- الإعلانات -

6ستمبر یوم احتساب اور سپہ سالار کا حوصلہ افزاءخطاب

6ستمبر کا دن ہر سال آتا ہے اور آکر گزر جاتا ہے ہم لوگ اس دن اپنے ان شہداءکی یادوں کا میلہ سجاتے ہیں کہ جنہوں نے 1965ءکی جنگ کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ اس پاک سرزمین کیلئے پیش کیا اور اپنا آج ہمارے آنے والے کل کیلئے قربان کردیا۔ شہادتوں کی یہ داستان بہت پرانی ہے ۔ 1947ءجب پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو اس وقت ہزاروں مسلمانوں نے اپنے نئے وطن پر اپنی جانوں کو قربان کیا اور اپنا لہو اس ارض مقدس کی مٹی میں ملا دیا، ہزاروں عصمتوں کی قربانی دی گئی پھر48ء 65ء 71ءاور کارگل کے موقع پر ہمارے خاکی وردی پہننے والے ہزاروں جوانوں نے شہادت کو سینے سے لگایا اور اپنے فرض کو ادا کرکے اپنے رب اور اپنی قوم کے آگے سرخرو ہوگئے ۔ شہادتوں کی داستان لکھنا شروع کی جائے تو یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جاتا ہے کیونکہ اسلام دنیا کا شاید واحد مذہب ہے کہ جس میں دشمن کے مقابلے میں جہاد کو فرض قرا ردیا گیا ہے اور جہاد پے جانے والے مجاہد کہلاتے ہیں ، زندہ لوگ کہلانے والے غازی کہلاتے ہیں اور دشمن کے مقابلے میں پیٹھ نہ پھیرنے والے اور موت کو گلے لگانے والے رتبہ شہادت پر سرفراز ہوتے ہیں ۔ قرآن حکیم میں ان کے متعلق کچھ یوں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں انہیں اللہ کے ہاں سے رزق مہیا کیا جاتا ہے مگر تم اس بات کا ادراک نہیں رکھتے ۔ جب اللہ پاک نے یہ بات فرما دی تو اس کے بعد کچھ کہنا فضول ہے۔6ستمبر کا دن ایک عام پاکستانی کیلئے ایک عزت اور آبرو کا دن ہے ، جوش و ولولے کا دن ہے ۔1965ءمیں مشرقی سرحدوں پر ہمارے ایک ہمسائے جس نے آج تک پاکستان کے قیام کو دلی طورپر قبول نہیں کیا ، رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہلہ بول دیا اس کا خیال تھا کہ وہ پلک جھپکتے اس نئی مملکت کو اپنے زیر کرلے گا مگر جب معرکہ حق و باطل کا ہو تو مومن فولاد کی صورت ہوا کرتا ہے ۔ 65ءکی لڑائی نے بھارتی سورماﺅں کو لوہے کے چنے چبوا دئیے اور اس معرکہ نے غزوہ بدر کی یاد تازہ کردی کہ جس میں فرشتے مسلمانوں کی نصرت اور کامیابی کیلئے اترے تھے ، بزرگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے سبز پوش لوگوں کو دیکھا جو پاکستانی افواج کی طرف آنے والے بھارتی گرنیڈوں اور بموں کو ہاتھوں میں پکر کر انہی کی طرف اچھال دیتے تھے ۔ کل کا دن میری زندگی میں عام دن نہ تھا بلکہ ایک حوصلہ افزاءاور باعث تقویت دن تھا کہ اس روز میری بہادر سپاہ کے سپہ سالار نے دو ٹوک الفاظ میں دشمن پر واضح کردیا کہ پاکستان کوئی عام مملکت نہیں بلکہ دنیا کی ایک جوہری طاقت ہے اور ان کی تقریر جو انہوں نے شہداءکی یاد میں جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں کی کا ایک جملہ مجھے بہت پسند آیا کہ پاکستانی دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا جانتے ہیں اور یہ کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہم کسی بھی بیرونی قوت کو سی پیک منصوبے کی راہ میں رخنہ نہیں ڈالنے دینگے ۔ کسی بھی بیرونی قوت کے الفاظ نے بہت تقویت دی اس لئے کہ بچپن سے لیکر اب تک یہی سنتے چلے آئے تھے کہ اسلام آباد میں اگر کسی نائب قاصد کو بھرتی کرنا ہوتو اس کی منظوری پہلے واشنگٹن سرکار سے لینا پڑتی ہے مگر اب یقین ہوا چلا کہ ہم مکمل طورپر آزادی کی منزل کے قریب ہیں اس میں ہم اپنے ان دوستوں کے بھی شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ہمارے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر ساتھ دیا اور ہمارے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھا۔ آرمی چیف کی تقریر نے جہاں دلوں کو گرمایا وہاں پارلیمنٹ ہاﺅس کے اندر برتی جانے والی سرد مہری نے کئی سوالات اٹھا دئیے ۔ گزشتہ روز اسمبلی کا اجلاس بھی تھا جس میں جماعت اسلامی کی جانب سے بنگلہ دیش میں پاکستان کی محبت میں پھانسی کے پھندوں کو چومنے والے اور بغیر کسی الزامات کے بے گناہ تختہ دار پر جھولنے والے اور مقام شہادت پر سرفراز ہونے والے بزرگ رہنماﺅں کے حوالے سے ایک قرارداد پیش کی جانی تھی اور دوسری قرارداد شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کے حوالے سے تھی مگر ستم بالائے ستم کہ یہ دونوں قراردادیں محض اس لئے پاس نہ کرائی جاسکیں کہ کورم پورا نہ تھا کیا المیہ ہے کہ ایک طرف پاکستان کی محبت میں لوگ پھانسی کے پھندوں کو چومتے ہوئے اپنے گلوں میں ڈال رہے ہیں اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں موجود اراکین کے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ ایک قرارداد ہی ان کے حق میں پاس کرسکیں۔