کے موقع پر صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف نے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم وستم اور بھارتی بربریت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کی اپیل کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نے کشمیر پر اپنا موقف واضح کیا کہ پاکستان کشمیر کی ہر سطح پر حمایت جاری رکھے گا اور کہا کہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جاسکتا اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہوگا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ برہان وانی کی شہادت سے آزادی کشمیر کی تحریک کو نئی روح ملی۔بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے کہ مزید جبر سے کشمیریوں کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا،پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔اقتصادی ترقی بھی ملکی دفاع اور استحکام کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے۔وزیر اعظم نے یوم دفاع کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پوری قوم افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے،ہمارا دفاع اور مسلح افواج مستقبل کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں، جدید ہتھیاروں میں ہم خود انحصاری کی منزل بھی حاصل کر چکے ہیں،حتف میزائل سیریز،الخالد و الضرار ٹینک مضبوط دفاع کی نا قابل فراموش علامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ اندرونی و بیرونی سازشیں اور دہشتگردی کے چیلنجز ہم سے اتحاد وایمان کا تقاضا کرتے ہیں،فخر ہے کہ ہم نے اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی کامظاہرہ نہیں کیا ،6 ستمبر کو ہماری بہادرمسلح افواج نے قوم کےساتھ دشمن کے عزائم خاک میں ملائے،اپنی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں ،جرات و بہادری اور جدت کے سفر پر فخر ہے، ہماری افواج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں نے ہماری آزادی کو دوام بخشا، 6ستمبرایک روشن اور ولو لہ انگیز دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ہماری ایٹمی صلاحیت مضبوط دفاع کی علامت ہے،ہمارے جے ایف تھنڈر طیارے ،آگسٹا آبدوزیںہمارا فخر ہیں،ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتے،خطے میں توازن کو برقرار رکھنے کیلئے کوشاں رہیں گے،ہم نے جنوبی ایشیاءمیں طاقت کا توازن برقرار رکھ کر امن کو دوام بخشا۔ آپریشن ضرب عضب کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ، آج وطن عزیز میں امن و امان کی صورت حال حوصلہ افزا ہے،امن و امان بر قرار رکھنے کو سیاسی و ذاتی مفادات سے بالاترسوچ کی ضرورت ہے،اقتصادی ترقی بھی ملکی دفاع اور استحکام کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے،سی پیک کے تحت توانائی،انفراسٹرکچر و دیگر منصوبے انتہائی اہم ہیں۔یوم دفاع پر صدر پاکستان ممنون حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ¾ وطن عزیز کے خلاف سازشوں ¾ ریشہ دوانیوں سے موثر طورپر نمٹنے کے لئے ملی یکجہتی کو فروغ دینا اور قومی سوچ اپنا ناہوگی۔یوم دفاع کے موقع پر وزیراعظم نے انتہائی مدبرانہ طریقے سے کشمیر پر اپنا موقف بھارت پر واضح کردیا ہے اورعالمی برادری کی بھی اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو چکی ہے بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے اور ان کی آنکھیں نکالی جارہی ہیں جو ظلم و بربیت کی انتہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نوازشریف نے حتف میزائل سیریز،الخالد و الضرار ٹینک کا ذکر کرتے ہوئے بھارت پریہ واضح کردیا کہ ہمارے ملک کی افواج کے پاس ایسا جدید اسلحہ مضبوط دفاع کی نا قابل فراموش علامات ہیں۔ اس طرح وزیراعظم نے دشمن ملک بھارت کو یہ واضح پیغام دیا کہ 1965ءکی جنگ میں ہماری بہادر مسلح افواج نے قوم کے ساتھ مل کر دشمن کے عزائم خاک میں ملائے اور آج بھی ہماری فوج اور عوام وہی عزم و ہمت رکھتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ اور سرحدوں کی طرف بڑھنے والے ہر قدم کو بھر پور طریقے سے جواب دے سکتے ہیں اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں اس کے علاوہ ہماری ایٹمی طاقت مضبوط دفاع کی علامت بھی ہے۔ وزیراعظم یوم دفاع کے پیغام میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پرمسلح افواج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملکی سلامتی کے لئے دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ افواج کی ہی بدولت آج ہمارے ملک میں امن و سلامتی کی صورتحال انتہائی بہتر ہے۔
ایک دوسرے پرکیچڑاچھالنے سے گریز کیاجائے
 مملکت خداداد اس وقت سی پیک منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے اقتصادی راہ داری پر رواں دواں ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہمارے ملک کی معیشت کا شمار دنیاکے ان ممالک میں ہونے لگے گا جو معاشی لحاظ سے دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایسے نازک موقع پر ملک کے حالات انتہائی حساس اہمیت کے حامل ہیں ملکی صورتحال پر سب کو محتاط رہنا چاہئے۔ ملک میں بد امنی اور سیاسی انتشار انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔اس لئے تمام سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیں اور کسی بھی ایسے فعل سے اجتناب برتیں جس سے ملک میں سیاسی افراتفری پھیلے ¾ ایسے نازک موڑ پر سیاستدانوں کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن ہوتے ہوئے دیکھ کر بیرونی طاقتیں اور ملک دشمن عناصر پہلے سے اپنے پنچے پھیلائے اپنی ناپاک عزائم لئے ملکی سرحدوں پر دھاڑرہے ہیں۔ایسے موقع پر باہمی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انہی خدشات کا اظہار روز ٹی وی کے پروگرام سچی بات میں چیف ایگزیکٹو روز ٹی وی سردار خان نیازی نے بھی کیا ہے انہوں نے اپنے پروگرام میں کہا کہ دھرنوں سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے دھرنوں سے حکومتیں تبدیل نہیں ہوتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کی وجہ سے حالات زیادہ حساس ہیں ملکی صورتحال پر سب کو محتاط رہنا چاہئے۔عمران خان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 62`63 پر عملدرآمد ہوا تو اکثر سیاستدان نا اہل ہونگے۔ لٰہذا پاکستانی سیاستدانوں کو چاہئے کہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے سے گریز کریں اور معاملات کو بگاڑنے کی بجائے اس کا کوئی سیاسی اور پر امن حل نکالیں۔
 ایس ای سی پی کی 259 آف شور کمپنیوں کو کلین چٹ
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی )نے پاناما لیکس میں سامنے لائی جانے والی پاکستانی شخصیات کی 259 آف شور کمپنیوں کو ابتدائی تحقیقات میں کلین چٹ دے دی۔ایف بی آر انکم ٹیکس قانون کے مطابق پانچ سال پہلے بنائے گئے بیرون ملک اثاثہ جات اور آف شور کمپنیوں کے معاملات کی چھان بین کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ جس کی وجہ سے پاکستانی شخصیات کی ملکیتی 173 آف شور کمپنیوں کو ایس ای سی پی اور ایف بی آر کی کسی بھی کارروائی سے کلین چٹ مل گئی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے بچوں کے نام 1993ءسے لے کر 2013ءکے دوران رجسٹرڈ ہونے والی آف شور کمپنیوں کو ایس ای سی پی اور ایف بی آر تحقیقات سے کلین چٹ مل گئی تاہم پاکستانی شخصیات کی وہ آف شور کمپنیاں جو سال 2014-15 کے دوران قائم ہوئیں انہیں ایف بی آر کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ادھر وزیراعظم کے خلاف پانام لیکس کے حوالے سے ریفرنس مستردکیا جا چکا ہے جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج بھی کیا۔یہ معاملہ الجھتا ہوا محسوس ہو رہاہے دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے