- الإعلانات -

منافق اور منافقت

اگر ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ منافق کون ہوتا ہے تو اسکا سادہ سا جواب یہ بنتا ہے کہ جو نیکیوں میں بھی نظر آئے اور بد لوگوں میں بھی نمایاں ہوجسکے قول اور فعل میں واضح تضاد ہو، جسکے دل میں نیکی وارد نہیں ہوتی ۔ وہ سرکار دو عالم کی شان میں قصیدے بھی لکھے گا لیکن دل سے انہیں کبھی قبول نہیں کریگا۔ تاریخ بتاتی ہے منافقوں نے مسجد بنائی اور فخر موجودات کو دعوت دی تو جب آپ جانے لگے اور مالک کل نے فرمایا کہ یہ مسجد تو مسجد نہیں اسے گرا دینا چاہیے کیونکہ اس کو تعمیر کرنے والے دراصل منافق ہیں۔ منافقوں کی تعریف اللہ نے یہ بتائی کہ اگر وہ کلمہ پڑھیں تو بھی جھوٹ ہے۔ اللہ نے فرمایا اے اللہ کے رسول جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں گویا کہ منافق اگر سچی بات بھی کہے تب بھی وہ جھوٹ ہے وہ اگر کلمہ بھی بڑھے اگرچہ یہ سچا کلمہ ہے لیکن منافق کے پڑھنے سے سچ بھی سچ تسلیم نہیں ہوتا ۔ اس فرق کو کسی ظاہری فارمولے کے ذریعے معلوم نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حقیقت کو حقیقت ہی کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔ ذات کے ذریعے معلوم ہوسکتا ہے ۔ ذات سے تعلق میں محویت ہونا لازمی ہے صرف تعلق نتیجہ خیز نہیں ہوتا والہانہ پن اور استقامت ضروری ہے جسکا کلمہ پڑھتے ہیں اس کے تقرب میں اکثر نہیں جاتے ۔ اللہ تو بغیر توجہ کی نماز بھی منہ پر مار دیتا ہے ۔ وہ تو بے نیاز ہے بدقسمتی تو یہ ہے کہ معاشرہ منافقت کا شکار ہے زندگی کا کوئی شعبہ بھی اس کوڑھ کے مرض سے بچا ہوا نہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اندھیروں کے مسافر ہیں روشنی کی کرن کے متلاشی ہیں لیکن اپنی بد اعمالیوں کیوجہ سے سچی روشنی سے محروم ہیں ۔ محبت رواداری ایثار اپنائیت دکھ درد میں شریک ہونے کے تمام جذبے ماند پڑ چکے ہیں صرف ہو میں جاہ ، جلال اور پیسہ عروج پر ہے شاید ناجائز ذرائع سے حصول دولت کو کامیابی کی ضمانت سمجھ لیا گیا ہے۔ محنت اور دولت کے درمیان توازن بگڑ چکا ہے۔ محنت کی بجائے دولت فریب کاری کے ذریعے حاصل کی جارہی ہے ۔ جس پر قابض رہنے کیلئے جھوٹ بے ایمانی کا بزنس ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا کسی زمانے میں سیاست کو خدمت کا جاتا تھا اور اس پر عمل بھی ہورہا تھا لیکن اب بے کردار بے ضمیر دولت ، اقتدار کو معبود سمجھنے والوں کا طوطی بولتا ہے۔ ضمیر کو جھنجھوڑنے والوں کی آواز نقار خانوں میں دب کے رہ گئی ہے۔ معاشرہ کیا بین الاقوامی سطح پر بھی ممالک منافقت اور بے ضمیر بن چکے ہیں اسی صدی کا واقع ہمارے سامنے ہے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے اور تمام دنیا سے تسلیم شدہ حق مانگنے کی کوشش میں قابض بھارتی فوج کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والے مظلوم کشمیریوں کی حالت دنیا کے بے حس ضمیر کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہے اور لاشیں گر رہی ہیں ۔ پیلٹ گن سے شدید زخمی کشمیریوں کے چہرے اور آنکھیں دل دہلا دینے کیلئے کافی ہیں لیکن ظلم کی نت نئی داستان رقم کرنے والے درندہ نما بھارت کو حالات نظر نہیں آتے ۔ دو ماہ کے قریب ہونے کو آئے کرفیو کا نفاذ مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے لیکن گولیوں کی بوچھاڑ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو بجھا نہیں سکی بھارتی سرکار کی وحشیانہ پالیسیوں کے ذریعے جذبہ آزادی ختم نہیں ہورہا رہیں یہ ظلم ، بربریت ایک نئے عزم سے جدوجہد جاری رکھنے کا عندیہ عطا کررہی ہے۔ زخمی کشمیریوں کو بھارتی حکومت مناسب طبی امداد بھی فراہم نہیں کررہی ۔ پاکستان نے بروقت بیان دیا کہ ہم عالمی سطح پر بھارتی مظالم بند کرانے کیلئے کوششیں کریں گے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ وہاں ہسپتالوں کی ایمبولینسز پر بھی گولیاں برسائی جارہی ہیں ۔ اقوام عالم کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کی اس خیر سگالی کی پیشکش کو کہ زخمی کشمیریوں کا علاج دنیا کی کسی بھی بہترین جگہ پر ہوسکے اسمیں بھارتی رکاوٹوں کو ختم کرانا چاہیے۔ پاکستان اخلاقی سطح پر ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کو ہر وقت تیار ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ رویے نے سرد خانے میں ڈال رکھا ہے۔ کشمیری آج تک اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کو ترس رہے ہیں مقبوضہ کشمیر ایک حل طلب حقیقت ہے جب تک وہاں کے رہنے والوں کو اپنی مرضی کے ذریعے الحاق کا حق نہیں دیا جاتا کشمیری کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھ سکتے ۔ دہشت گردی اور جائز حق کیلئے عوامی جدوجہد میں بہت فرق ہے انہیں یکساں قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ بھارتی ناجائز تسلط کو بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ آزادی کی شمع روشن رکھنے والوں کو دہشت گرد کہنا منافقت ہے۔ نہتے کشمیری غاصب بھارتی فوج کی گولیاں اپنے سینوں پر سجارہے ہیں ، بدن چھلنی ہورہے ہیں لیکن جذبے مزید طاقت ور ہوتے جارہے ہیں ، سلام ہے ان ماﺅں بہنوں بیٹیوں پر جو اپنے پیاروں کے لاشے اٹھارہی ہیں ۔ امریکہ اور دیگر جمہوریت کے علمبردروں کو بھارتی مظالم نظر کیوں نہیں آتے۔ یہ دوہرے معیار ان ترقی یافتہ ممالک کے ہیں جو دنیا کے چوہدری کہلاتے ہیں انکی آنکھیں ترقی پذیر ممالک کے مسائل حل کرنے کیلئے کھلتی ہی نہیں انکی آنکھیں اس وقت کھلتی ہیں جب ان کے اپنے مفادات ہوں۔ ایسی منافق اقوام متحدہ کا کیا فائدہ جو اپنی قراردادوں پر عمل نہیں کرواسکتی ۔ امریکہ یا اسکے حواریوں نے اگر کسی غریب ملک کو زہر دام لانا ہوتو یو این پیس مشن کا نام لیکر دنیا سے فوج اکٹھی کرکے بھجوا دی جاتی ہے۔ ہندوستان کے ظلم، بربریت پر مبنی حکومت اور اسکے ظلم دنیا کو جگانے کا سبب کیوں نہیں بن رہے۔ کشمیری کب تک یونہی بے بسی سے اپنے پیاروں کا خون بہتا ہوا دیکھتے رہیں گے کب تک جوانوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھاتے رہیں گے۔ یو این او کی منافقت پر مبنی پالیسی کب ختم ہوگی چھ دہائیوں سے تقاریر کا سلسلہ جاری ہے اور تمام ممبر ممالک پاکستان اور ہندوستان کے موقف کو سن رہے ہیں اب وقت ہے کہ دنیا اپنے دوہرے معیار کو ختم کرے اور مظلوم کشمیریوں کو حق خودارادیت استعمال کرنے کاموقع ملے تاکہ وہ یہ فیصلہ کرسکیں کہ انکا مستقبل کس ریاست کے ساتھ ہوگا ۔ تقسیم ہند کا ایجنڈا ابھی مکمل نہیں ہوا جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک کشمیری اپنے لہو سے رنگے پرچم بلند کرتے رہیں گے ۔ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ کشمیریوں کو انکا جائز حق دلوانے کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالے تاکہ کشمیر کا پائیدار حل حاصل ہوسکے۔