- الإعلانات -

بالکنی میں کھڑے شخص کا غیرمنصفانہ قتل

15 مئی 2015 کو ایک ہالی وڈ مووی نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی ، نام اس فلم کا” گڈ کل "تھا ، یعنی اچھا قتل ۔ڈائریکٹر اینڈریو نیکول کی یہ فلم ایک اچھے اور اچھوتے موضوع کا احاطہ کرتی تھی ۔فلم میں مرکزی کردار اداکار ایتھن گرین ہاک نے ادا کیا تھا۔ایتھن گرین ہاک ایک امریکن ایئر فورس پائلٹ بنا تھا ،جو لاس ویگاس میں اپنے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کمرے میں بیٹھ کر ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے افغانستان میں مختلف اہداف کو نشانہ بناکر بم گراتا تھا ۔ان ڈرون حملوں میں بے قصور انسانی ہلاکتوں کا تناسب ہیرو کو پریشان کر دیتا ہے ۔اس فلم کا بنیادی نکتہ ایتھن گرین ہاک یعنی امریکن ائر فورس پائلٹ کی طرف سے ایسے ڈرون حملوں کے ذریعے کی گئی بے گناہ انسانی ہلاکتوں کے اخلاقی جواز پر سوال اٹھانا تھا۔ ظاہر ہے یہ وہ سوالات تھے جن کے جواب کوئی نہیں دیتا۔اس فلم کو میں نے ضرورت سے زیادہ توجہ اور دلچسپی کے ساتھ اس لیے بھی دیکھا تھا کہ پورٹ لوئیس سے دبئی آتے ہوے ایمریٹس کی چھ گھنٹے کی فلائیٹ میں کرنے کے لیے کوئی اور کام نہیں تھا ۔ان دنوں یہ فلم نئی نئی نمائش کے لیے پیش ہوئی تھی۔ امریکہ کی طرف سے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے افغانستان اور کبھی کبھی پاکستان میں اپنے اہدف کو نشانہ بنانے پر پاکستانیوں کے ذہن میں تشویش اور ان گنت”بے جواب "سوالات پائے جاتے تھے ۔پاکستان میں چونکہ سوال اٹھانے کی قطعاً اجازت نہیں ہے ،لہٰذا اٹھانے کے شوقین چھوٹی موٹی اشیا اٹھا کر اپنی ذہنی تسکین کا سامان کر لیتے ہیں۔لاس ویگاس کے ٹیکنالوجی سنٹر میں بیٹھ کرسٹیلائٹ کے ذریعے اپنے ہدف تلاش،شناخت اور فائر کرنے کا عمل پاکستان اور افغانستان کی فضاو¿ ں میں پہلے سے موجود ڈرون طیاروں کے ذریعے مکمل ہوتا تھا۔گویا اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جن ڈرونز کو بٹن دبا کر میزائیل داغنے کا حکم دیا جاتا تھا ،وہ ڈرون پہلے ہی سے خطے میں موجود اور ہدف کے آس پاس منڈلا رہے ہوتے تھے۔اس طرح کی فضائی رسائی امریکہ کو اس خطے میں ہمیشہ حاصل رہی ہے ۔یہ رسم پشاور کے قریب بڈبیر نامی اڈے سے ایوب خان کے دور حکومت میں شروع ہوئی تھی ۔اس میں ستم ظریف کا اپنا ایک ڈاکٹرائن بھی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ امریکہ کسی ملک کو درخواست لکھ کر اپنی مطلوبہ فضائی حدود طلب نہیں کرتا، وہ ایسے معاملات نگاہوں نگاہوں میں طے کر لیتا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی حکومت اس طرح کی رسائی دینے سے انکار اور لاعلمی کا اظہار و اعلان کرتی ہے ،تو وہ سچ بول رہی ہوتی ہے۔دراصل وہ کہتا ہے کہ امریکہ فضائی حدود کو اپنی ضرورت اور سہولت کو سامنے رکھ کر استعمال کرلیتا ہے۔ کبھی کبھی فضائی حدود برائے میزائل حملہ استعمال کرنے کے بعد ،فون کر کے متعلقہ حکومت کو بتا بھی دیا کرتا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ بیسویں صدی کی آخری دو دھائیوں اور اکیسویں صدی کی پہلی دو دھائیوں میں عالمگیر جنگوں کے سب سے بڑے ماہر اور تاجر امریکہ نے بالآخر یہ سبق سیکھ لیا ہے کہ اب جنگیں کسی محاذ یا میدان جنگ میں نہیں ہوا کریں گی، اب جنگوں کا بنیادی محل وقوع انسانی دماغ اور بیرونی اظہار منتخب مقاما ت پر ہوا کرے گا۔یہ سبق سیکھ لینے کے بعد امریکی سازندوں نے افغانستان سے اپنے ڈھول ، باجے ، نقارے ،شہنائی ، ہارمونیم، طبلے ، چمٹے الغوزے، سارنگی ، مرلیاں، بین، بانسری بھونپو ، بھینجو ،تومبا اور گھنگھرو وغیرہ سب سمیٹ کر واپسی کی راہ لی اور جاتے جاتے افغانستان کی گھڑی میں سے سیل نکال کر وقت کو بیس سال پیچھے کر کے منجمد کردیا۔ اور اس طرح منجمد کیا کہ افغانستان کا مکان اور زمان دونوں رک سے گئے ہیں ۔ادھر افغانستان کے ہمسائے میں پیارا پاکستان ایک طویل مدت سے پرائی باراتوں کے آگے ناچ کر اپنی روٹی روزی چلاتا آیا ہے ۔پاکستان اور امریکہ کے مابین ایسے گہرے اور الجھے ہوئے پیچیدہ سے تعلقات ہیں ، جن کو سرعام تو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا ۔31 جولائی 2022 کے روز صبح سوا چھ بجے کے قریب افغانستان کے دارالحکومت کابل کے قریبا وسط میں واقع ایک مصروف اور محفوظ رہائشی علاقے شیر پور میں اپنے گھر کی بالائی منزل کی بالکونی میں کھڑے ایک شخص کو امریکہ کے ایک جدید ترین اور انوکھے میزائل نے ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔اس میزائل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں بارود نہیں ہوتا، ہدف کے پاس پہنچ کر اس کے پر نکل آتے ہیں،جو شائد دھماکہ کیے بغیر اپنے ہدف کو اپنے پیدا کردہ ویکیوم سے تباہ کر دیتا ہے۔ اس ڈرون کے ذریعے میزائل کا نشانہ القاعدہ کے ایمن الظواہری تھے ۔ اور ایمن الظواہری خفیہ طور پر جس گھر میں مقیم تھے وہ امریکی انٹیلی جنس اہلکار کے بیان کے مطابق طالبان کے سینیئر رہنما سراج الدین حقانی کے ایک مشیر کی ملکیت تھا۔ گویا وہاں کی حکمران اشرافیہ ایمن الظواہری کے کابل میں پناہ گزین ہونے سے واقف تھی۔ ایمن الظواہری اگر امریکہ کے نزدیک قابل مواخذہ تھا ،تو اسکے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہئے تھا ۔لیکن ستم ظریف کا خیال ہے کہ اگر اس طرح کے لوگوں پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تو ایسے کرداروں کی تعمیر و تشکیل میں امریکہ کی محنت ، مداخلت اور پھر ان کے اعمال و افعال سے اپنے بین الاقوامی مقاصد کے حصول کو ممکن بنانے کی کہانیاں بھی سامنے آ جائیں گی، جو بہر حال امریکہ کے لیے سخت مضر صحت معاملہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنے زیر استعمال کرداروں کو زائد از ضرورت ہو جانے کے بعد،مار دیتا ہے ۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے طریقہ واردات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پرواہ نہیں کہ اس پر کتنا وقت لگ جائے ، اگر کوئی ہمارے لوگوں کےلئے خطرہ ہے تو وہ جہاں بھی چھپا بیٹھا ہو گا، امریکہ سراغ لگا لے گا "صدر جو بائیڈن نے بتایا کہ جب اس بات کی مکمل تصدیق ہو گئی کہ ایمن الظواہری اسی جگہ موجود ہے تب میں نے اس آپریشن کی اجازت دی۔یاد رہے کہ ایمن الظواہری امریکہ کی جانب سے دنیا کے مطلوب ترین افراد کی فہرست میں اسامہ بن لادن کے بعد دوسرے نمبر پر تھا اور امریکہ نے اس اہم شخصیت کے سر کی قیمت ڈھائی کروڑ امریکی ڈالر لگا رکھی تھی۔امریکیوں کا اصرار ہے کہ اس ڈرون حملے میں ایمن الظواہری کے علاہ کوئی سویلین ہلاکتیں نہیں ہوئیں اور نہ ہی ایمن الظواہری کے اہل خانہ میں سے کوئی فرد ہلاک ہوا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ڈرون حملہ اس وقت کیا گیا جب ایمن الظواہری کابل میں اپنے گھر کی بالکونی میں کھڑا تھا۔ امریکیوں کے مطابق ایمن الظواہری کے اہلِ خانہ اسی گھر میں موجود تھے تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے۔ کابل کی حکمران اشرافیہ کا اس پر کیا ردعمل ہے ،یہ صرف وہی جانتے ہیں۔پر ستم ظریف مصر ہے کہ امریکہ نے اتنی بڑی کارروائی کسی نہ کسی کو کسی نہ کسی سطح پر اور کسی نہ کسی طریقے سے اعتماد لے کر ہی کی ہو گی۔ وہاں کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ہمیں تو اس واقعے کی نوعیت کا علم نہیں تھا، بعد میں ہماری سکیورٹی اور خفیہ ایجنسیز کی تحقیقات سے علم ہوا کہ یہ ڈرون حملہ تھا۔ سیانے کہتے ہیں کہ موخر ردعمل صبر و رضا کا اعلان ہوا کرتا ہے لیکن ستم ظریف ایسے سیانوں کے خلاف ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے یہاں عقل و شعور کی ترقی میں ان سیانوںکے اقوال نے بہت بڑی رکاوٹ پیدا کی ہے۔ وہ کہتا کہ سال 2015 میں بننے والی ہالی ووڈ فلم گڈ کل میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب آج تک باقی ہے ۔وہ کہتا ہے کہ ایک ملک کا جو بائیڈن نامی سربراہ میڈیا کے سامنے بڑے فخر سے ایک دور دراز کے ملک میں ایک مکان کی بالکنی میں کھڑے بوڑھے شخص کی ہلاکت کا پر مسرت اعتراف کر رہا تھا، وہ اپنے ملک کے اس فعل کی اخلاقی حیثیت کے بارے میں کوئی ندامت محسوس نہیں کرتا ۔ایمن الظواہری کا قتل جن مبینہ جرائم کے عوض کیا گیا ہے ،ان جرائم کے تخلیق کار کب قدرت کی گرفت میں آئیں گے۔