- الإعلانات -

محرم الحرام میں قیام امن کےلئے قابل قدر اقدامات

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کی زیر صدارت صوبائی محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیر اہتمام اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب کے خصوصی اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے ممتاز ومعتبر علماءکرام و مشائخ عظام نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے قیام اور اس کے استحکام میں علمائے کرام اور دینی شخصیات کا کردار ہماری تاریخ کا ایک روشن بات ہے۔ وطن عزیز کے معروضی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ علماءکرام اور مذہبی و دینی شخصیات قومی یکجہتی، ملکی استحکام، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مجموعی امن وامان کیلئے ہمیشہ کی طرح اپنا اساسی اور کلیدی کردار ادا کرتے رہیں۔ محرم الحرام کے موقع پر پنجاب میں امن و امان کے قیام کےلئے اتحاد بین المسلمین کا اجلاس نہایت خوش آئند اقدام ہے۔ جس کےلئے وزیر اعلیٰ پنجاب مبارکبادکے مستحق ہیں۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ علماءکرام حکومت پنجاب کی وساطت سے پوری قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ محراب ومنبر دفاع وطن اور قومی وملی سلامتی کے تقاضوں سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ہم ضرورت پڑنے پر پوری قوم کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحدہ متفق کھڑے ہوں گے۔ علماءاس امر پر بھی متفق ہیں کہ کسی مسلمان کی دل آزاری نہ کی جائے، جس کے لئے ہم سب ”اپنے مسلک کو چھوڑو نہ اور دوسروں کے مسلک کو چھیڑو نہ“ کی پالیسی پر سختی سے کاربند رہیں گے۔ ہم ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو خلاف اسلام سمجھتے اور اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی نے اس موقع پر بالکل درست بات کی کہ علماءکرام اور مشائخ عظام نے ہمیشہ ہر موقع پر قوم کی رہنمائی کی ہے۔ پاکستان میں بھائی چارے، یکجہتی اور مذہبی رواداری کے فروغ میں علماءکرام کا کردار لائق تحسین ہے۔ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں علماءکرام کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ محرم الحرام کے دوران مذہبی رواداری اور قیام امن کیلئے ڈسٹرکٹ لیول پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور ان کمیٹیوں میں انتظامی و پولیس افسران اور علماءکرام کو شامل کیا گیا ہے۔اس موقع پر یہ حکم بھی دیا گیا کہ مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی اشاعت اور فروخت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچرشائع اور فروخت کرنےوالوں کےخلاف بلاا متیاز ایکشن لیا جائےگا۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھی بلاتفریق کارروائی ہوگی۔ وطن عزیز کے دشمن ایسے ہی مواقع پر قوم میں تفریق پیدا کرنے کےلئے مذہبی منافرت پھیلاتے ہیں۔ جس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مشائخ اور علماءکا کردار دلوں کو توڑنا نہیں جوڑنا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے نکاح کے لیے ختم نبوت پر ایمان کے حلف والے نئے فارم استعمال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نکاح کے وقت دلہا اور دلہن کے لیے ختم نبوت کے حلف نامے پر دستخط کرنا لازمی ہوگا اور نکاح رجسٹراروں کو ختم نبوت کے حلف نامے والے نئے فارم دیے جائیں۔ نکاح نامہ میں ختم نبوت پر ایمان کاحلف شامل کرنے پر ہم قوم کو مبارک باد اور خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں کیونکہ یہ بہت اہم مسئلہ تھا جس کی طرف چودھری پرویز الہیٰ نے توجہ فرمائی اور نکاح میں ختم نبوت کا حلف نامہ شامل کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی انتباہ کیا ہے کہ نکاح رجسٹراروں کو نئے فارم دیئے جائیں ، نئے فارم نہ دینے والوں کےخلاف سخت کارروائی کی جائےگی اور نئے فارم استعمال نہ کرنے والے نکاح رجسٹرار کو ایک ماہ قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ اکتوبر2021 میں پنجاب اسمبلی نے نکاح نامے میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کی متفقہ قرارداد منظورکی ۔ نکاح نامہ میں اس حلف نامہ کو شامل کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آئے دن قادیانی نوجوان اپنی قادیانیت کو دجل اور فریب کی چادر میں چھپاکر مسلمان خواتین سے نکاح کرلیتے تھے اور کچھ عرصہ کے بعد برملا کہتے کہ ہم تو قادیانی ہیں۔ اس ضمن میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ”بہت سے ایسے کیس سامنے آرہے ہیں کہ شادی کے بعد دولہا قادیانی نکلا۔ اس کے سدِباب کے لیے نکاح نامے میں بھی ختمِ نبوت کا حلف نامہ شامل کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ نکاح ہونے سے پہلے ہی تمام شکوک وشبہات دور کرلیے جائیں ۔ “ اب ظاہر ہے کہ ایک کافر کا نکاح مسلم خاتون سے یا مسلم نوجوان کا قادیانی کافرہ عورت سے کیسے ہوسکتا ہے؟ جب کہ قرآن کریم واضح الفاظ میں کہتا ہے: ”نہ تو یہ عورتیں ان (کفار) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔“یہ ایک نہایت ہی اہم معاملہ ہے۔ ہمیں اپنی صفوں سے احمدیوں یا ختم نبوت کے انکاری ہر انسان کا مذہبی، معاشرتی، قانونی ، حیاتیاتی غرضیکہ ہر قسم کا بائیکاٹ کر کے ان کی زندگی حرام کر دینی چاہئیے ۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر سطح پر کیا جانا ضروری ہے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور دفاع سے جہاں ایمانی جذبات بڑھتے ہیں، وہاں انسان کا دل اور روح بھی محبت رسول سے سرشار ہو جاتی ہے ہر مسلمان کو آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے ایمانی جذبات کا اظہار کرتے رہنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے یوم شہدائے پولیس کے موقع پر شہداءکی فیملیز سے یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے پولیس شہداءکی فیملیز اور بچوں کو لنچ پر مدعو کیا۔انہوں نے شہداءکی فیملیز کیلئے پنشن میں چار گنا اضافے کا اعلان کرتے ہوئے شہداءکی فیملیز کے بچوں کو ایچی سن کالج اور گرائمر سکول جیسے اچھے سکولوں میں مفت تعلیم دلانے کا بھی وعدہ کیا۔ بچوں کیلئے مفت تعلیم، مفت یونیفارم یقینی بنانے کیلئے قانون ساز ی کی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ٹریفک پولیس کا کام صرف چالان کرنا نہیں بلکہ ٹریفک کا نظم و ضبط بہتر کرنا ہے۔ پنجاب بھر میں 150 پٹرولنگ پولیس پوسٹوں کو بحال کیا جارہا ہے اور پٹرولنگ پولیس کیلئے نئی ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے گی۔ پولیس کے ہسپتالوں کو بہتر بنائیں گے اور ادویات بھی فری دینگے۔ پولیس میں اصلاحات کررہے ہیں، عوام جلد نتائج دیکھیں گے۔ ایف آئی آر کے نظام میں بہتری کیلئے قانون سازی کررہے ہیں۔ جھوٹی ایف آئی آر پر سزا ہوگی۔ ڈویژن پر قائم مانیٹرنگ سیکشن میں ایف آئی آر کی کاپی سے پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ خواتین زیادتی کیسز میں جلد ٹرائل یقینی بنایا جائے گا۔ عوام کو انصاف کیلئے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہوگی، تھانے میں انصاف یقینی بنائیں گے۔ پنچایت سسٹم دوبارہ فعال کیا جارہا ہے۔ پنچایت نظام سے کئی ایشونچلی سطح پر حل ہوں گے۔